امرتا کور سے امرتا پریتم تک

 امرتا کور کی شادی بہت کم عمری میں پریتم سنگھ سے ہو گئی تھی۔ اس کے بعد تاعمر انہوں نے اپنے نام کے آگے کور کی جگہ پریتم لگا لیا۔

31 اگست، 1919 میں گجرانوالہ کی سرزمین پر امرتا کور نامی پہلی اور اکلوتی اولاد نے راج بی بی اور کرتار سنگھ کے یہاں قدم رکھا۔ (گوگل ڈوڈل)

میرا ماننا ہے کہ امرتا پریتم کو صرف ماضی میں نہیں رہنا بلکہ کتابوں سے نکل کر مستقبل بھی بننا ہے۔ ایسی ہستی آج کے دور میں ہونے والی ڈھیروں تحریکوں اور جوان ذہنوں کی نفسا نفسی کا جواب ہے۔ امرتا پریتم اکیسویں صدی کا ان جانا خواب اور پچھلی صدی کا انقلاب ہیں۔ 
یہاں میں ضروری سمجھتی ہوں کہ امرتا پریتم جیسی لکھاری جنہیں یوں تو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہونا چاہئیے، ان کا سرسری سا تعارف کروا دوں۔ دراصل یہ محتاجی اس لیے ہے کیوں کہ آج کل لوگ ہیری پوٹر کو تو رٹ بیٹھے ہیں لیکن مادری  زبانوں کے شہنشاہوں کا ذکر بس فیس بک کی حد تک، اور وہ بھی غلط اقوال میں کرتے ہیں۔
تقسیم ہند سے پہلے والے پنجاب چلیے اور ملتے ہیں ’اج آکھاں وارث شاہ نوں‘ والی امرتا سے!
31 اگست، 1919 میں گجرانوالہ کی سرزمین پر امرتا کور نامی پہلی اور اکلوتی اولاد نے راج بی بی اور کرتار سنگھ کے یہاں قدم رکھا۔ والدہ استانی اور والد صاحب بنیادی طور پر شاعر تھے لیکن پیشے کی مناسبت سے وہ بھی استاد تھے۔

امرتا پریتم اپنی کسی ایک نظم یا افسانے سے نہیں سمجھی جا سکتیں۔  انہیں سمجھنے کے لیے ایک آزاد ذہن اور باغی دل چاہئیے۔  ایک ایسا ذہن جو سطحی سوچ سے بالاتر ہو، دل میں ہوس نہ ہو لیکن بےباک ہو۔  پڑھنے والا ایسے مقام پر ہو جہاں وہ سماجی اور مذہبی شرائط سے آزاد ہو۔

 میرے ایک دوست کے مطابق امرتا پریتم کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کی ذات کسی بھی قسم کے عدم تحفّظ کا شکار نہ ہو۔

 امرتا کور کی شادی بہت کم عمری میں پریتم سنگھ سے ہو گئی تھی۔ اس کے بعد تاعمر انہوں نے اپنے نام کے آگے کور کی جگہ پریتم لگا لیا۔  جچتا بھی تھا، آخر امرتا پریتم کی زندگی پریت ہی پر تو مبنی تھی۔  

 اس کم عمری میں رشتہ جڑنے اور ختم ہونے کی چھوٹی سی داستان امرتا پریتم نے اپنی کتاب رسیدی ٹکٹ میں لکھی ہے۔  پرانے وقتوں میں اپنے شوہر سے الگ ہوجانا اور وہ بھی دوستانہ طریقے سے، ایک طرح کا سوال تھا۔  اس سوال کو بغیر امرتا پریتم اور پریتم سنگھ سے پوچھے، کئی لوگوں نے خود سو طرح جواب دینے کی کوشش کی۔  جب کہ بات بڑی معمولی مگر گہری تھی۔  امرتا پریتم اپنے شوہر کے ساتھ تو تھیں، پاس نہیں تھیں۔  ان کی نظر میں یہ پریتم سنگھ کی حق تلفی تھی۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہم 2019 میں ہیں لیکن آج بھی لوگوں کو میاں بیوی کا باہمی اتفاق سے الگ ہوجانا، یا پرامن طریقے سے طلاق لینا سمجھ نہیں آتا ہے، پھر وہ تو قدیم زمانہ تھا اور آگے امرتا پریتم تھیں، ذہنی سطح کے ساتویں درجے پر فائز!

 مجھے افسوس رہے گا کہ امرتا پریتم میری زندگی میں بہت دیر سے داخل ہوئیں۔

اردو ادب سے شغف شاید میرے خون میں ہے کیوں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں اسکول کالج کے دور میں ہی منٹو کے افسانے بھائی کے شیلف پر، اور عصمت چغتائی کی لحاف اماں کے سرہانے پڑی مل جایا کرتی تھی۔ ان تمام باتوں کے باوجود امرتا پریتم سے میری پہلی ملاقات سرسری تھی کیوں کہ پنجابی میں لکھی گئی نظم ’اج آکھاں وارث شاہ نوں‘ مجھے کون سمجھاتا بھلا؟ 

 پھر 2005 میں بھارتی فلم پنجر ریلیز ہوئی۔ اس میں مرکزی کردار نبھانے والے دو اداکار تھے، ارمیلا مٹونڈکر اور منوج باجپائی۔ فلم دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ امرتا پریتم کے مشہور زمانہ ناول پر مبنی ہے۔ اگر آپ نے فلم نہیں دیکھی تو دیکھیے، جذبات کا بہاو اتنا تیز ہے کہ سینے کا پنجرہ توڑ کر باہر آ جائے۔ بس وہ دن تھا اور میں امرتا پریتم کی ذات، زندگی اور قلم کی کھوجی بن گئی۔

 سرسری طور پر امرتا پریتم کو لوگ بس دو تین حوالوں سے جانتے ہیں جیسے اج آکھاں وارث شاہ نوں یا پھر’میں تینوں فیر ملاں گی‘ اور یا پھر ساحر لدھیانوی سے ان حد عشق۔  

 امرتا پریتم ان حوالوں سے کہیں آگے ہیں۔  یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امرتا پریتم نے اپنے درد کو اپنے مفاد میں اپنایا۔  اپنی ذات کو زندگی کی بھٹی میں جلایا تو کہیں جا کر تیرہواں سورج، ڈاکٹر دیو، اور پنجر جیسی کہانیاں ادب کے کینوس پر اتریں۔  

 برصغیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں ذہین عورت مردانگی کے لیے دھمکی سمجھی جاتی ہے لیکن اسی خطے میں ایک امرتا پریتم بھی تھیں جنہوں نے زندگی اپنی شرائط پر گزاری۔  امرتا پریتم نے کبھی بھی اپنے عشق کو کسی پردے میں قید کر کے نہیں رکھا، نہ اپنے جذبات کی عکاسی میں کوئی شرمندگی محسوس کی۔

امرتا پریتم نے اپنی عورت اور ادیب دونوں کو ساتھ ساتھ رکھا۔  چاہے وہ ساحر کی محبت میں لکھی گئی نظمیں ہوں یا امروز کی مستقل رفاقت، امرتا پریتم نے کبھی بھی خود سے بغاوت نہیں کی۔ وہ ایک ایسی لکھاری تھیں جو خود بھی کھلی کتاب بن کر زندگی جی گئیں۔

 جب میں آج کل کی خواتین ادیب کو دیکھتی ہوں یا پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں تو سوچ میں پڑ جاتی ہوں کہ خوف کیوں ہے ان کے الفاظ میں، کہانیوں میں، کرداروں میں؟  کہاں ہے وہ نڈر عورت جو بلا خوف و خطراپنے وجود اور اس کی آزادی کا پرچار کرے؟ کہاں ہے عورت جس کی پہچان کسی رشتے کی محتاج نہیں، کسی بندھن کی باندی نہیں؟

 امرتا پریتم اپنے اور آنے والے تمام وقتوں کے انسانوں کی مشعل ہیں، اور اس مشعل کو ساتھ لے کر چلنے والے کا نام ہے امروز۔  

 امروز امرتا پریتم کی زندگی کا وہ کردار ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ جب آپ کسی سے عشق کرتے ہیں تو اس کے عشق سمیت اس کو اپناتے ہیں۔  

 امرتا پریتم کے 100 سال کو انہی کے الفاظ میں یاد کروں گی ’جہاں بھی آزاد روح کی جھلک پڑے، سمجھ لینا وہی میرا گھر ہے۔‘

 کاش پھر کوئی امرتا پیدا ہو اور زمین کا وجود سیراب کردے!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ