’ہندوستانیوں کے دماغوں کا خناس‘

پاکستانیوں کوجتنا وقت صحیح سمت میں قدم اٹھانے کے لیے خود کوجھنجھوڑنے پر لگے گا، اس سے دوگنا وقت ہندوستانیوں کے دماغوں سے خناس نکالنے میں صرف ہوگا۔

پچھلے بارہ دن میں عالمی میڈیا نے دنیا بھر کو کشمیر میں بھارت کا وہ چہرہ دکھایا ہے جسے دلی سرکار نے اپنی معاشی کامیابیوں، بالی وڈ کی سحر انگیزیوں اور شائنگ انڈیا کے کھوکھلے دعووں میں کہیں چھپا رکھا تھا(اے ایف پی)

سلگتے چناروں کی تپش بالآخر عالمی برادری کے پیروں تک پہنچ ہی گئی۔ 70 برس سے کشمیر کے جس پریشر کُکر کو بھارت سرکار نے روکا ہوا تھا وہ مودی سرکار کے ایک غلط فیصلے سے پھٹ گیا۔

جس مسئلے کو بھارت دو طرفہ ہانڈی میں ابالے جا رہا تھا وہ ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹ گئی۔ آرٹیکل 370 کی جس کچی ڈور سے بھارت خود کشمیر سے1947 سے بندھا ہوا تھا وہ ڈور پانچ اگست کو اس نے اپنی بے وقوفی سے خود توڑ دی۔

اقوام متحدہ کے سرد خانے میں پڑا کشمیر نہ صرف زندہ ہوگیا بلکہ بھوت بن کر ایک بار پھر بھارت سے چمٹ گیا ہے۔

پچھلے 12 دن میں عالمی میڈیا نے دنیا بھر کو کشمیر میں بھارت کا وہ چہرہ دکھایا ہے جسے دلی سرکار نے اپنی معاشی کامیابیوں، بالی وڈ کی سحر انگیزیوں اور شائنگ انڈیا کے کھوکھلے دعوؤں میں کہیں چھپا رکھا تھا۔

اسی لاکھ کشمیری شہریوں پہ مسلط تقریباً آٹھ لاکھ بھارتی فوج کی چیرہ دستیوں کو ہی دنیا کے سامنے نہیں لایا گیا بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے چہرے سے نقاب بھی اتار پھینکا گیا۔

بی بی سی اور الجزیرہ کی میراتھن کوریج کو بھارت نے پہلے جھوٹا اور حقائق سے دور قرار دے کر دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی تو وہ الٹا اسی کے منہ پہ پڑگئی۔ بی بی سی نہ صرف اپنی خبروں پہ قائم رہا بلکہ الٹا نئی دلی کو ہی چیلنج کر دیا کہ واقعات کی عکاسی میں کوئی بھی جھوٹ ثابت کرکے دکھایا جائے جس پہ بھارت کو پیچھے ہٹ کر اعتراف کرنا پڑا کہ کرفیو کی زنجیروں اور ناکوں کی پابندیوں کو توڑ کر کشمیری باہر نکلے۔

اس کے بعد امریکی ٹیلی ویژن سی این این اور فرانسیسی سرکاری میڈیا نے بھی بھارت کے چہرے سے نقاب ہٹانا شروع کیا اور دنیا کو اس سچ سے آگاہ کرنے کی ذمے داری اٹھائی جو وہ شاید 70 سال سے اپنی مجبوریوں سے نہ دکھا پائے تھے۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا کے چند حصوں نے بھی چھپ چھپاتے بھارتی فوج کی شیلنگ اور پیلٹ گنز سے زخمیوں کی کوریج شروع کر دی۔ سری نگر کے ہسپتالوں میں موجود بچوں، نوجوانوں کی حالت دیکھ کر میڈیا یہ کہنے پہ مجبور ہوگیا یہاں ’آل از ویل‘  نہیں بلکہ ’آل از ہیل‘ ہے۔ بھارتی صحافیوں کے وفد نے جب نئی دلی کے پریس کلب میں پریس کانفرنس کے ذریعے تصویری شواہد اور ویڈیو کلپس دکھانے کی کوشش کی تو انہیں روک دیا گیا۔

بھارتی حکومت نے سب سے پہلے این ڈی ٹی وی کی آواز دبانے کی کوشش کی۔ سری نگر رئیلٹی چیک پروگرام کے ذریعے جب این ڈی ٹی وی نے بھارتی پیاز کے چھلکوں کی پرتیں اتاریں تو مودی سرکار کی آنکھوں میں مرچیں لگ گئیں۔ این ڈی ٹی وی کے مالک پرانوئے روئے اور ان کی اہلیہ کو ممبئی ائیرپورٹ سے حراست میں لیا اور کرپشن کے الزامات لگا کر نظر بند کر دیا۔

پاکستان کی بات کی جائے تو حکومت نے جارحانہ سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی اور چین کو اعتماد میں لے کر معاملہ سلامتی کونسل کے دروازے تک پہنچا دیا۔ کہنے کو ہی سہی سلامتی کونسل تقریباً پونے دو گھنٹے تک مشاورتی اجلاس کے نام پہ سر جوڑ کر بیٹھی اور معاملہ دو طرفہ سے ہوتا ہوا بین الاقوامی سطح تک تو پہنچا۔

اس سے پہلے بھارت نے سلامتی کونسل کے اجلاس رکوانے کی سر توڑ کوششیں کیں جب کوئی چال نہ چلی تو بھارتی وزیر دفاع نے بھنا کر جوہری ہتھیاروں کو پہلے استعمال نہ کرنے کی اپنی ہی پالیسی بدلنے کی گیدڑ بھبکی دے ڈالی۔

تاہم الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ چالوں نے کام دکھایا۔ بھارت کے اوپر وہی محاورہ صادق آگیا کہ آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔ کشمیر کا مسئلہ اب عالمی ریڈار پہ آچکا ہے۔ بھارتی دھمکی نے سونے پہ سہاگا یہ کیا کہ پوری دنیا کہ بتا دیا یہ خطہ نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔

مودی حکومت کے پیچھے پورا بھارتی میڈیا آنکھیں بند کیے چلے جا رہا ہے، جن کی ریٹنگ پاکستان کے زہریلے پروپیگنڈا پر چلتی ہو وہ عوام کو اصل مسائل سے آگاہ کر کے کیوں اپنی روزی روٹی پہ لات ماریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی تعصب بھارتی فلم انڈسٹری کو بھی ڈس رہا ہے۔ پاکستان مخالف پروپیگنڈا فلموں سے عوام کے دل و دماغ میں جنگی جنون بھرا جا رہا ہے۔ برداشت، تحمل اور رواداری جیسی روایتیں بھارتی معاشرے میں دم توڑنے لگی ہیں جن کے ذمے دار یہ نام نہاد سپر سٹار ہیں جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ امن اور محبت کی زبان بولتے ہیں۔ وہی نفرت اور تعصب کا ٹوکرا سر پہ اٹھائے باہر نکل آئے ہیں۔

بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کے امریکہ میں پاکستانی نژاد لڑکی کے سوال پر انتہائی نامناسب اور آداب محفل سے عاری ردعمل نے سوشل میڈیا پہ وبال مچا رکھا ہے۔ یہ رویہ اسی ذہنیت کا عکاس ہے جس نے عمومی طور پہ ہندوستانیوں کے ذہنوں میں احساس برتری بھرا ہوا ہے۔ احساس برتری اس بات کا کہ ہم بڑا ملک ہیں، ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں، ہم معاشی سپر پاور ہیں، ہم علاقائی طاقت ہیں اور عالمی طاقت بننے کی راہ پر ہیں۔

بدقسمتی سے اس سوچ کو پروان چڑھانے میں شاید ہم پاکستانیوں کا بھی کردار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اسی کی دہائی کے وسط تک پاکستانیوں کی فی کس آمدنی ہندوستانیوں سے 60 فیصد زیادہ تھی، 65 اور71 کی جنگوں کے باوجود ہمارا معاشی ڈھانچہ بظاہر اپنے پیروں پہ کھڑا تھا۔

پاکستانی شہری ہندوستانیوں کی نسبت دنیا میں زیادہ خوشحال جانے جاتے تھے۔ بالی وڈ کے باوجود اس وقت کے بمبئی کا کراچی سے کوئی موازنہ نہیں تھا۔ ہندوستانی شہری پاکستانیوں کو رشک سے دیکھتے تھے، لیکن پھر ہمیں بھی ریورس گیئر لگ گیا۔ ہم نے تنزلی کا سفر شروع کردیا۔ ہم معاشی میدان میں گراوٹ کا شکار ہونے لگے، تعلیمی اور سائنسی میدان میں ہم پستیوں کی طرف جانے لگے، شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ہمارا گراف نیچے جانے لگا۔

دوسری جانب، ہندوستان نے ان تمام شعبوں میں ترقی کا سفر شروع کیا اور حیرت انگیز طور پر صرف 30 سال میں پاکستان سے آگے نکل گیا۔ رہی سہی کسر ہمارے یہاں انتہا پسندی، دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی خواہشات نے پوری کر دی۔ یوں اکثر ہندوستانیوں کے دل ودماغ میں اس احساس برتری نے پہلے فخر پیدا کیا اب یہ خناس بن چکا ہے۔ پریانکا بھی اسی خناس میں مبتلا ہیں۔

اس احساس برتری کی ایک اور مثال کشمیر کا حالیہ معاملہ بھی ہے۔ ہندوستان میں بائیں بازو کی جماعتیں احتجاج پہ نکلی ہوئی ہیں۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ کوئی بھی کشمیر میں اصل صورت حال پر بات نہیں کر رہا بلکہ مظاہرے اس بات پہ ہو رہے ہیں کہ جو قدم اٹھایا گیا وہ غیر آئینی اورغیر قانونی طریقے سے اٹھایا گیا۔

کشمیریوں کے سارے حقوق آرٹیکل 370 سے پورے ہوں گے، یعنی انہیں فکر آئین کی پاسداری کی تو ہے لیکن بنیادی مسئلے پر بات کرنے میں انہیں بھی دلچسپی نہیں، تو اجتماعی احساس برتری کو ختم کر نے کے لیے ہمیں بھی اجتماعی کوشش کرنا ہوگی۔

تمام شعبوں میں آگے بڑھنا تو دور کی بات ہے پہلے صحیح سمت میں قدم اٹھانے کے لیے خود کوجھنجھوڑنا ہوگا۔ اس بات کو سمجھنے میں جتنا عرصہ لگے گا اس سے دوگنا وقت ہندوستانیوں کے دماغوں سے خناس نکالنے میں صرف ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر