قوال فراز امجد کو ’متنازع‘ گانے پر عبوری ضمانت مل گئی

قوال پر الزام ہے کہ انہوں نے محفل کے دوران بغیر اجازت ایک سیاسی نوعیت کا نغمہ گایا، جس سے عوامی مجمعے میں جوش اور اشتعال پیدا ہوا۔

فراز امجد خان تین جنوری 2026 کو لاہور میں پرفارم کرتے ہوئے (فراز امجد فیس بک پیج)

لاہور کی ایک عدالت نے شالامار باغ میں متنازع گانا گانے کے مقدمے میں نامزد قوال فراز امجد کو آج عبوری قبل از گرفتاری ضمانت دے دی ہے۔

واضح رہے کہ فراز امجد کے خلاف تھانہ باغبانپورہ لاہور میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات شامل ہیں۔

شالامار باغ میں تین جنوری 2025 کو سرکاری سرپرستی میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران ’جیل اڈیالہ قیدی 804 ہووے‘ کے بول پر مشتمل یہ گانا گانے کے بعد شالامار باغ کے انچارج ضمیر الحسن کی مدعیت میں تھانہ باغبانپورہ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

ایڈیشنل سیشن جج لاہور شازیب ڈار نے فراز امجد کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ان کے سامنے درخواست آئی ہے کہ اگر فراز امجد  کو گرفتار کیا گیا تو ان کی شہرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

’عدالت نے کیس کے میرٹس پر فیصلہ کیے بغیر فراز امجد کو 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت دے دی ہے۔‘

عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ فراز امجد کو گرفتار نہ کیا جائے اور انہیں تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس اور مدعی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ 

کیس کی آئندہ سماعت 13 جنوری 2026 کو ہو گی۔

ایف آئی آر میں کیا مؤقف اپنایا گیا؟

ایف آئی آر کے مطابق مذکورہ تقریب ایک ثقافتی نوعیت کا پروگرام تھا، جہاں کسی قسم کی سیاسی نعرے بازی یا اشتعال انگیز مواد کی اجازت نہیں تھی۔

درخواست میں کہا گیا کہ تین جنوری 2026 کو بغیر اجازت ایک سیاسی نوعیت کا نغمہ گایا گیا، جس سے عوامی مجمعے میں جوش اور اشتعال پیدا ہوا اور سرکاری ادارے کی غیرجانبداری اور وقار کو نقصان پہنچا۔

درخواست میں یہ بھی لکھا گیا کہ یہ عمل عوام کو اشتعال دلانے، نظم و ضبط میں خلل ڈالنے اور ریاستی ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش کے مترادف ہے۔

قوال فراز امجد کا مؤقف، ’میں نے دباؤ میں گانا گایا‘

قوال فراز امجد قوال نے ایک ویڈیو پیغام میں الزامات کی تردید کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ محض ایک فنکار ہیں اور انہیں تقریب کے منتظمین کی جانب سے قوالیوں کی ایک فہرست فراہم کی گئی تھی، جس کے مطابق وہ پرفارم کر رہے تھے۔ فراز امجد کے مطابق دورانِ محفل ایک نامعلوم شخص سٹیج پر آیا اور انہیں بار بار دھمکیاں دیں کہ مخصوص گانا گایا جائے، ’ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں انہوں نے انکار کیا جس کے ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں، تاہم مجمع، ماحول اور امن و امان کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات بگڑنے سے بچانے کے لیے وہ گانا گانے پر مجبور ہوئے۔

’ملک کے خلاف جانے کا سوال ہی نہیں‘

فراز امجد قوال نے اس بات کی واضح تردید کی کہ انہوں نے کسی قسم کی بغاوت یا ریاست مخالف اقدام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میرا وطن، میری پہچان اور میرا فخر ہے۔ ’میں ایک محب وطن فنکار ہوں اور کبھی اپنے ملک کے خلاف نہیں جا سکتا۔‘

انہوں نے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے اپیل کی کہ ان کا مؤقف اور ویڈیو شواہد دیکھے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

والڈ سٹی اتھارٹی کا ردعمل

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر میڈیا اینڈ مارکیٹنگ اویس رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ گانا عوامی مجمعے کی فرمائش پر گایا گیا، جو ادارے کے ایس او پیز کے خلاف تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک متنازع گانا تھا اور اس وقت اس واقعے پر ڈیپارٹمنٹ کے اندر انکوائری جاری ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر محکمے کے تین افسران کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔

گانے کی متنازع تاریخ

’نک دا کوکا‘ کے نام سے معروف یہ گانا ابتدا میں پاکستانی گلوکار محمد اشرف المعروف ملکو نے گایا تھا، جسے یوٹیوب پر 12 کروڑ سے زائد ویوز ملے۔ بعدازاں ملکو کو جون 2024 میں لندن جانے والی پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا۔

’نک دا کوکا‘ گانے میں اڈیالہ جیل اور قیدی 804 کے الفاظ کو سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے منسوب کیا جاتا ہے جو گذشتہ دو سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان