ایجنسیاں میری اہلیہ اور بچوں کی نگرانی کر رہی ہیں: جسٹس فائز عیسیٰ

جسٹس عیسیٰ کے مطابق ان کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے موجودہ ارکان کی جگہ فل کورٹ سنے۔

(بشکریہ: سپریم کورٹ آف پاکستان ویب سائٹ)

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’پاکستان کا انٹیلی جنس نظام ان کی اہلیہ اور بچوں کی غیر قانونی طور پر نگرانی کر رہا ہے۔‘

سوموار کو جمع کروائی گئی اس پیٹیشن میں جسٹس قاضی فائز نے صدر پاکستان کو خط لکھنے کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنس کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے اور استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے موجودہ ارکان کی جگہ کوئی اور سنے کیونکہ کونسل کے چیئرمین اور ارکان کا ان کے خلاف تعصب ظاہر ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے موجودہ چئیرمین چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ جبکہ اراکین میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید*، سندھ اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔

پٹیشن، جس کی ایک کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، میں جسٹس فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ان کو اور ان کی اہلیہ اور بچوں کو تکلیف پہنچائی جا رہی ہے، اور ایسا اعلی حکومتی عہدیداروں کی ہدایت پر ہو رہا ہے اور وزیرِ اعظم نے ان کی 36 سال سے واحد اہلیہ اور دو بالغ بچوں کواس معاملے میں گھسیٹا ہے۔

انہوں نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ایگزیکٹو کا منصوبہ عدلیہ کی آزادی کو تباہ کرنے کا ہے اور حکومت کا پیمرا پر بالواسطہ اور بلاواسطہ کنٹرول ہے۔

جسٹس عیسیٰ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے یہ مسائل صرف اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے نہیں اٹھائے بلکہ اس لیے بھی کیونکہ ایگزیکٹو مذموم مقصد کے تحت عدلیہ کی آئینی آزادی کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 

اپنی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے درخواست میں شکوہ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کی اور ان کے خاندان کی کردار کشی پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

پیٹیشن میں لکھا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بار بار اپنی کردار کشی کی شکایت کی مگر کوئی جواب نہیں ملا جس یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ ان کی کردار کشی کی اجازت اعلیٰ حکومتی سطح نے دی ہے۔

جسٹس عیسیٰ کے خلاف دوسرے ریفرنس کو 19 اگست 2019 کو سپریم جوڈیشل نے خارج کیا تھا۔ مگر جسٹس عیسیٰ کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اس حکم نامے میں ان پر تنقید کی گئی ہے۔ جسٹس عیسیٰ نے درخواست میں کہا کہ ریفرنس کے خارج ہونے کی انہیں بڑی قیمت ادا کرنا پڑی ہے کیونکہ تنقیدی آردڑ انہیں بغیر سنے جاری کیا گیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کیوں دائر کیے گئے؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دو ریفرنسز دائر کیے گئے تھے جن میں سے ایک سپریم جوڈیشل کونسل نے خارج کر دیا ہے جبکہ ایک ابھی زیر سماعت ہے۔

پہلا ریفرنس صدر پاکستان نے وزیر اعظم پاکستان کے مشورے پر سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا تھا جس میں کہا گیا کہ کیونکہ جسٹس عیسیٰ نے اپنی دولت کے گوشواروں میں اپنی اہلیہ اور بچوں کی جائیداد ظاہر نہیں کی اس لیے انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔

دوسرا ریفرنس، جسے سپریم جوڈیشل کونسل نے خارج کر دیا ہے، پہلے ریفرنس کے دائر ہونے کے بعد جسٹس عیسیٰ کی جانب سے صدر پاکستان کو لکھے گئے خط کے حوالے سے تھا جس میں انہوں نے صدر پاکستان سے ریفرنس کی نقل طلب کی تھی اور ساتھ ساتھ الزامات کا جواب دیا بھی تھا۔ اس دوسرے ریفرنس میں صدر پاکستان کو خط لکھنے اور میڈیا کو اس کے مندرجات مبینہ طور پر افشا کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

*اپ ڈیٹ: جسٹس شیخ عظمت سعید 27 اگست کو ریٹائر ہو چکے ہیں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان