دیر کا ’چاقو بدنام ہوگیا‘

نواب آف دیر کے دربار سے لے کر موجودہ دور تک اپر دیر کے لوہاروں کے ہنر کا جادو برقرار ہے۔

اپر دیر میں تیار ہونے والے چاقو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ دیر کے مقامی لوہاروں کے بنے چاقو پاکستان اور دوسرے ممالک کے لوگوں کو بطور تحفہ بھیجے جاتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے چاقو کا استعمال کم ہوا ہے لیکن پھر بھی دیر کے لوہاروں نے اس فن کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

دیر کے لوہار بہت سی قسم کے چاقو تیار کرتے ہیں اور اس کے لکڑی والے حصے پر اپنے فن اور ہاتھوں کی صفائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

ایک چاقو کی قیمت دو سو روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ مہنگے چاقو ڈیمانڈ پر تیار کیے جاتے ہیں اور ان پر سونے اور قیمتی پتھروں کا استعمال بطور نقش و نگار ہوتا ہے۔  

دیر میں چاقو کے کاروبار سے وابستہ استاد فضل مولا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ان کا خاندان 1966 سے اس پیشے سے وابستہ ہے، وہ اُس وقت ایک چاقو دو روپے کا بنا کر دوکان داروں کو بیچتے تھے۔

آج سے 70 سال پہلے دیر میں پہلا چاقو حبیب خان قاضی اور غوث الرحمان قاضی نے بنایا تھا۔ انہوں نے یہ چاقو نواب آف دیر شاہ جہان خان کو بطور تحفہ دیا۔

حبیب اور غوث نواب آف دیر کے دربار میں قاضی تھے اور لوگوں کے فیصلے کرتے تھے۔ اُس وقت نواب آف دیر ہر سال چاقو بنانے والے کاری گروں کے درمیان مقابلے کرواتے اور جو کاریگر اچھا چاقو بناتے انہیں انعام سے نوازا جاتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نواب آف دیر کے دور میں چاقو بنانے کے کئی کارخانے تھے، جنہیں ریاستی سرپرستی حاصل تھی۔ اُن کے دور میں جو کارخانے موجود تھے آج بھی وہ مقامات کارخانوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

پاکستان بننے کے بعد دیر میں یہ کاروبار کافی عرصے تک فعال رہا، لیکن موجودہ دور میں حکومتی سرپرستی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ کاروبار، فن اور صنعت ختم ہوتی جا رہی ہے۔

جدید دور میں ایک طرف جہاں دیر کے لوہاروں نے اس ہنر کو زندہ رکھا ہے وہیں دوسری جانب چاقو کے کاروبار پر دہشت گردی کے اثرات بھی ہیں۔

ان کاروباری حضرات کا کہنا ہے جب امن و امان تھا تو ہمیں خلیجی ممالک خاص کر افعانستان سے زیادہ آڈرز آتے تھے، جو اب نہیں آ رہے۔  حالات خراب ہونے سے پہلے یہاں سو کے قریب چاقو اور چھریاں بنانے والوں کی دوکانیں تھیں، جو اب 30 سے بھی کم رہ گئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ویڈیو