انڈیا: ’دو سال بل ادا کیے بغیر‘ ہوٹل میں رہنے والے شخص کی تلاش

پولیس کو یہ بھی پتہ چلا ہے مشتبہ شخص نے جعلی رسیدیں اور تین چیک دیے جنہیں کیش نہیں کروایا جا سکا۔

انڈیا، نئی دہلی میں روزیٹ ہوٹل ہاؤس ہوٹل کا ایک منظر (سکرین گریب روزیٹ ہوٹلز اینڈ ریسورٹس)

انڈین پولیس ایسے شخص کو تلاش کر رہی ہے جو مبینہ طور پر کوئی بل ادا کیے بغیر دارالحکومت نئی دہلی میں واقع فائیو سٹار ہوٹل میں تقریباً دو سال مقیم رہے۔

ہوٹل انتظامیہ کی طرف سے پولیس کے پاس درج کروائی گئی شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انکُش دتہ نامی مشتبہ شخص نے 30 مئی 2019 کو دہلی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع روزیٹ ہاؤس ہوٹل میں صرف ایک رات کے لیے کمرہ بک کروایا لیکن انہوں نے  22 جنوری 2021 تک اپنے قیام کو 603 راتوں تک بڑھا دیا۔

مذکورہ شخص نے ہوٹل کو 58 لاکھ انڈین روپے (55650 پاؤنڈ) کی ادائیگی کرنی ہے۔ ہوٹل انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ قیام کرنے والے شخص نے ہوٹل کے عملے کے ساتھ ملی بھگت کی جس نے بڑھتے ہوئے بل کو چھپانے میں ان کی مدد کی۔

ہوٹل کے فرنٹ آفس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پریم پرکاش سمیت ہوٹل کے کئی ملازمین کے خلاف سازش، جعلسازی اور دھوکہ دہی کی شکایت درج کروائی گئی ہے۔

ہوٹل انتظامیہ نے الزام لگایا کہ پرکاش بقایاجات کے کھاتوں اور بلوں کو جمع کے ذمہ دار تھے۔ یہ وہ معلومات ہیں جو انتظامیہ کو فراہم نہیں کی گئیں۔

ہوٹل کے قواعد کے مطابق کہ اگر کسی مہمان کے ذمے 50000 انڈین روپے ( 479 پاؤنڈ) سے زیادہ رقم واجب الادا ہے تو عملے کو ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے اعلیٰ انتظامیہ کو مطلع کرنا ہو گا۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ عملے نے اس اصول کی خلاف ورزی کی۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ پرکاش نے ریکارڈ میں جعلسازی کی۔ انہوں نے یومیہ رپورٹوں سے دتہ کا نام بھی ہٹا دیا جن میں ان کے ہوٹل کے بل کا ذکر تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہوٹل کی کو شبہ ہے کہ پرکاش نے سسٹم میں لاگ ان ہونے اور ریکارڈ تبدیل کرنے کے لیے اپنے کوائف کو استعمال کرتے ہوئے کم از کم 52 راتوں کے لیے صفر روپے چارج کیے۔

ہوٹل کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ دتہ کو ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں منتقل کیا گیا لیکن بل کی رقم کم ظاہر کرنے کے لیے ان کے ہوٹل میں قیام کی مدت 308 راتوں تک گھٹا کر دی گئی۔ پولیس کو یہ بھی پتہ چلا ہے مشتبہ شخص نے جعلی رسیدیں اور تین چیک دیے جنہیں کیش نہیں کروایا جا سکا۔

پولیس افسر نے مزید کہا کہ ’گیسٹ اور عملے نے بلوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے کئی طریقے استعمال کیے۔ ان پر ہوٹل کے 58 لاکھ روپے سے زائد رقم واجب الادا ہے۔ انہوں نے اندراج کو حذف کر دیا، جعلی رپورٹیں، جعلی چیک اور دستاویزات دیں اور ہوٹل کے الیکٹرانک سسٹم کا غلط استعمال کر کے دھوکہ دیا۔‘

قبل ازیں رواں سال ایک شخص کو خود کو مبینہ طور پر ابوظبی کے شاہی خاندان کا ملازم ظاہر کرنے اور ایک پرتعیش ہوٹل سے فرار ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ وہ بھاری بل ادا کیے بغیر مہینوں تک ہوٹل میں مقیم رہے۔

مذکورہ شخص کی شناخت محمد شریف کے نام سے ہوئی۔ وہ چار ماہ تک ہوٹل لیلہ پیلس میں قیام کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے۔ ان کے ذمے بلوں کی مد میں ہوٹل کے 23 لاکھ انڈین روپے (23022 پاؤنڈ) کی رقم واجب الادا تھی۔

انہیں 19 جنوری کو بنگلورو شہر سے گرفتار کر لیا گیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا