یہ ٹیلنٹ اب رکنے والا نہیں ہے

اگر ہم اس انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیں تو اس نے چھ میں سے پانچ میچ جیتے۔

پانچ دسمبر 2023 کی اس تصویر میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم (پاکستان کرکٹ بورڈ)

پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آ جاتے ہیں، جس نے بھی یہ بات کہی ہے غلط نہیں کہی۔

جنوبی افریقہ میں ہونے والے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی پاکستان انڈر 19 ٹیم ہی کو دیکھ لیں۔

اگرچہ اس نوجوان ٹیم کا سفر سیمی فائنل میں آ کر رک گیا لیکن یہ وہ ٹیم ہے جس میں موجود ٹیلنٹ اس بات کا پتہ دے رہا ہے کہ ان کھلاڑیوں کا مستقبل روشن ہے۔

اگر ہم اس انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان انڈر 19 ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیں تو اس نے چھ میں سے پانچ میچ جیتے۔

مطلب یہ ہے کہ گروپ اور سپرسکس مرحلے میں وہ ناقابل شکست رہی اور ان تمام کامیابیوں کی سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس نے تمام پانچوں میچوں میں حریف ٹیموں کو آل آؤٹ کیا۔

وہ سیمی فائنل میں بھی آسٹریلوی ٹیم کو آل آؤٹ کرنے کے قریب آ گئی تھی لیکن بدقسمتی سے آخری وکٹ اس کے ہاتھ نہ آ سکی۔

پاکستان کی اس انڈر19 ٹیم کا سب سے مضبوط شعبہ اس کی فاسٹ بولنگ ہے۔ وہ چاہے عبید شاہ ہوں یا علی رضا، محمد ذیشان ہوں یا احمد حسن، ان تمام بولروں نے بہت ہی عمدہ بولنگ کی ہے۔

ناتجربہ کاری کے باوجود اس بولنگ اٹیک نے جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کی۔

عبید شاہ ٹیسٹ فاسٹ بولر نسیم شاہ کے چھوٹے بھائی ہیں اور ان کے ایک اور بھائی حنین شاہ بھی کرکٹ کے میدان میں نظر آ رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں بھائیوں کو اسلام آباد یونائیٹڈ نے پاکستان سپر لیگ کے لیے حاصل کر لیا ہے اور شائقین کے لیے یہ ایک منفرد نظارہ ہو گا کہ تین بھائی بیک وقت ایکشن میں نظر آئیں گے۔

علی رضا بھی ایک خاص ٹیلنٹ کے طور پر ابھرے ہیں۔ شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے علی رضا نے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف چار وکٹیں حاصل کر کے پاکستان کو جیت کے قریب لا کھڑا کر دیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فاسٹ بولنگ کے علاوہ اس انڈر 19 ٹیم میں ایک اور باصلاحیت کھلاڑی عرفات منہاس ہیں جو لیفٹ آرم سپنر کے ساتھ ساتھ قابل اعتماد بیٹسمین بھی ہیں۔ اس انڈر 19 ورلڈ کپ میں انہوں نے آٹھ وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ سیمی فائنل میں نصف سنچری بھی سکور کی۔

جہاں تک بیٹنگ کا تعلق ہے تو اس انڈر 19 ٹیم میں شاہ زیب خان، اذان اویس اور شامل حسین ایسے بیٹسمین ہیں جن میں غیرمعمولی صلاحیتیں موجود ہیں۔ شاہ زیب ِخان نے ٹورنامنٹ میں افغانستان کے خلاف سنچری اور نیوزی لینڈ کے خلاف 80 رنز ناٹ آؤٹ کی دو اہم اننگز کھیلی ہیں۔

تاہم بیٹنگ کے شعبے میں اب بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے کیونکہ آئرلینڈ کے خلاف 182 رنز کے ہدف تک پہنچنے تک اس کی سات وکٹیں گر گئی تھیں جبکہ بنگلہ دیش کے خلاف پوری ٹیم صرف 155 اور آسٹریلیا کے خلاف 179 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔

انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی مجموعی کارکردگی اس اعتبار سے اچھی کہی جا سکتی ہے کیونکہ دسمبر میں ہونے والے انڈر 19 ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں اسے حیران کن طور پر متحدہ عرب امارات انڈر 19 کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے انڈر 19 ورلڈ کپ میں اس ٹیم سے زیادہ توقعات نہیں رکھی گئی تھیں حالانکہ اس ٹورنامنٹ میں اس نے انڈیا انڈر 19 کو بھی شکست دی تھی۔

انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کے نوجوان کرکٹرز کی کارکردگی کو وہاں موجود سابق کرکٹرز نے بھی سراہا ہے جن میں ویسٹ انڈین فاسٹ بولر ای این بشپ قابل ذکر ہیں جو کمنٹری کے سلسلے میں جنوبی افریقہ میں موجود ہیں۔

ای این بشپ نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان فاسٹ بولر پیدا کرتا ہی جا رہا ہے اور اگر ان بولروں کی صحیح طریقے سے پرورش کی گئی اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیے گئے تو وہ بین الاقوامی سطح پر بھرپور تاثر قائم کر سکتے ہیں۔

یہاں دو باتیں بہت اہم ہیں۔ اول یہ کہ یہ نوجوان کھلاڑی خود اپنے مستقبل کے بارے میں کتنی سنجیدگی اختیار کرتے ہیں اور اپنے لیے درست سمت کا تعین کرتے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کس طرح ان نوجوان کھلاڑیوں پر توجہ دیتا ہے کیونکہ ماضی میں ہم نے ایسے بہت سے باصلاحیت کرکٹر دیکھے ہیں جو انڈر19 لیول سے آگے نہ بڑھ سکے اور راستے میں ہی گم ہو گئے۔

پاکستان کی کرکٹ کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سابق ٹیسٹ کرکٹروں کی اکثریت سینیئر ٹیم کا کوچ بننے کے خواب دیکھتی ہے۔

کوئی ہیڈ کوچ بننے کے لیے تیار بیٹھا ہے تو کوئی ٹیم ڈائریکٹر بن کر اپنا شوق پورا کرنا چاہتا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی انڈر 19 ٹیم کا کوچ بننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

ہمارے سامنے انڈیا کی مثال موجود ہے جہاں راہل ڈراوڈ جیسا عظیم بیٹسمین انڈر 19 ٹیم کا کوچ بننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا اور اپنا وسیع تجربہ نوجوان کھلاڑیوں کو منتقل کرنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ انڈر 19 ورلڈ کپ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو نوجوان کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

سنتھ جے سوریا، انضمام الحق، مائیک ایتھرٹن، ناصرحسین اور برائن لارا، یہ وہ بڑے نام ہیں جو 1988 میں پہلے یوتھ ورلڈ کپ میں دنیا کے سامنے آئے اور بعد میں بین الاقوامی کرکٹ میں چھا گئے۔

اس کے بعد بھی کئی باصلاحیت نوجوان کرکٹر انڈر 19 ورلڈ کپ میں اپنی بہترین پرفارمنس سے اپنے روشن مستقبل کا پتہ دے گئے جن میں کرس گیل، نکولس پورن، کیئرن پولارڈ، کین ولیم سن، گریم سمتھ۔، مچل مارش، شان مارش، شین واٹسن، جو روٹ، روہت شرما اور وراٹ کوہلی کے نام نمایاں ہیں۔

اگر ہم پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں کی بات کریں تو انڈر19 ورلڈ کپ سے اپنی پہچان بنا کر بین الاقوامی سطح پر سٹار بننے والوں میں بابر اعظم اور شاہین آفریدی کے نام قابل ذکر ہیں۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ اس وقت پاکستان انڈر 19 ٹیم کی باگ ڈور سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف کے ہاتھوں میں ہے جو یقیناً اپنے دور کے بہترین بیٹسمینوں میں شمار ہوتے تھے۔

اس نوجوان ٹیم کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ محمد یوسف کے تجربے سے جس حد تک ممکن ہے، استفادہ کرے۔ ان کے علاوہ ٹیم کے مینیجر سابق ٹیسٹ کرکٹر شعیب محمد ہیں وہ بھی درست تیکنیک کے حامل بہترین بیٹسمین تھے۔ یقیناً ہمارے نوجوان بیٹسمین ان کے تجربے سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر