پاکستان اور کویت کے درمیان اربوں ڈالرز کے سات معاہدوں پر دستخط

پاکستان اور کویت نے فوڈ سکیورٹی، زراعت، ہائیڈل پاور، پانی کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ 29 نومبر، 2023 کو کویت کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ طلال الخالد الاحمد الصباح سے ملاقات کر رہے ہیں (وزیر اعظم آفس)

پاکستان اور کویت نے جمعرات کو فوڈ سکیورٹی، زراعت، ہائیڈل پاور، پانی کی فراہمی سمیت پاکستان کے مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق یہ سات معاہدے نگران وزیراعظم انور الحق کاکڑ کے دورہ کویت کے دوران کویت کے ولی عہد شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح اور نائب وزیراعظم شیخ طلال الخالد الاحمد الصباح سے ملاقات کے بعد کیے گئے۔ ان ملاقاتوں میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر بھی موجود تھے۔

بیان کے مطابق رہنماؤں نے اس موقعے پر پاکستان اور کویت کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور برادرانہ تعلقات کو باہمی طور پر سود مند اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کر کے مضبوط کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کویت کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کویت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، توانائی، آئی ٹی، معدنیات، سرمایہ کاری سمیت مضبوط اقتصادی روابط کے قیام کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم نے دونوں ملکوں کے درمیان کثیر الجہتی فورمز پر قریبی تعاون پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے صحت، سکیورٹی، انفراسٹرکچر کے شعبہ جات میں پاکستانی افرادی قوت کی درآمد پر کویت کے اقدامات کو سراہا۔

وزیراعظم پاکستان نے کویت کے ساتھ ان معاہدوں کو ان کامیابیوں میں ایک اور سنگ میل قرار دیا جو سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے پلیٹ فارم سے ملک کے لیے سامنے آرہی ہیں۔

وزیر اعظم نے کویت کے امیر شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح کی صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔

کویت کے ولی عہد نے اس موقعے پر پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت