انڈپینڈنٹ اردو نے کم وقت میں نام بنایا: نگران وزیر اطلاعات

انڈپینڈنٹ اردو کے پانچ سالہ سفر کے تکمیل پر اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی تقریب میں نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ اردو ڈیجٹیل پلیٹ فارم کے طور پر انڈپینڈنٹ کا شمارچوٹی کے تین اداروں میں ہوتا ہے۔

نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی 5 نومبر 2023 کو اسلام آباد میں انڈپینڈنٹ اردو کی سالانہ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (حمزہ قمر/انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ حکومت آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر کامل یقین رکھتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کے پانچ سالہ سفر کی تکمیل کے موقع پر اتوار کی شب اسلام آباد کے ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے انڈپینڈنٹ اردو کی انتظامیہ اور عملے کو اپنے پانچ سالہ سفر میں ایک اہم سنگ عبور کرنے پر مبارکباد دی۔

انہوں نے اس موقع پر انڈیپنڈنٹ اردو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس پلیٹ فارم نے ملک میں ڈیجیٹل اردو صحافت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

ادارے کے کام کو سراہتے ہوئے نگراں وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ اردو نے اپنے قارئین کو بہتر اور منفرد مواد پیش کر رہا ہے اور ملک کی کمزور معاشی صورت حال میں بھی اپنے لیے کام کرنے والوں کی بروقت ادائیگیاں کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ انڈپینڈنٹ اردو نے کم وقت میں پاکستان میں صحافت کے میدان میں اپنی جگہ بنائی ہے اور یہ پاکستان میں پانچ نہیں بلکہ چوٹی کے تین اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کی سالانہ  تقریب میں ملک کی دیگر اہم سیاسی و صحافتی شخصیات نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ مختلف بیوکریٹس اور وکلا بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ تقریب میں موسیقی کی نئی صنف صوفی اوپرا متعارف کرانی والی گلوکارہ سارہ پیٹر نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ سارہ پیٹر 17 مختلف زبانوں میں گلوکاری کرتی ہیں۔

اتوار کو انڈپینڈنٹ اردو کی سالانہ تقریب کے موقع پر ان طلبہ و طالبات میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں جنہوں نے انڈپینڈنٹ اردو میں ایک سال کے دوران تربیت حاصل کرکے مختصر وقت کے لیے خدمات سر انجام دی تھیں۔

اس سے قبل ادارے کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کے مدیر اعلی بکر عطیانی نے کہا کہ ’ہمارا مقصد مستند خبروں کے ذریعے قارئین اور سامعین کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔‘

انہوں نے اس ادارے کو مزید وسعت دینے کے منصوبوں اور سوشل میڈیا پر صارفین کی دلچسپی کے مطابق خبروں کے انتخاب کی ضرورت پر زور دیا۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان