کشمیر میں جھڑپوں کے بعد دوبارہ سخت پابندیاں نافذ

بھارتی حکام اس سے قبل  گذشتہ دو ہفتوں کے دوران وادی میں کسی بھی قسم کے تشدد یا کشیدگی سے نہ صرف انکار کرتے رہیں ہیں بلکہ وہ یہاں امن کا دعویٰ بھی کر رہے تھے۔

بھارت نے پانچ اگست کو اچانک اپنے ہی آئین میں جموں و کشمیر سے الحاق کا قانونی معاہدہ ختم کر کے اس متنازع خطے میں نظام زندگی کو عملی طور پر مفلوج کر دیا تھا۔(اے ایف پی)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر میں لاک ڈاؤن کے دوران تازہ جھڑپوں میں کم از کم آٹھ افراد زخمی ہو گئے ہیں جس کے بعد دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے دو ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن اور مواصلات پر عائد پابندیوں میں بتدریج نرمی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بھارت کی سرکاری نیوز ایجنسی ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ نے حکومتی حکام کا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ سنیچر کو کرفیو میں نرمی کے دوران سری نگر کے معتدد مقامات پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد عوامی نقل و حمل پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

بھارتی حکام اس سے قبل  گذشتہ دو ہفتوں کے دوران وادی میں کسی بھی قسم کے تشدد یا کشیدگی سے نہ صرف انکار کرتے رہیں ہیں بلکہ وہ یہاں امن کا دعویٰ بھی کر رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جموں و کشمیر کی حکومت کے ترجمان روہت کانسال نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ سری نگر میں ہونے والی جھڑپوں میں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

ایک سینیئر بھارتی عہدیدار نے اتوار کی صبح اے ایف پی کو بتایا کہ کشیدگی کے شکار خطے میں ٹیلی فون ایکسچنجز شام تک بحال ہونا شروع ہو جائیں گی۔

حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ جموں سمیت کچھ علاقوں میں سکول پیر سے کھولنا شروع ہو جائیں گے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ہندو اکثریت والے جموں شہر میں بھی موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل ہیں اور مقامی افراد کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ بقول ان کے جعلی ویڈیوز یا پیغامات سوشل میڈیا پر پھیلانے سے باز رہیں۔

 ادھر پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور بھارتی حکومت نے سنیچر کو دعویٰ کیا ہے کہ بھاری فائرنگ کے تازہ تبادلے میں ان کا ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔

مودی سرکار کی جانب سے آئین میں تبدیلی کے اچانک فیصلے سے کشمیری عوام میں غم و غصے کی لہر ڈور گئی ہے اور لاک ڈاون کے باوجود گذشتہ کئی روز سے سری نگر سمیت کئی علاقوں میں احتجاج کی خبریں موصول ہو رہی ہیں جن میں ہزاروں مظاہریں شرکت کر رہے ہیں۔

بھارت نے پانچ اگست کو اچانک اپنے ہی آئین میں جموں و کشمیر سے الحاق کا قانونی معاہدہ ختم کر کے اس متنازع خطے میں نظام زندگی کو عملی طور پر مفلوج کر دیا تھا۔ اس فیصلے سے قبل ہی دہلی سے ہزاروں اضافی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کر دیا گیا تھا۔

بھارت کے اس اقدام سے مسلم اکثریت رکھنے والی ریاست جموں و کشمیر دو وفاقی خطوں میں تقسیم ہو گئی ہے اس کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں سے غیرمسلم باشندے یہاں آباد ہو سکتے ہیں۔

ہندو قوم پرست حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے پاکستان کو مشتعل کر دیا ہے جو بھارت کی طرح کشمیر کے ہمالیائی خطے کا دعویدار ہے۔ پاکستان اور چین، جو لداخ کو ’ون چائنہ پالیسی‘ کے تحت اپنا حصہ مانتا ہے، اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک لے گئے جہاں جمعے کو بند دروازوں کے پیچھے دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں نے اس حوالے سے مشاورت کی تھی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا