افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو پاکستان فوج کے ترجمان کی حالیہ طویل پریس کانفرنس میں افغانستان پر کی گئی تنقید پر کہا ہے کہ افغانستان کو ’دھمکی آمیز‘ بیانات اور داخلی معاملات میں ’دخل اندازی‘ قبول نہیں نیز یہ بیانات ’حقائق کے منافی‘ ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو اپنے ایکس پر بیان میں کہا کہ ’افغانستان کے حکومتی اور سماجی ڈھانچے سے متعلق بیانات حقائق کے منافی ہیں اور افغانستان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی اور دھمکی آمیز بیانات افغان قوم کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ طرز عمل اور سنجیدہ بیانات کی روش اختیار کی جائے۔‘
امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان کا پاکستانی فوج کے ترجمان کے حالیہ بیان پر ردعمل
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) January 6, 2026
پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کے حکومتی اور سماجی ڈھانچے سے متعلق دیے گئے بیانات نہ صرف حقائق کے منافی ہیں
۴/۱
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’پاکستان افغانستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے کے بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرے۔ افغانستان ایک خودمختار اور مستحکم ملک ہے، جو ایک مضبوط سکیورٹی ڈھانچے اور مقتدر قیادت کا حامل ہے اور اپنی پوری سرزمین پر مکمل حاکمیت رکھتا ہے۔‘
امریکہ کے افغانستان کے لیے سابق خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے اپنے ردعمل میں پاکستان اور افغانستان کو دوحہ طرز کے معاہدے کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اس مجوزہ معاہدے کے لیے بات چیت کو تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’اپنے حالیہ بیان میں، پاکستان کے شریف چوہدری نے امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کا حوالہ دیا۔ اگرچہ ان کی طرف سے یہ غلط فہمی ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ معاہدہ مسائل کو کور کرتا ہے، یہ خیال ایک دلچسپ آئڈیا کی طرف لے جاتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’درحقیقت، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک اسی طرز کا معاہدہ، جس میں دونوں ممالک عہد کریں کہ وہ کسی فرد یا گروہ بشمول داعش اور ٹی ٹی پی کو اپنے علاقوں کو دوسرے کی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اور جس میں وہ تیسرے فریق کی نگرانی قبول کریں، دونوں ممالک کے مفادات کے مطابق ہوگا۔
’طالبان رہنماؤں کے ساتھ حالیہ بات چیت کی بنیاد پر، میرا خیال ہے کہ وہ اس طرح کے معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اور یہ ان دونوں پڑوسیوں کے تعلقات کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ بال پاکستان کے کورٹ میں ہے۔‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف نے منگل کو راولپنڈی میں پریس بریفنگ سے خطاب میں کہا تھا کہ ملک میں ’دہشت گردی‘ کے بڑھنے کی وجہ پڑوسی ملک افغانستان میں موجود عسکریت پسند ہیں۔
انہوں نے 2025 میں پاکستان میں دس بڑے ’دہشت گرد‘ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے کرنے والے تمام افغان شہری تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’افغان طالبان اپنی معیشت چلانے کے لیے دہشت گردی کو سپورٹ کرتے ہیں۔‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’افغانستان میں حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔‘
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’افغانستان میں ہم نے ٹی ٹی اے نہیں بلکہ ٹی ٹی پی کو نشانہ بنایا جو ہمارا جائز حق تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی حکومت افغانستان سے مدد مانگ رہی ہے، جبکہ وہ براہِ راست پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’ہر سیاسی جماعت پر ٹی ٹی پی نے حملہ کیا ہے تو سوال یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی نے کبھی حملہ کیوں نہیں کیا۔‘