یہ کیا؟ لنگر میں پودے

اس سو روپے کی بریانی کی جگہ سو روپے کا پودا دے دیا جائے اور یہ ہر شہر میں منعقد ہونے والی مجالس میں ہر امام بارگاہ و مسجد کی انتظامیہ صرف ایک بار ایسا کر دے تو کروڑوں درخت وطن عزیز کی چھاتی پر لگ جائیں گے۔

ہم مذہبی تقریبات پر فقط تنقید کرتے ہیں اور اکثر کوشش نہیں کرتے کہ ان سے معاشرے کی تعمیر کا کام کیسے لیا جائے۔

ہر طرف سے بری خبریں ہی سننے کو ملتی ہیں بلکہ ایک ہی بری خبر کو اس قدر دہرایا جاتا ہے کہ یوں لگتا ہے یہ حادثہ ہمارے محلے میں ہوا ہے۔

 رپورٹنگ کے حروف تہجی سے نابلد، سفارش پر بھرتی کیے گئے اکثر مقامی رپورٹر سنسنی کے چکر میں دیکھنے والے کے جذبات سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ الفاظ کے نشتر بزرگوں، بچوں، جوانوں اور خواتین پر الگ الگ طرح کے نفسیاتی اثرات ڈال رہے ہیں۔

چند سال قبل بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی شعبہ نفسیات کے پروفیسر استاد محترم ڈاکٹر طاہر خلیلی صاحب سے پوچھا سر میڈیا کی سکرین کے ذریعے کیے گئے ان حملوں کے اثرات کو آپ کیسے دیکھتے ہیں اور اس پر کوئی تحقیقی کام کروایا ہے؟ انہوں نے فرمایا تھا کہ سکرین  پر جو کچھ جس انداز میں دکھایا جا رہا ہے یہ معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ ’ہم نے اس پر تحقیق بھی کرائی اور تجاویز بھی دیں مگر یہاں سنتا کون ہے؟‘

قومی میڈیا سے بھاگ کر سوشل میڈیا پر آ گئے۔ اب سوشل میڈیا کی یہ صورت حال ہے کہ جو قومی میڈیا دکھا رہا ہے وہ اسی کو لے کر چل رہے ہیں۔ ابھی تک ہم میں یہ شعور بھی نہیں آ سکا کہ کون سی تصویر سوشل میڈیا پر ڈالنی ہے اور کون سی صرف ذاتی نوعیت کی ہے؟

مرحوم کا آخری دیدار کہہ کر پہلے صرف میت کی تصویر ہوتی تھی اب تو ماشاء اللہ ویڈیوز آنے لگی ہیں۔ اسی طرح کہیں ایکسیڈنٹ ہوا ہے تو اس کی خون میں لت پت تصاویر اپ لوڈ ہو رہی ہیں، جانے ہم کب باشعور ہوں گے؟ آپ بھی کہیں گے وہ تصاویر کی شکل میں ذہنوں پر برا اثر ڈالتے ہیں اور آپ بھی تو الفاظ کی صورت میں یہی کچھ کر رہے ہیں۔ یہ وہ معاشرتی اثرات ہیں ہم جن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمدی مسجد ہلالی روڑ لاہور میں لوگوں کو دعوت دی گئی کہ ایک بین المسالک مجلس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انٹر فیتھ سرگرمیاں ویسے بھی ہمارے معاشرے میں بہت کم ہوتی ہیں اس لیے بہت سے لوگ اس میں شریک ہوئے۔ جب وہ مجلس عزا کے بعد نکلے تو اس انتظار میں تھے کہ اب مجلس کا لازمی حصہ لنگر ملے گا۔ انتظامیہ نے کہا قطار بنا لیں۔ لائن بھی اچھی خاصی طویل بن گئی۔ اب جب  لوگوں میں لنگر تقسیم ہونے لگا تو سب حیران رہ گئے کہ Ideas9 والے عجیب نیاز دے رہے ہیں۔ ہر ایک شریک مجلس کو ایک عدد پودا بطور نیاز دیا جا رہا ہے اور  کہا جا رہا ہے درخت لگائیں حسین کے لیے۔

پہلے تو لوگ حیرت کا اظہار کرتے مگر پھر خوش گوار مسکراہٹ کے ساتھ پودا وصول کر کے چلتے بنے۔ بچوں نے تو یہ نیاز لینے میں زیادہ دلچسپی دکھائی۔ میں سوچ رہا تھا عام طور پر مجالس کے اختتام پر بریانی یا نان حلیم دی جاتی ہے۔ سستی سے سستی بریانی کی پلیٹ سو روپے میں ملتی ہے۔ اب اس سو روپے کی بریانی کی جگہ سو روپے کا پودا دے دیا جائے اور یہ ہر شہر میں منعقد ہونے والی مجالس میں ہر امام بارگاہ و مسجد کی انتظامیہ صرف ایک بار ایسا کر دے تو کروڑوں درخت وطن عزیز کی چھاتی پر لگ جائیں گے۔ ان درختوں کی حفاظت زیادہ کی جائے کیونکہ ان سے وابستگی زیادہ ہے۔

ہم مذہبی تقریبات پر فقط تنقید کرتے ہیں اور اکثر کوشش نہیں کرتے کہ ان سے معاشرے کی تعمیر کا کام کیسے لیا جائے؟ سچی بات یہ  بھی ہے کہ جو جوان محبت و عقیدت سے معاشرے میں تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں اپنی چھٹیاں اور کھیل کود کا وقت ان مثبت سرگرمیوں میں لگاتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی بلکہ بعض اوقات ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

پاکستان کے تقریبا تمام چھوٹے بڑے شہروں میں دس محرم کو بہت سے جوان خون کا عطیہ دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس حوالے سے مہم چلاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہزاروں خون کی بوتلیں بلڈ بنکوں میں جمع ہوتی ہیں۔ مگر ہم ان محنت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ اصل میں ایسے ہی لوگ معاشرے کے اصل ہیرو ہیں جو نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، جو مستقبل کو دیکھ رہے ہیں اور روایت کی قدر کو پہچان رہے ہیں۔ جو حالات کا رونا رونے کی بجائے حالات کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تقریبا دو ماہ بعد ربیع الاول آ رہا ہے۔ کیا ہم بطور عاشق رسول کچھ ایسا کرنے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں جس سے ہمارے آقا ہم سے خوش ہوں اور اس سے ان کی امت کا بھی بھلا ہو؟ بارہ ربیع الاول کا پرشکوہ جشن ہم اسی زور و شور منائیں اور اس میں ایک مثبت اضافہ کر دیں۔ آپ یقین جانیے اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو بارہ ربیع الاول کو کروڑوں درخت لگ سکتے ہیں جس سے ہمارا ملک نبی اکرم کے گنبد کی طرح سبز ہو جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ