نائن زیرو: بدترین زوال کی ایک ترجمانی

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تسبیح کے دانوں کی طرح ٹوٹ کر بکھر جانے والی پارٹی متحدہ قومی موومنٹ کے ہیڈکوارٹر نائن زیرو کو ’عبرت کا نشان‘ بناکر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

23 اگست 2016 کو پاکستان رینجرز کی جانب سے نائن زیرو پر واقع ایم کیو ایم کے تمام دفاتر کو سیل کردینے کے بعد اب تک نہ تو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سیاسی طور پر مستحکم ہو پائی ہے اور نہ ہی اس کے سیاسی قلعےکی روشنیاں بحال ہوسکی ہیں۔(اے ایف پی)

22 اگست 2016 کو متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین نے ایک متنازع تقریر کی تھی۔ آج بھی 22 اگست تھا اور اسی غرض سے میں نائن زیرو کا دورہ کرنے گئی، تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ ان تین برسوں میں آخر کیا کچھ بدلا ہے؟ میری آنکھوں نے جو مناظر دیکھے وہ میں ہوبہو بیان کروں گی کیوں کہ تین سال بعد بھی ایم کیو ایم کے سابقہ ہیڈکواٹرز نائن زیرو پرپاکستان رینجرز کی انتہائی سخت سکیورٹی کی وجہ سے مجھے تصاویر لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب۔۔ چھین لے مجھ سے حافظہ میرا! یہ مصرع 22 اگست کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے بدترین زوال کی بہترین ترجمانی کرتا ہے کیونکہ تسبیح کے دانوں کی طرح ٹوٹ کر بکھر جانے والی اس پارٹی نے خصوصاً کراچی میں عروجِ مہر کے بعد صرف تاریک راتیں ہی دیکھی ہیں۔ ایسا ہی کچھ منظر 22 اگست 2019 کو نائن زیرو کا بھی ہے،  لیکن اس حوالے سے بات کرنے سے پہلے یہ یاد کرلیتے ہیں کہ آخر 22 اگست 2016 کو ہوا کیا تھا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لندن میں مقیم بانی ایم کیو ایم الطاف حسین، جو اپنے پرانے ساتھی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل سمیت پاکستان میں بھی کئی مقدمات میں مطلوب ہیں، نے 22 اگست 2016 کو کراچی پریس کلب میں ایک جلسے میں ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور تین نجی ٹی وی چینلز پر حملوں کا منصوبہ بنایا۔ اُن دنوں کراچی پریس کلب پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی بھوک ہڑتال بھی جاری تھی لیکن اس واقعے کے بعد جب ایم کیو ایم رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا تو اُس وقت کے ڈپٹی کنوینر فارق ستار سمیت پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے الطاف حسین اور ان کی پاکستان مخالف تقریر سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے میڈیا پر الطاف حسین کا بیان نشر کرنے پر پابندی لگا دی اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے برطانوی حکومت کو ریفرنس بھیجا گیا، جس میں بانی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

23 اگست 2016 کو پاکستان رینجرز کی جانب سے نائن زیرو پر واقع ایم کیو ایم کے تمام دفاتر کو سیل کردینے کے بعد اب تک نہ تو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سیاسی طور پر مستحکم ہو پائی ہے اور نہ ہی اس کے سیاسی قلعےکی روشنیاں بحال ہوسکی ہیں۔

آج جب میں نے نائن زیرو کا دورہ کرنے کا ارادہ کیا تو ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ ان تین برسوں میں جتنی تبدیلیاں آئی ہیں، ان تمام کو تصاویر میں قید کرکے ایک کہانی بیان کروں گی۔ لیکن جیسے ہی ایم کیو ایم کے سابقہ مرکزی دفتر پر میری گاڑی رکی تو تھوڑے ہی فاصلے پر دفتر کے باہر لگے ایک ڈیسک پر بیٹھے رینجرز کے دو جوان یک دم کھڑے ہوگئے۔ شاید میرے گلے میں لٹکا ہوا پریس کارڈ دیکھ کر حیران ہوگئے ہوں۔ میں نے ایم کیو ایم کے دفتر کے تین سیل شدہ داخلی دروازوں میں ایک کی تصویر لینا چاہی تو مجھے فوراً روک دیا گیا، یہ کہہ کر کہ ’یہاں کھڑے ہو کر دروازہ دیکھنے پر بھی پابندی ہے، بی بی آپ تصویر کیسے لے سکتی ہیں؟‘

ان باتوں کے دوران میں نے اُس مرکزی داخلی دروازے کا جائزہ لیا تو معلوم پڑا کہ تین سال قبل اس دروازے پر لگی بانی متحدہ کی تصویر ہٹا دی گئی ہے۔ اس کے دائیں جانب رکھی پتنگ یعنی ایم کیو ایم کا سیاسی نشان بھی ہٹا دیا گیا ہے اور لوہے کے سفید رنگ کے دروازے پر بنے اس جماعت کے سیاسی نشان پر پاکستان کے نقشے کے نیچے موجود پانچ ستاروں کو بری طرح کُھرچ دیا گیا ہے، جیسے نام و نشان مٹانے کی کوشش کی گئی ہو۔

اس افسوس ناک مرحلے کے بعد میں تصویر کھینچنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے ایم کیو ایم کے دفتر سے تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر خورشید بیگم سیکریٹریٹ گئی۔ جہاں نہ صرف رینجرز کی موبائل کھڑی تھی بلکہ سیکریٹریٹ کے باہر بنی چوکی میں رینجرز کے چند اہلکار بھی موجود تھے۔ میری یہاں موجودگی اور آج کے دن کی مناسبت سے نائن زیرو کی چند تصاویر لینے کی خواہش پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میڈیا کو تو یہاں آنے کی اجازت ہی نہیں اور کہیں آپ فون پر کچھ ریکارڈ تو نہیں کر رہیں۔ ایک پل کے لیے ایسا لگا جیسے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کھڑی ہوں۔ تھوڑی دیر تک تصویریں لینے کی اجازت لینے کی کوشش کرنے کے بعد، بحث کو بے کار جانتے ہوئے میں نے رینجرز کے اہلکاروں کو خدا حافظ کہا اور یہ تحریر لکھنے کا ارادہ کرلیا۔

واپسی کے سفر پر کچھ اور مشاہدات بھی کیے تو واقعی ایسا لگا، جیسے پاکستان مخالف سوچ رکھنے والوں کے لیے اسے عبرت کا نشان بنا کر غیرمعینہ مدت کے لیے محفوظ کردیا گیا ہو۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب کراچی کے علاقے عزیزآباد کی مشہورچورنگی ’مُکا چوک‘ جو اب لیاقت علی خان چوک کے نام سے جانا جاتا ہے، سے لے کر نائن زیرو اسٹریٹ تک تقریباً تین سو میٹر کا فاصلہ بنتا ہے اور جس وقت ایم کیو ایم کا دور اپنے عروج پر تھا، یہ تمام علاقہ غیر قانونی طور پر لوگوں کے داخلے کے لیے ممنوع قراردیا جاتا تھا۔

 نائن زیرو کی جانب آنے والی ہر گلی پر نہ صرف رکاوٹیں لگی ہوتی تھیں بلکہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کی نفری بھی موجود ہوتی تھی جو آپ کی اور آپ کے سامان کی تلاشی لیے بغیر اندر جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ میں یہ اچھی طرح جانتی ہوں کیونکہ میرا کالج اس علاقے میں واقع تھا اوراس اذیت بھرے عمل سے گزرنا میرا روز کا معمول تھا۔ آج یہ سڑک بھی کراچی کی ہر دوسری سڑک کی طرح آمد و رفت کے لیے کھلی ہے۔

سابقہ مکا چوک سے نائن زیرو کی طرف جانے کے لیے پہلے تین منٹ کا فاصلہ طے کرکے جناح گراؤنڈ کی جانب سفر کرنا ہوتا ہے، پھر بائیں جانب مڑ کر چھٹی گلی میں داخل ہوتے ہی نائن زیرو اسٹریٹ شروع ہوجاتی ہے۔ بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جناح گراؤںڈ میں واقع متحدہ قومی موومنٹ کا یادگارِ شہدا جو سفید ماربل سے بنی عمارت، حسین فواروں اور اپنی مختلف رنگ کی روشنیوں کی وجہ سے جانا جاتا تھا، آج وہ بھی ویران ہے اور تالاب سوکھا پڑا ہے۔

یہ منظر اگلے کئی برس تک شاید بدلنے والا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے نائن زیرو کو ’عبرت کا نشان‘ بناکر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ