اسرائیلی حملوں میں تین بار اپنا گھر گنوانے والی پرعزم فلسطینی خاتون

2008 اور 2014 کے بعد یہ تیسری بار ہے جب تہانی النجار کا گھر اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنا۔

جمعے کو حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور چار روزہ جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد تہانی النجار غزہ کے شہر خان یونس میں اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے پر پہنچتی ہیں۔

یہاں پہنچنے کے بعد 58 سالہ تہانی النجار تباہ شدہ گھر کے ملبے سے لکڑی، کپڑے یا کوئی بھی کارآمد سامان ڈھونڈنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔

ان کا گھر اسرائیلی فضائی حملے سے تباہ ہو گیا تھا جہاں اس کے خاندان کے سات افراد مارے گئے تھے۔

یہ تیسری بار ہے جب پانچ بچوں کی والدہ تہانی النجار کا گھر اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر کو 2008 اور 2014 کے دوران بھی اسرائیلی حملوں کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنے گھر کو ایک بار پھر کھو دینے کے بعد اب وہ بے گھر لوگوں کے ایک مرکز میں رہ رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس پناہ گزین مرکز میں ’وبائی بیماری‘ پھیلنے کا خطرہ ہے کیونکہ وہاں پانی، صفائی، ایندھن اور انتہائی ضروری خوراک اور طبی سامان تک محدود رسائی کی وجہ سے بدترین حالات میں پناہ لینے والے مزید خطرات میں گھیرے ہوئے ہیں۔

تقریباً دو ماہ بعد یہ اسرائیلی جارحیت میں پہلا وقفہ تھا تاہم دونوں فریقین کا کہنا ہے کہ فائر بندی ختم ہوتے ہی لڑائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

ادھر امریکی صدر جو بائیڈن نے امید ظاہر کی کہ اس وقفے میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے کہا کہ انسانی امداد سے لدے 196 ٹرکوں نے جمعے کو رفح کراسنگ کے ذریعے خوراک، پانی اور طبی سامان غزہ پہنچایا، جو اسرائیل کی بمباری کے بعد غزہ میں اس طرح کا سب سے بڑا قافلہ تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا