آسٹریلیا میں ’سرکاری ڈیوائسز‘ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد

آسٹریلیا کے اٹارنی جنرل مارک ڈریفس کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مشورے کے بعد کیا گیا ہے اور ’جتنی جلدی ممکن ہوا‘ اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

لندن: ٹک ٹاک کے آفس میں ملازم فون کا استعمال کرتے ہوئے (اے ایف پی)

آسٹریلیا نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ وہ سرکاری ڈیوائسز پر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرے گا جس سے وہ قومی سلامتی کے خدشات کی وجہ سے چینی ملکیت والی ایپ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے والے مغربی ممالک کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

اٹارنی جنرل مارک ڈریفس کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مشورے کے بعد کیا گیا ہے اور ’جتنی جلدی ممکن ہوا‘ اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

آسٹریلیا خفیہ فائیو آئیز سکیورٹی الائنس کا آخری رکن ہے جس نے اپنے اتحادیوں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی ہے۔

فرانس، نیدرلینڈز اور یورپی کمیشن نے بھی اسی طرح کے اقدامات کیے ہیں۔

ڈریفس نے کہا کہ حکومت ’کیس بہ کیس کی بنیاد پر‘ کچھ استثنیٰ کی منظوری دے گی جس میں ’مناسب حفاظتی اقدامات‘ کیے جائیں گے۔

سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک ارب سے زائد عالمی صارفین کے زیر استعمال اس ایپ کو چینی حکومت کے ساتھ شیئر کیے جانے والے ڈیٹا کو جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

سروے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ سات ملین آسٹریلیائی اس ایپ کا استعمال کرتے ہیں جو مجموعی آبادی کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ ہے۔

اٹارنی جنرل کے محکمے نے ایک سکیورٹی نوٹس میں کہا ہے کہ ٹک ٹاک صارفین کے ڈیٹا کے وسیع پیمانے پر جمع ہونے کی وجہ سے 'سکیورٹی اور پرائیویسی کے لیے اہم خطرات' پیدا کر رہا ہے۔

آسٹریلین سٹریٹیجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار فرگوس ریان کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کو سرکاری ڈیوائسز سے ہٹانا 'کوئی مشکل فیصلہ‘ نہیں ہے۔

ریان نے اے ایف پی کو بتایا، ’یہ سالوں سے واضح ہے کہ ٹک ٹاک صارفین کا ڈیٹا چین میں قابل رسائی ہے۔

اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے سرکاری فون پر ایپ کے استعمال پر پابندی لگانا ایک دانش مندانہ فیصلہ ہے۔

ریان نے کہا کہ بیجنگ ممکنہ طور پر ’اسے چینی کمپنی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک اور امتیازی سلوک کے طور پر دیکھے گا۔ 

سکیورٹی خدشات کی بنیاد 2017 کے ایک چینی قانون سے ملتی ہے جس کے تحت مقامی کمپنیوں کو ذاتی ڈیٹا ریاست کے حوالے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اگر وہ قومی سلامتی سے متعلق ہو۔ 

بیجنگ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان اصلاحات سے عام صارفین کو خطرہ لاحق ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے مارچ میں کہا تھا کہ چین نے کبھی بھی کمپنیوں یا افراد کو کسی دوسرے ملک میں موجود ڈیٹا جمع کرنے یا فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس طرح سے جو مقامی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

زینوفوبیا کی جڑیں

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں کی جڑیں غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی ہیں جبکہ اس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ چینی حکومت کی ملکیت نہیں ہے اور نہ وہ اسے چلاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمپنی کے آسٹریلوی ترجمان لی ہنٹر نے کہا کہ وہ چینی حکومت کو کبھی بھی ڈیٹا نہیں دیں گے۔

انہوں نے آسٹریلیا کے چینل سیون سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت محنت نہیں کر رہا ہے کہ ایسا کبھی ممکن نہ ہو۔

تاہم کمپنی نے نومبر میں اعتراف کیا تھا کہ چین میں کچھ ملازمین یورپی صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور دسمبر میں اس نے کہا تھا کہ ملازمین نے اس ڈیٹا کو صحافیوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا تھا۔

ایپ مختصر، ہلکی پھلکی ویڈیوز شیئر کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور حالیہ برسوں میں اس کی سوشل میڈیا پر مقبولیت میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔

بہت سے سرکاری محکمے ابتدائی طور پر ٹک ٹاک کو ایک نوجوان آبادی کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے ایک طریقے کے طور پر استعمال کرنے کے خواہاں تھے جس تک روایتی میڈیا چینلز کے ذریعے پہنچنا مشکل ہے۔

نیوزی لینڈ نے مارچ میں سرکاری ڈیوائسز پر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خطرات نیوزی لینڈ کے موجودہ پارلیمانی ماحول میں قابل قبول نہیں ہیں۔

رواں سال کے اوائل میں آسٹریلوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سیاست دانوں کے دفاتر سے چینی ساختہ سی سی ٹی وی کیمرے ہٹا دے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی