ڈنمارک کے جزائر پر 100 وہیل مچھلیوں کا قتل عام

فِن پائلٹ وہیل نسل کی 94 جوان مچھلیوں، ان کے چار بچوں اور پانچ حاملہ مچھلیوں کو ویسٹمنا شہر کے ساحل پر لا کر 12 منٹ کے اندر بے رحمی سے کاٹ کر ہلاک کر دیا گیا۔

یہ روایتی شکار اس وقت سے ہو رہا ہے جب ہزاروں سال قبل ناروے کے باشندوں نے پہلی بار ان جزائر کو آباد کیا تھا(سی شیفرڈ) 

شمالی بحر اوقیانوس کے جرائر فیرو میں پانچ گھنٹوں پر مشتمل شکار کے دوران تقریباً 100 وہیل مچھلیوں کو بے دردی سے ہلاک کر دیا گیا۔

ڈنمارک کے ان خود مختیار جرائز پر فِن پائلٹ وہیل نسل کی 94 جوان مچھلیوں، ان کے چار بچوں اور پانچ حاملہ مچھلیوں کو ویسٹمنا شہر کے ساحل پر لا کر 12 منٹ کے اندر بے رحمی سے کاٹ کر ہلاک کیا گیا۔

آبی مخلوق کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سی شیفرڈ‘، جن کے پاس اس قتل عام کے دستاویزی ثبوت ہیں، کے مطابق وہیل مچھلیوں کے اس شکار کو ’دی گرنڈ‘ کہا جاتا ہے جس کے دوران پانچ گھنٹوں تک کشتوں میں ان مچھلیوں کو ہراساں اور ان کا تعاقب کر ساحل تک لایا جاتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے: ’یہ قتل عام تقریباً 12 منٹ کے دوران ہوا، اس دوران تمام عمر کی تھکی اور گھبرائی ہوئی پائلٹ وہیلز کو ان کے خاندانوں کے سامنے اس وقت تک اندھا دھند قتل کیا گیا جب تک ویسٹمنا کے ساحل کی ریت ان کے خون سرخ نہیں ہو گئی۔‘

چیریٹی نے اپنے انسٹاگرام پیج پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں دکھایا کہ مردہ وہیلز کے پیٹ میں کئی بچے موجود تھے، جو اس دنیا میں آنے سے پہلے مار دیے گئے۔ تصاویر میں ان مردہ وہیلز کی لاشوں اور ان کے عضا کو دوبارہ سمندر میں پھنکتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

یہ روایتی شکار اس وقت سے ہو رہا ہے جب ہزاروں سال قبل ناروے کے باشندوں نے پہلی بار ان جزائر کو آباد کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’سی شیفرڈ‘ نے کروز شپ کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر سال 850 کے قریب پائلٹ وہیلز اور ڈالفن مچھلیوں کے قتل کے خلاف عوامی طور پر اپنی آواز اٹھائیں۔

تنظیم کے بانی کیپٹن پال واٹسن اور چیف آپریٹنگ آفیسر روب ریڈ نے کہا یہ روایتی شکار فیرو جزائر کے اطراف کے 26 نامزد قتل گاہوں میں سے کسی ایک پر کبھی بھی ہوسکتا ہے۔ شکار کے موسم، مخصوص کوٹے اور موثر ضابطے کی عدم موجودگی اور پائلٹ وہیلز کے آلودہ گوشت کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔

’ان مچھلیوں کے ہر رکن [پائلٹ وہیل اور ڈولفن] حاملہ ماؤں، ان کے پیٹ میں موجود بچوں اور کمسنوں سمیت ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ کسی کو بھی نہیں بخشا جاتا۔‘

سی شیفرڈ کے مطابق ویسٹمنا میں یہ رواں سال 11واں شکار ہے۔ 2019 میں اب تک 600 سے زیادہ پائلٹ وہیلز کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

گذشتہ سال ستمبر میں چیریٹی نے وہیلز کا شکار نہ کرنے کے بدلے فیری جزائر کو مسلسل دس سالوں تک دس لاکھ یوروز کی پیشکش کی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا۔

لمبی فِن والی ان پائلٹ وہیلز کے اعداد و شمار کی کمی کی وجہ سے ان کو خطرے سے دوچار انواع میں شامل نہیں کیا گیا۔ آئی یو سی این میں اس کی حیثیت کو ’ڈیٹا کی کمی‘ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ان کی تعداد دس لاکھ سے کم ہے۔

    

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ