خیبر پختونخوا میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال کی جائے، سول سوسائٹی تنظیموں کا مطالبہ

یونیسف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کم عمر کی شادیوں کا تناسب 21 فیصد ہے

سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندے پشاور پریس کلب میں اخباری کانفرنس میں کم عمری کی شادی کی مخالفت کی۔ فوٹو  پی آر

پشاور میں سول سوسائٹی کی تنظیموں نے خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا دیرینہ وعدہ پورا کرتے ہوئے فوری طور پر بچپن کی شادیوں کی روک تھام سے متعلق بل کو اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کرے۔

یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب سعودی عرب کی شوریٰ کونسل نے بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے لیے سعودی حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں اور شادیوں کی کم ازکم عمر کو 18سال کرنے کی تجویز دی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کم عمر کی شادیوں کا تناسب 21 فیصد ہے. جبکہ ہیلتھ اینڈ ڈیموگرافک سروے کہ حالیہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 15 فیصد لڑکیاں 18سال سے کم عمری میں ہی اپنی پہلی اولاد کو جنم دیتی ہیں جو بچپن میں شادیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

بلووینز کے کوآرڈینیٹر قمر نسیم، جو خیبر پختونخوا کے بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے اتحاد کے سربراہ بھی ہیں، پشاور پریس کلب میں ایک اخباری کانفرنس کے موقع پر کہا کہ سعودی شوریٰ کی تجویز نہایت اہم ہے اور اس سے مسلمان ملکوں میں بچپن کی شادیوں کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن ممالک میں اس حوالے سے قانون سازی نہیں کی گئی وہاں قانون سازی کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن کی شادیاں انفرادی اور انسانی حقوق کی بڑی خلاف ورزی ہیں۔ ”اسلام میں شادی کے لیے عاقل اور بالغ ہونا لازمی ہے لیکن بدقسمتی سے عوامی سطح پر صرف بلوغت کو شادی کے لیے کافی سمجھ لیا جاتا ہے جس سے گھریلو اور معاشرتی سطح پر مسائل جنم لیتے ہیں۔”

گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان کی چیئرپرسن اور بچوں کے حقوق کے لیے کوشاں ویلری خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شادی لڑکیوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما، معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا اور تمام صوبائی اور مرکزی حکومت کو اس حوالے سے فوری قانون سازی کرنی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ بچپن کی شادیوں کو کسی بھی قیمت پر نہ ہونے دیا جائے، اس کے لیے سخت سزائیں تجویز کی جائیں اور ان قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

پختونخوا سول سوسائٹی نیٹ ورک کی کوآرڈینیٹر تیمور کمال نے کہا کہ بچپن کی شادیاں نہ صرف معاشرے کے لیے تباہ کن ہے بلکہ اس کے معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ”یہ غربت میں اضافہ کا سبب ہے اور لڑکیوں کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔”

بچوں کے حقوق کے معروف رہنما عمران ٹکرنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف کہ حصول کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بچپن کی شادیوں کو روک تھام کے حوالے سے مربوط پالیسی ترتیب دی جائے اور تمام ضرر رساں روایات اور رسومات کے جو انسانی حقوق سے متصادم ہیں خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔

خواجہ سرا بچوں کے کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خواجہ سرا سماجی کارکن نایاب علی نے کہا کہ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو نہ صرف قانون سازی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ”محض قوانین کا بنا لینا کافی نہیں ان کے نفاذ کے لیے اقدامات اٹھانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔”

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل