فلم ’نایاب‘ کے لیے کرکٹ سیکھتے وقت اکثر رو پڑتی تھی: یمنیٰ زیدی

قلم میں کرکٹر کے کردار کے لیے یمنیٰ زیدی کو یہ کھیل سیکھنا پڑا تھا کیونکہ انہیں بالکل بھی کرکٹ سے شغف نہیں، اسی لیے انہیں تقریباً ڈھائی ماہ کی تربیت کا حصہ بننا پڑا۔

اگر حالیہ چند برسوں میں پاکستان میں کامیاب اداکاروں کا نام لیا جائے تو سب سے اوپر بلاشبہ یمنیٰ زیدی کا نام ہی آئے گا، جس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک انہوں نے ناکامی کا سامنا ہی نہیں کیا۔

یمنیٰ زیدی کے ڈرامے ’تیرے بِن‘، ’ڈر سی جاتی ہے صلہ‘، ’پیار کے صدقے‘، ’بخت آور‘ اور ’صنفِ آہن‘ نہ صرف عوام میں مقبول ہوئے بلکہ انہیں بہترین اداکاری کے لیے سات ایوارڈز بھی مل چکے ہیں اور اب وہ فلمی دنیا میں قدم رکھ چکی ہیں۔

یمنیٰ کی فلم ’نایاب‘ 26 جنوری سے سینیما گھروں کی زینت بننے جا رہی ہے اور اسی سلسلے میں انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے تفصیلی گفتگو کی۔

کراچی میں ہونے والی اس ملاقات میں پہلا سوال ہی یہ تھا کہ فلم کی ریلیز سے پہلے مضطرب تو نہیں؟ جس پر یمنیٰ زیدی نے ہلکا سا مسکرا کر، ذرا سا جھجکتے ہوئے کہا کہ بے چینی یا اضطراب انہیں ڈرامے کی ریلیز کے وقت بھی ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’میں نے فلم کرنے کے لیے بہت سے افراد سے مشورہ کیا لیکن جب ایک مرتبہ فیصلہ کرلیا تو پھر ’نایاب‘ کو مضبوطی سے تھام لیا۔ اب میں بہت پُرسکون ہوں۔‘

یمنیٰ نے بتایا کہ ’نایاب‘ کا سکرپٹ بہت ہی اچھا تھا، جسے سننے کے بعد پہلے انہوں نے دو تین دن کا وقت مانگا تھا، لیکن پھر اسی شام فون کرکے ہامی بھرلی تھی۔

قلم میں کرکٹر کے کردار کے لیے یمنیٰ زیدی کو یہ کھیل سیکھنا پڑا تھا کیونکہ انہیں بالکل بھی کرکٹ سے شغف نہیں، اسی لیے انہیں تقریباً ڈھائی ماہ کی تربیت لینی پڑی اور گذشتہ سال جب کراچی میں شدید سردی پڑ رہی تھی تو وہ روز اٹھ کر تربیت کے لیے جاتی تھیں اور بالآخر وہ یہ کردار کرنے کے قابل ہو ہی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’کرکٹ مشکل ہے، بس جو بھی سیکھا تھا وہ نایاب میں پیش کردیا ہے۔‘

فلم ’نایاب‘ میں یمنیٰ زیدی ایک فاسٹ بولر کا کردار ادا کر رہی ہیں، جو ان کے خیال میں سب سے زیادہ مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا: ’تربیت کے دوران کئی مرتبہ  تو میں اپنی وین میں جاکر روئی بھی لیکن ہمت نہیں ہاری‘۔

اس ضمن میں یمنیٰ نے خود بہت زیادہ ریسرچ کی تھی اور کیونکہ وہ خود بائیں بازو کا استعمال کرنے والوں میں سے ہیں، اس لیے انہوں نے بولنگ بھی بائیں ہاتھ ہی سے کی، التبہ بلے بازی انہوں نے دائیں ہاتھ سے کی۔

کرکٹر کے کردار میں انہوں نے کرکٹ کی اصطلاحات کا بہت زیادہ استعمال نہیں کیا، جیسے ایل بی ڈبلیو تو انہیں معلوم تھا لیکن ’ہٹ دا وکٹ‘ انہیں معلوم نہیں۔

اس موقعے پر یمنیٰ نے انکشاف کیا کہ پروڈیوسرز نے انہیں سٹنٹ آرٹسٹ کی پیشکش کی تھی لیکن اس وقت وہ جوش میں کہہ بیٹھیں کہ ’نہیں میں سارا کام خود کرو گی۔ جب میدان میں گئی تو معلوم ہوا کہ وہ سب صحیح کہہ رہے تھے لیکن پھر سب کچھ خود ہی کیا اور زیادہ وائڈ گیندیں بھی نہیں کیں اور فاسٹ بولر کے طور پر یارکر زیادہ مارے تھے۔‘

اس دوران یمنیٰ نے یہ بھی بتایا کہ فلم میں ان کا کردار تو ایک بولر ہی کا تھا لیکن انہیں کھیلتے ہوئے معلوم ہوا کہ وہ بطور بلے باز زیادہ بہتر کھیل سکتی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عالمی سطح پر پاکستان کی جانب سے کھیلنا چاہیں گی کیونکہ اگر وہ کھیلیں گی تو اشتہارات بہت ملیں گے؟ تو اس پر انہوں نے کہا: ’لوگ پہلے میری فلم یاناب دیکھ لیں، اس کے بعد مزید کرکٹ کھیلنے کی بات کریں گے۔‘

گذشتہ پانچ برسوں میں یمنیٰ زیدی کو بہترین اداکاری پر سات ایوارڈز مل چکے ہیں اور وہ ٹی وی ڈراموں کی اس وقت کی بلا شبہ سب سے بہترین اداکارہ ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا وہ اس مرتبہ فلمی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے ایوارڈ کے لیے پرامید ہیں؟ یمنیٰ نے جواب دیا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ٹی وی میں مقابلہ زیادہ ہوتا ہے اور فلم میں مقابلہ اتنا نہیں ہوتا، اس لیے جو ہوگا دیکھا جائے گا لیکن ان کے لیے اصل ایوارڈ وہ ہے جو ان کے پرستار، ان کے مداح ان کی فلم دیکھنے کے لیے جائیں تو یہی ان کے لیے سب سے بڑا ایوارڈ ہوگا۔

’مجھے پرستاروں کی جانب سے ایوارڈ چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ وہ یہ فلم دیکھیں گے۔‘

نایاب میں سب سے بڑا سرپرائز یہ ہے کہ یمنیٰ نے اس میں باقاعدہ لڑائی جھگڑے بھی کیے ہیں اور مکے بھی چلائے ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’مجھے آج تک سکرین پر کسی نے ایسے نہیں دیکھا یعنی بال اور منہ نوچتے ہوئے، میں نے یہ سب کیا ہے۔‘

لیکن روایتی ہیروئنوں کی طرح اس فلم میں یمنیٰ نے ڈانس نہیں کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں رقص کا شوق بہت ہے اور مستقبل میں کسی فلم میں موقع ملا تو وہ ضرور کریں گی۔

سینیما کے لیے 2023 ایک ناکام ترین سال تھا۔ ایسے میں یمنیٰ کیوں اس سال ’نایاب‘ کے لیے پرامید ہیں، اس بارے میں وہ کہتی ہیں کہ انہیں اس فلم پر بھروسہ ہے اور وہ پرامید ہیں۔

یمنیٰ کے خیال میں پاکستان میں ڈراما انڈسٹری فلمی صنعت سے بہت بڑی ہے لیکن فلم کرتے ہوئے مزہ زیادہ آتا ہے کہ ہر کام تفصیل سے ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں مزید ڈرامے کرتی رہیں گی لیکن اگر اچھی فلم کی آفر آئی تو اس پر بھی غور کر سکتی ہیں۔

فلمی ستاروں کے بارے میں یمنیٰ نے کہا کہ انہیں فلم سٹار شان بہت ہی زیادہ پسند ہیں۔ انہوں نے ان کی سینیما میں شاید کم فلمیں دیکھی ہیں لیکن ان کے خیال میں شان کا سکرین چارم بہت زیادہ ہے۔

یمنیٰ زیدی نے کہا کہ ابھی وہ بہت سے کردار ٹی وی پر کرنا چاہتی ہیں۔

سوشل میڈیا ٹرولنگ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ عوام کو خود خیال کرنا چاہیے، جو وہ نہیں دیکھنا چاہتے وہ نہ دیکھیں لیکن کسی پر بے جا نکتہ چینی نہ کریں۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم