کوفہ میں زمانوں کا مسافر

کوفہ ایک خوبصورت شہر ہے، بلاشبہ سحر میں مبتلا کر دینے والا، دل کے دھاگوں کو جکڑ لینے والا۔ یہاں آ کر حیرانی پہ حیرانی یہ ہوئی کہ جو ملتا تھا مجھے اپنوں کی طرح محبت کرتا تھا۔

عاشورہ کے دوسرے دن کوفہ میں عراقی   شیعہ مسلمان ساتویں صدی کے جنگجوؤں کے روپ میں سڑک پر جا رہے ہیں (اے ایف پی)

احباب پچھلے سال کے اربعین کا زمانہ ہے، مَیں وہیں تھا۔ مکرر محرم کے دن آ گئے ہیں، چاہتا ہوں، احوال نجف اور کربلا کی سیر کا کچھ  سنا دوں جو کچھ وہاں ہم پہ گزری۔

 لوگو اول تو میرا اچانک یہاں پہنچنا سُن لو، کوئی چھ ماہ قبل خواب میں پہنچا تھا۔ پھر پندرہ، بیس دن پہلے سید گلزار حسنین نے بشارت دی کہ ناطق تجھے ہم اربعین پہ لے کر جا رہے ہیں اور یہ گویا مجھے کسی طرف سے حکم میرے مولا علی نے کیا ہے۔

یہاں آ کر حیرانی پہ حیرانی یہ ہوئی کہ جو ملتا تھا مجھے اپنوں کی طرح محبت کرتا تھا۔ اب سب کچھ کیسے بتاؤں۔ کئی دن تک ایک روپیہ خرچ نہیں ہوا۔ ایک دن مَیں اکیلا تھا، کوفہ سے واپسی پر ایک عرب ٹیکسی والے کو کہا نجفِ اشرف کے کتنے لو گے؟ اُس نے کہا دوسروں سے پانچ ہزار لیتا ہوں، آپ سے چار ہزارعراقی دینارلوں گا۔

میرے پاس کھلے پیسے نہیں تھے۔ مَیں نے کہا پاکستانی روپوں میں لو گے؟ اُس نے کہا نہیں، اگرایرانی ہیں تو دے دو۔ عین اُسی وقت ایک ایرانی وہاں رُکا، اُس نے کہا کیا معاملہ ہے، ہم نے مسئلہ بتایا، اُس نے اپنی جیب سے چار ہزار دینار نکالے، ٹیکسی والے کو دیے اور میرا سر چوم کے آگے بڑھ گیا۔

مَیں حیران کہ یہ کیا ہوا۔ ٹیکسی والا کہنے لگا، آپ کو دیکھ کر محبت سی ہو جاتی ہے۔ بہت بھولے بھالے اور نیک صورت لگتے ہو، اِسی لیے میں نے بھی کم مانگے تھے۔ خدا قسم اُس کی یہ بات لے کر مَیں رونے لگا کہ مجھ گنہگار پر مولا اتنی محبت کیوں کیے ہوئے ہیں۔

خیر جو کچھ میرے حالات میں یہاں گزر رہا تھا سب کہوں گا۔ پہلے ایک صبح کا قصہ سُن لیو، جہاں ہم رُکے تھے، یہاں سے ایک کلومیٹر شمال کی طرف فرات ہے، فرات کی بنائی ہوئی جھیلیں ہیں، جھیلوں کے مضاف میں بلند اور ہرے بھرے کھجوروں کے باغات ہیں۔

دریا نیلے پانیوں کی صفائی لیے بہہ رہا ہے، جھیلیں پانیوں کے ساتھ مچھلیوں سے بھری پڑی ہیں اور لہریں مارتی ایک طرف کو جاتی ہیں پھر دوسری طرف کو آتی ہیں۔ اِن کی لمبائی اور ترائی میلوں کی مسافتوں کو گھیرتی ہے۔

باغات اتنے بھرے پُرے ہیں کہ کجھوریں کچھ جھیلوں کے پانیوں میں گرتی ہیں، کچھ باہر بکھرتی ہیں مگر کوئی نفر اُٹھانے والا نہیں، اِن بُہتات کے میٹھے پھلوں کا کھانے والا نہیں اور دریا بہا چلا جاتا ہے، بہا چلا جاتا ہے، کیوں نہ بہے، یہ نجفِ اشرف کے پہلو کا دریا ہے۔

اِن سب کے بالکل جنوب میں مولا علی کا روضہ مبارک ہے۔ روضہ ایک ٹیلے پر ہے اور ٹیلہ بہت بلند ہے۔ یہ جھیلیں وہی مقام ہیں جہاں ایک دفعہ ہارون الرشید بادشاہ عباسیوں کا شکاری کتوں کے ساتھ ہرنوں کا شکار کھیلتا ہوا آ پڑا تھا۔

جب یہاں دریا اور جھیلوں کے کنارے پہنچا اور اپنے کُتے جھیلوں کا ٹھنڈا پانی پیتے ہوئے ہرنوں کے پیچھے لگائے تو ہرن بھاگتے ہوئے اِس ٹیلے پر چڑھ گئے، جونہی ہرن ٹیلے پر پہنچے، خلیفہ کے شکاری کُتے وہیں ٹیلے سے پرے رُک گئے۔

خلیفہ بہت حیران ہوا۔ اُس نے یہ عمل بار بار کیا لیکن جیسے ہی ہرن دوڑ کر ٹیلے پر چڑھ جاتے، اُس کے کُتے واپس خلیفہ کی طرف لوٹ جاتے۔ ہرن آرام سے ٹیلے پر آ کر بیٹھ جاتے۔

خلیفہ نے مقامی لوگوں کو بلا کر اِس جگہ کے بارے میں دریافت کیا تو اُنھوں نے بتایا ہمیں کچھ زیادہ پتہ تو نہیں مگر ہم نے کچھ نقاب پوش لوگوں کو یہاں آ کر اپنی مناجاتیں پڑھتے دیکھا ہے اور ہمارے بزرگوں نے بھی ایسے ہی کئی نقاب پوش اِس جگہ آتے جاتے دیکھے ہیں کہ وہ یہاں گڑگڑا کر روتے بھی ہیں اور مناجات بھی پڑھتے ہیں۔

یہ سب ماجرا سُن کر خلیفہ بہت حیران ہوا، تب اُس نے امام موسیٰ کاظم علیہ اسلام سے دریافت کیا کہ اِس مسئلے کے بارے میں بتاؤ تو آپ نے فرمایا، یہ ہمارے جد امیر المومنین کی قبرِ مطہر ہے، یہاں میرے اجداد آتے تھے اور اب میں گاہے گاہے جاتا ہوں۔

تب خلیفہ نے پہلی بار یہاں ایک چار دیواری کھنچوائی۔ اُس کے بعد تمام خلقت کو اِس کی خبر ملتی گئی۔ تو جناب مَیں اور سید گلزار حسنین شاہ عین اُس جگہ ٹھہرے ہیں جہاں سے ٹیلے کی چڑھائی شروع ہوتی ہے۔

ہمارے ایک طرف دریا، جھیلیں اور خرموں کے باغات در باغات ہیں اور دوسری طرف محض سو گز پر مولا کا روضہ مطہر ہے۔ رات ہم دس بجے کربلا سے نجف اشرف پہنچے تھے۔

صبح میری آنکھیں ہوا کی نرم گوش لہروں اور اذانِ حرمِ علی علیہ السلام کی صدا کے ساتھ وا ہوئیں، نماز ادا کی اور جھیلوں کی سبزیوں کی طرف نکل گیا۔ اِس میں کیا کیا لطف پایا، یہ کہانی پھر سہی، اُدھر سے لوٹ کر حرم ِ علی مولا میں آیا، سلام کیا، سجدہ کیا اور شکر بارگاہ میں حاضری کا ادا کیا۔

شاہ صاحب رات بھر کے تھکے ماندے تھے۔ ہمیں معلوم تھا وہ آرام کریں گے، مگر ہمیں جو دیا ہے خدا نے دل اُسے کو آرام کہاں، اس دل کو سکون کیسے آئے۔ ارادہ ہوا میاں ناطق کوفہ چل نکلیں اور پیدل نکلیں۔

لیجیے بھائی ایک صاف سڑک پکڑی جو سیدھی کوفہ کوجاتی تھی۔ اُس پر چل پڑا۔ نجف اشرف سے کوفہ 15 کلومیٹر ہے۔ رستے میں ایک بچے سے رستہ پوچھا، اُلٹا اُس نے میرے ہاتھوں میں وہ شیرینی بھر دی جو خود اُس نے اپنے کھانے کو لی تھی اور تب رستہ بتایا۔

شیرینی کھاتا ہوا مَیں پھر چلا۔ رستے اتنے صاف اور کھلے ہیں کہ بھائی اِس سے آگے کیا ہوں گے۔ چلا جاتا تھا اور دل میں عجیب جذبوں سے آنکھوں کی مشکیں بھری جاتی تھیں۔ کبھی کبھی ٹپک پڑتی تھیں اور چھلک پڑتی تھیں۔

آدھی راہ طے کی تھی کہ ایک آدمی نے آواز دی کوفہ کوفہ چلو میرے ساتھ۔ اُس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ جی ہاں یہ وہی کوفہ ہے جسے عربوں کا عروس البلاد کہا جاتا تھا۔ جہاں اتنے پیغمبر اور ولی مدفون ہیں کہ دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں۔

یہ وہی کوفہ ہے جہاں کیا کیا قیامتیں نہ برپا ہوئیں، جہاں کون کون سے فتنے نہ بھڑکائے گئے۔ جہاں خدا کی زمین پر بلند ترین نیکوکاروں نے پناہ بھی لی اور جہاں شر کے بد ترین جہلا نے بھی جنم لیے۔ یہ وہی کوفہ ہے، جس کے رہنے والے بعضوں کوعلی نے اپنے جیسا بھی کہا اور اِسی جگہ کے بعضوں کو علی نے دنیا کی بدترین مخلوق بھی کہا۔

یہی وہ کوفہ ہے جہاں میثم تمار، ہانی بن عروہ، مالک اُشتر، کمیل اسدی، صعصعہ بن صوحان، ابنِ عوسجہ،ابان اور مختار جیسے محبوں نے جنم لیا، اور یہیں شمر، خولی اور اشعث بن قیس جیسے جہنمیوں نے پرورش پائی۔

یہ عجیب شہر کوفہ ہے اور اِسی شہر کی طرف مَیں جا رہا تھا۔ تاریخ کے ہزاروں اُلجھے اور سُلجھے اوراقوں کو پرتالتا ہوا جا رہا تھا۔ اِسی کوفہ کی طرف رواں دواں تھا اور پھر مَیں کوفہ میں داخل ہو گیا۔

مَیں جس سڑک پر تھا میرے دائیں طرف آدھا شہر تھا اور بائیں طرف باقی آدھا شہر۔ سڑکیں یہاں کی ویران تو نہیں تھیں مگر ویرانی کا ہونکا ضرور تھا۔ آبادی بہت کم سمجھیے، گاہے کوئی آدمی ملتا تھا گاہے نہیں ملتا تھا۔

سڑکیں ایسی صاف اور کھُلی کہ دیوزاد کے ہونک بھرنے کا تصور بندھتا تھا۔ ایک بازار سے گزر کر جیسے ہی ایک چوراہے پر آیا، مجھے مسجدِ کوفہ کے مینار نظر آنے لگے۔ جی ہاں یہی وہ مسجد ہے جس کی محراب نے مولا علی کے پاکیزہ لہو کو بوسے دیے تھے۔ جس کی محرابوں نے علی کی زبان سے آیات کی تلاوتیں سُنی تھیں اور آج بھی اِن دیواروں اور محرابوں میں وہ تلاوتیں گونجتی ہیں۔

مسجد کے سامنے کوئی 50 میٹر چھوڑ کر شمالی طرف چند دکانیں موجود ہیں باقی تمام علاقہ سینکڑوں گز کا صاف میدان بنا دیا گیا ہے۔ مسجد کے عین مشرق میں بابِ ثعبان ہے اور اِس کے پہلو میں بھی چھوٹا سا بازار موجود ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسجد کی دیواریں قلعہ نما بلند ہیں۔ جس تندور سے نوح کا طوفان اُٹھا تھا وہ مسجد کے صحن میں ہے اور اب وہ پانی کا کنواں ہے جس سے نمازی وضو نبھاتے ہیں۔ آپ بابِ ثعبان سے داخل ہوں تو یہ کنواں سامنے موجود ہے۔

کنویں سے شمال کی طرف دیکھیں تو یہاں ابراہیم علیہ السلام کا وہ مقام ہے، جہاں آپ نے نمرود سے نجات پانے کے بعد نمازِ شکر ادا کی تھی اور شام کی طرف جا نکلے تھے۔ جب آپ بابِ ثعبان ہی سے مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو بالکل سامنے وہ محراب آ جاتی ہے جہاں مولا مشکل کشا سجدہ میں گئے تو ملعون ملجم نے زہر آلود تلوار کا وار کیا تھا۔

اس محراب سے بائیں جانب مسجد کا وہ علاقہ ہے جو پہلے مسجد میں شامل نہیں تھا اور دار الامارہ کے سامنے کا چوک تھا۔ اِسی چوک میں مسلم بن عقیل کے پناہ دار ہانی بن عروہ کو ابنِ زیادہ ملعون نے شہید کیا تھا۔ جب مسلم بن عقیل کو ہاتھ پاؤں باندھ کر دارالا مارہ کی بلند چھت سے گرایا گیا تھا تو وہ بھی اِسی چوک میں گرے تھے۔ اِسی چوک میں عبداللہ ابن ِزبیر نے مختار ثقفی کو حالتِ جنگ میں شہید کرایا تھا۔

ان تمام کے مقبرے ابھی اِسی چوک میں ہیں اور اب یہ مسجد کے بیچ میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہاں خلقِ خدا کیا کیا مناجاتیں کرتی ہے، مسجد کے عین پچھلی طرف دارالامارہ کا علاقہ ہے جہاں اب جھاڑ جھنکاڑ اور ویرانی کے بھوت بولتے ہیں۔

اُس قلعے کی فقط چند بنیادیں رہ گئی ہیں۔ باقی ابن زیادہ ملعون اورعبد اللہ ابنِ زیادہ سمیت سب اُجڑ گیا ہے۔ اِسی قصر کی دیوار کے ساتھ اور مسجد کے عقب میں مولا علی مشکل کشا کا گھر ہے، یہ گھر اب پہلے والا نہیں رہا، پکا کر دیا گیا ہے۔ اِس گھر میں جہاں مولا مشکل کشا سوتے تھے، جہاں نماز پڑھتے تھے، جہاں حسن و حسین اور بی بی زینب سلام للہ علیہا رہتی تھیں، وہ چھوٹے چھوٹے کمرے انھی نقشوں پر ابھی موجود رکھ دیے گئے ہیں۔ سامنے کے صحن میں چند کھجوروں کے پیڑ ہیں، یہاں مولا سبزیاں اگایا کرتے تھے، اپنا گھوڑا اور اونٹنیاں باندھا کرتے تھے۔ اِسی صحن میں ایک حوض تھا جہاں بطخیں تیرتی تھیں۔

اس گھر کے سامنے شمال ک طرف ایک سڑک تھی جس پر مولا علی مشرق کی طرف منہ کر کے چلتے ہوئے مسجدِ کوفہ کے باب السلام سے مسجد میں داخل ہوتے تھے۔ اِسی گھر کی جنوبی دیوار سے لگا ہوا دارالامارہ یعنی قصر یا وہ منحوس قلعہ ہے۔ جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ میں نے اِن تمام جگہوں کو 12 گھنٹوں کے عرصے میں چل پھر کر اُسی غور سے دیکھا، جس غور سے اِنھیں بچپن سے پڑھتا آیا تھا اور جس غور فکر سے میرے والد مجھے بتاتے تھے کہ وہ یہاں 1980 سے 84 تک چار سال گزار کر گئے ہیں۔

کوفہ بہت بدل گیا ہے۔ سب محب آباد ہیں۔ یہ ایک خوبصورت شہر ہے، بلاشبہ سحر میں مبتلا کر دینے والا، دل کے دھاگوں کو جکڑ لینے والا۔ کوفہ کئی بار اجڑا کئی بار بسا، آخری بار حضرت عمر نے اِسے یوں بسایا تھا کہ عرب کے سو سرکردہ قبیلوں کو یہاں لایا گیا۔ اُن کے الگ الگ محلے بنائے گئے۔ اُن میں اُن کو بسایا گیا۔ یہ قبیلے اپنے دور کے بہادر اور یکتا تھے۔ اِن کی نفسیات پر مَیں کبھی بعد میں لکھوں گا۔

اتنا کھلا ہے کہ ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیدل چلتے ہوئے آپ کے دو دن لگیں گے۔ اِس کے بازاروں کی تعداد کچھ پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ لیکن مجھے اُن محلوں اور بازاروں کی طرف جانا تھا جو کبھی مالکِ اشتر، میثم تمار، ہانی، مختار، دعبل، اور فرزدق کے محلے تھے اور میں بالآخر بنی فرازہ، بنی اسد اور بنی ثقیف کے محلوں میں پہنچ گیا۔

یہاں ابھی پرانی آبادیاں موجود ہیں، یہ محلے مسجدِ کوفہ اور دارالامارہ کے جنوب کی طرف ہیں۔ دارلامارہ اور مسجد کوفہ کے شمال کے محلے اکثر ختم ہو گئے ہیں اور صاف میدان نکل آئے ہیں۔ پُرانے محلے بہت کچھ اپنے سحر میں لیتے ہیں۔ میں اِن محلوں میں پانچ گھنٹے آوارہ پھرتا رہا، کبھی کبھی میرے کان میں ایسے کوئی آواز گونجتی جیسے مجھے کسی نے نام لے کر پکارا ہو اور جب پیچھے مُڑ کر دیکھتا تھا تو کوئی نفر نہ ہوتا تھا۔

مجھے لگتا تھا جیسے مختار نے آواز دی ہے یا میثم تمار نے صدا دی ہے اور مجھے بھاگ کر گلے لگانے کو آیا ہو کہ ناطق تُو کہاں زمانوں کے فاصلوں سے اِتنا دُور نکل گیا تھا، تجھے تو ہمارے ساتھ ہونا تھا مولا کی معیت میں اور میں یہ صدا سُن کر رونے لگ جاتا تھا۔ آہ میثم تمار۔

مسجد کوفہ سے پچھلی جانب نکلیں تو کوئی دو سو میٹر کے فاصلے پر مغرب کی طرف اِس کجھوریں بیچنے والے غریب ملنگ کا گھر تھا، جسے علی کی محبت میں اُسی کجھور کے ساتھ امیرِ شام نے سولی دے دی تھی اور زبان کاٹ دی تھی کہ وہ ہر وقت علی علی پکارتی تھی۔

یہ کجھور کا درخت میثم کے گھر میں موجود تھا اور خود میثم نے اُسے پانی دے کر پالا تھا۔ یہ بشارت میثم کو پہلے ہی مولا کی طرف سے مل گئی تھی کہ ایک بارجب مولا کوفہ میں حکومت کرتے تھے تو میثم تمار نے مولا کی اپنے گھر میں کھانے کی دعوت کی تھی۔

اُس نے جہاں مولا علی کو صحن میں بٹھایا وہاں ایک چھوٹا سا کجھور کا پودا بھی لگایا تھا۔ مولا علی نے پودے کی طرف دیکھ کر میثم سے کہا، میثم ایک وقت آئے گا تجھے میری محبت میں اِسی کجھور کے درخت کے ساتھ سولی دی جائے گی۔ میثم نے یہ سُننا تھا کہ اُسی وقت سے ہی کجھور کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کرنے لگے، یہاں تک کہ وہ کجھور کا درخت مضبوط تنے کے ساتھ بلند ہو گیا۔

اور جب ایک بار امیرِ شام اپنی حکومت کے دور میں کوفہ آیا اور جمعے کے خطبے میں مولا علی کو دشنام دینے لگا تو میثم نے وہیں علی کے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے۔ امیر شام کو برا لگا۔ اُس نے اپنے محافظوں سے کہا اِسے اِسی گھر کے درخت سے لٹکا دو اور زبان کاٹ دو۔

اب اِسی گھر میں میثم کا مزار ہے اور عین اُسی جگہ ایک کجھور کا درخت بھی موجود ہے جہاں میثم کو سولی لگایا گیا تھا۔ کہتے ہیں جب ایک درخت سوکھ جاتا ہے تو دوسرا یہیں اور اُگ آتا ہے، مَیں نے اُس کجھور کی تصویر بھی لی ہے۔ یہاں مجھے ایک فرد نے پکڑ کر کھانا کھلایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی