سالا ایک مچھر۔۔۔۔

ڈینگی کا شکار ہونے والے ایک نوجوان کے بیماری میں تین دن کیسے گزرے۔

(پکسا بے)

دفتر سے گھر واپسی پر شاید ہی کوئی انسان ہو جسے نیند کا غلبہ محسوس نہ ہوتا ہو۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا اور یہ روز مرہ کا معمول تھا ،اس لیے میرے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔

خیر گھر پہنچتے ہی فریش ہو کر کھانے بیٹھ جانا بھی ضروری تھا سو وہی کیا۔ چاہنے نہ چاہنے کے باجود جتنا ہو سکتا تھا کھانا کھایا اور باقی بعد میں کھانے کے وعدے پر کھانے کی میز سے رخصت لے کر کمرے میں جا دھمکا۔

 کوشش یہی تھی کہ جلد سے جلد نیند پوری کر کے سر درد اور تھکن کو دور بھگایا جائے لیکن شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

 جیسے تیسے سونے کے بعد جب اٹھا تو سر درد میں اچھا خاصا اضافہ اور ساتھ میں بخار بھی آ چکا تھا۔

خیر ہم نے بھرپور جوان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بخار کو وہیں رکھا جہاں ہمارے ہاں اکثریت عقل کی بات کو رکھتی ہے اور روز مرہ کی مصروفیات میں جٹ گئے۔

رات کے کسی پہر بخار نے پھر سر اٹھایا لیکن ہم نے دو پیناڈول کی گولیاں لے کر بخار کے ساتھ وہی کرنے کی کوشش کی جو سکندر یونانی میدان جنگ میں اپنے مخالفین سے کیا کرتا تھا۔

 لیکن یہ بخار شاید کسی راجہ پورس کی نسل کا تھا جو ماننے میں ہی نہیں آرہا تھا۔شعیب اختر طبیعت کا یہ بخار 101 کے بعد 102 کی حدوں کو چھو رہا تھا اور اگلا پورا دن بھی بس اسی بخار کی آنیاں جانیاں ناپنے میں گزرگیا۔

یہ رات بھی آئی اور گزرگئی حالت اب بھی ویسی تھی جیسے توے پر رکھے آملیٹ کی ہوتی ہے۔صبح سے پھر ایک کے بعد ایک دوائی جو لینا شروع کی تو ہر دوائی نے اپنا اپنا اثر دکھاتے دماغ میں ایک جلترنگ بجانے کا کام بخوبی سرانجام دیا۔

شام کے کسی پہر بالآخر گھر والوں کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہسپتال جانے کا فیصلہ کیا۔ قریب کے ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹر جو اپنی شفیق طبیعت اور سمجھ بوجھ کے باعث ہمارے خاندان میں کافی معروف ہیں ،انہی سے مشورہ لینے جا پہنچا۔

دو دن کی بخار کی تفصیلات لینے اور تمام علامات جانچننے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے خون کاٹیسٹ کروانے کا لکھ دیا۔

ہم ڈاکٹر صاحب سے اٹھ کر ٹیسٹ والے کاؤنٹر پر جا پہنچے جہاں پہلے ہی ایک لمبی لائن لگی تھی۔ معلوم کرنے پر بتایا گیا علاقے میں ڈینگی کی وبا پھیلی ہے اس لیے لوگ ٹیسٹوں پر ٹیسٹ کروائے جا رہے ہیں۔

 ہم بھی ان ہی بد نصیبوں میں تھے جو اب انتظار کی سولی پر اپنا ڈینگی برآمد ہونے انتظار کر رہے تھے۔اللہ اللہ کرتے ہماری باری آئی تو خون نکالنے والے نے بھی فراخدلی سے اتنا خون نکال لیا ،جتنا شاید ہم محنت شاقہ سے بنانے میں مہینوں لے جاتے۔

خیر ٹیسٹ کے بعد رپورٹ ملنے کا انتظار بھی ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ اوپر سے جو بھی مریض ہسپتال داخل ہوتا اس کی پریشان حال صورت دیکھ کر ہم مزید دکھیارے ہوئے جا رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لگ بھگ ایک گھنٹے بعد جب رپورٹ ہمارے ہاتھ لگی تو اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اندازہ ہوا کہ خون کے معاملے میں کوئی خاص گربڑ گھٹالہ وقوع پذیر ہو چکا ہے۔

رپورٹ لے کر بھاگم بھاگ ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے اپنی تمام تر مہارت استعمال کرتے ہوئے اشارے کنائے میں کہہ دیا کہ خون بنانے پر سرخ جرثوموں کی تعداد کافی کم ہو رہی ہے، جس کا مطلب ہے مجھ پر ڈینگی وار کر چکا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے نصیحت کی کہ پریشان نہیں ہونا اور آرام کرنے کے علاوہ زیادہ سے زیادہ جوس پیو تاکہ جسم میں سرخ جرثوموں کی تعداد کو پورا کیا جا سکے۔

ڈاکٹر صاحب سے صلاح مشورے کے بعد جب گھر پہنچاتو پہلے سے ہی ملنے والے وی آئی پی پروٹوکول میں اضافہ ہو چکا تھا اور بالکل ایسا لگ رہا تھا جیسے میں ابھی ابھی حج کر کے واپس آیا ہوں۔

اگلے روز بیماری کی اطلاع دینے دفتر جا پہنچا جہاں موجود تمام ساتھیوں نے اظہار ہمدردی کے بعد خوب ناراضی کا اظہار کیا کہ اس قدر بیماری میں دفتر آنے کی کیا ضرورت تھی لیکن اپنی جانب سےفرض شناسی کے جذبے سے سرشار میں دفتر کے دوستوں کو اپنی صورتحال سے آگاہ کرکے مطمئن ہو چکا تھا ،اس لیے دوستوں کے مشورے کے عین مطابق فوری گھر کی راہ لی۔

اگلے تین دن میں تھا، بستر تھا اور مچھروں کو سنائی جانے والی وہ صلواتیں جو شاید اب قیامت کے ریکارڈ میں ہی سامنے آئیں گی۔

تیز بخار میں حالت ویسے ہی پتلی تھی ،اوپر سے عین آنکھوں کے عقب میں ہونے والے درد نے تمام کسریں نکال رکھی تھیں۔ ہر سانس پر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں کبھی صحت مند رہا ہی نہیں تھا۔

او آر ایس ، جوس اور پانی کی اتنی مقدار جس میں شاید کشتی دوڑانا بھی مشکل نہ ہو میں اپنے اندر اتار چکا تھا لیکن حالت تھی کہ سدھرنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

 پھر جب بخار نے جان چھوڑی تو جسم میں جان واپس آئی لیکن ابھی تک مکمل بحالی کا یہ سفر سست روی سے مسلسل جاری ہے۔

 زندگی ایک جہد مسلسل ہے اور جب تک ہم زندہ ہیں مچھروں کے ہاتھوں خوار ہونا ہماری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے۔

 ان تین روز میں جہاں بھی مچھر دیکھا بس اسے دیکھ کر منہ سے یہی نکلا ایک ستم اور میری جان ابھی جاں باقی ہے۔۔۔۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی