چار کروڑ لوگ چیٹ جی پی ٹی سے روزانہ طبی مشورہ لیتے ہیں: اوپن اے آئی

سروے کے مطابق پانچ میں سے تین بالغ افراد نے پچھلے تین ماہ میں کم از کم ایک بار مصنوعی ذہانت سے طبی معاملات میں مشورہ کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت ڈپریشن کے شکار لوگوں کو خطرناک معلومات دے رہی ہے (اینواتو/انڈی گرافکس)

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے مطابق دنیا بھر میں چار کروڑ سے زیادہ لوگ اب روزانہ کم از کم ایک بار صحت سے متعلق مشورے کے لیے ’چیٹ جی پی ٹی‘ کا استعمال کرتے ہیں۔

پیر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں سان فرانسسکو میں قائم ٹیکنالوجی کمپنی نے کہا کہ عالمی سطح پر چیٹ جی پی ٹی کو بھیجے گئے پانچ فیصد سے زیادہ پیغامات صحت کی دیکھ بھال کے بارے میں ہیں۔

امریکہ میں پانچ میں سے تین بالغوں نے کہا کہ انہوں نے گذشتہ تین مہینوں میں کسی نہ کسی وقت صحت کے مقاصد کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال کیا ہے، اور ان میں سے 10 میں سے سات بات چیت کلینک کے معمول کے اوقات کے علاوہ ہوئیں۔

ان لوگوں میں سے 55 فیصد نے کہا کہ انہوں نے اسے ’علامات کو چیک کرنے یا جانچنے‘ کے لیے استعمال کیا، جبکہ 48 فیصد نے کہا کہ اس نے انہیں ’طبی اصطلاحات یا ہدایات کو سمجھنے‘ میں مدد کی اور 44 فیصد ’علاج کے اختیارات کے بارے میں جاننا‘ چاہتے تھے۔

یہ سروے، جس کی اطلاع سب سے پہلے ’ایکسیوس‘ نے دی تھی، امریکہ کے مہنگے اور اکثر غیر فعال صحت کے نظام میں چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی چیٹ بوٹس کے تیزی سے پھیلاؤ کو نمایاں کرتا ہے، حالانکہ اس پر ضابطہ یا نگرانی نہ ہونے کے برابر ہے۔

کیلیفورنیا اور ٹیکسس جیسی ریاستوں نے صحت کی دیکھ بھال میں اے آئی کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، لیکن کانگریس نے ردعمل ظاہر کرنے میں سستی دکھائی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ریاستی اے آئی قوانین کی نفی کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اوپن اے آئی کو کئی مقدمات کا سامنا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے لوگوں کو خودکشی پر اکسایا یا ان کے واہموں کو مزید خراب کیا۔ اس رجحان کو کچھ ماہرین نے ’اے آئی سائیکوسس‘ کا نام دیا ہے۔

لیکن پیر کو اپنی رپورٹ میں اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کو ملک کے پیچیدہ طبی نظام اور محدود وسائل والے دیہی ہسپتالوں کے نیٹ ورکس سے نبردآزما امریکیوں کے لیے ایک اہم وسیلہ قرار دیا۔

کمپنی نے کہا، ’امریکہ میں مریضوں اور فراہم کنندگان دونوں کے لیے، چیٹ جی پی ٹی ایک اہم اتحادی بن گیا ہے، جو لوگوں کو صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے، انہیں اپنی وکالت کرنے کے قابل بناتا ہے اور بہتر صحت کے نتائج کے لیے مریضوں اور فراہم کنندگان دونوں کی مدد کرتا ہے۔‘

’امریکی اپنی صحت پر زیادہ اختیار حاصل کرنے کے لیے معلومات سے لیس ہونے کی خاطر اے آئی اور چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کر رہے ہیں، خاص طور پر جب وہ ایسے نظام سے نمٹ رہے ہوں جو سمجھنے میں مشکل ہے اور بہت زیادہ سیاق و سباق کے بغیر فیصلے کرتا ہے۔‘

اس نے امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی گذشتہ تحقیق کا حوالہ دیا جس میں دکھایا گیا ہے کہ 66 فیصد امریکی معالجین نے 2024 میں کسی نہ کسی قسم کی اے آئی کا استعمال کیا، جو 2023 میں 38 فیصد تھا۔ اس کا مقصد وزٹ نوٹ دستاویز کرنے سے لے کر دیکھ بھال کے منصوبوں کا مسودہ تیار کرنے اور طبی تحقیق کا خلاصہ کرنے تک تھا۔

وہ سروے صرف چیٹ بوٹس تک محدود نہیں تھا، جس کا مطلب ہے کہ اس میں غالباً زیادہ خصوصی یا محدود انتظامی اور پیشہ ورانہ اے آئی ٹولز کی وسیع رینج شامل تھی۔

ڈچ ہیلتھ انڈسٹری کنسلٹنسی ’وولٹرز کلوور‘ کے اسی طرح کے ایک سروے میں پایا گیا کہ پانچ میں سے دو سے زیادہ امریکی ہیلتھ کیئر ورکرز نے ہفتے میں کم از کم ایک بار جنریٹو اے آئی (یعنی وہ اے آئی جو ٹیکسٹ یا ویڈیو جیسا مواد تخلیق کرتا ہے، جیسے چیٹ جی پی ٹی) کا استعمال کیا، جن میں 46 فیصد نرسیں اور 41 فیصد فارماسسٹ شامل ہیں۔

اوپن اے آئی نے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی ایسے دیہی علاقوں میں، جہاں ہسپتالوں کی شدید کمی ہے، خاص طور پر مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اور امریکہ بھر میں ایسے علاقوں سے چیٹ بوٹ کو ہفتہ وار تقریباً 580,000 صحت سے متعلق پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔

کمپنی نے کہا: ’اے آئی خود سے کوئی بند ہسپتال دوبارہ نہیں کھول سکتا، ختم کی گئی زچہ و بچہ کی خدمات کو بحال نہیں کر سکتا، یا دیگر اہم لیکن ختم ہوتی ہوئی خدمات کی جگہ نہیں لے سکتا۔

’لیکن یہ پسماندہ علاقوں میں لوگوں کو معلومات کی تشریح کرنے، دیکھ بھال کے لیے تیاری کرنے اور رسائی میں حائل خلیج کو پاٹنے میں مدد کر کے قلیل مدتی کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ نایاب معالجین کو وقت بچانے اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔‘

کمپنی نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی ہیلتھ کیئر پالیسی کی سفارشات کا ایک سلسلہ جاری کرے گی، جس میں ریگولیٹری اصلاحات شامل ہیں تاکہ اے آئی کمپنیوں کے لیے ہیلتھ کیئر مارکیٹ میں داخل ہونا آسان بنایا جا سکے۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی