لوگ نوکری پر نہیں رکھتے کہ تم بدنام ہو: بگرام کے سابق قیدی

افغانستان میں امریکی بگرام جیل سے رہائی پانے والے چند سابق قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کی داستان

’میرے شوہر کو چمن سے گرفتار کیا گیا اور بگرام جیل میں ڈال دیا گیا۔ ان پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا۔ لیکن وہ ثابت نہیں کرسکے کہ وہ دہشت گرد ہیں تو انہوں نے ان کو چھوڑ دیا۔‘

پاک پتن کی رہائشی غلام فاطمہ نے بتایا: ’شوہر کی گرفتاری کے بعد ہم چار مہینے تک انہیں ڈھونڈتے رہے لیکن پھر انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے ذریعے پتہ چلا کہ افتخار بگرام جیل میں قید ہیں اور انہوں نے درخواست کی ہے کہ ان کے گھر والوں سے ان کی بات کروائی جائے۔‘

فاطمہ کے مطابق ان کے شوہر افتخار کو 2010 میں گرفتار کیا گیا اور 2014 میں رہا کیا گیا۔ جس کے تین سال بعد ان کا انتقال ہوگیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غلام فاطمہ سے میری ملاقات جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کے توسط سے ہوئی، جس نے ملکی اور غیرملکی جیلوں میں بند پاکستانی قیدیوں پر ہونے والے تشدد، خصوصاً ذہنی معذور قیدیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔

جے پی پی کی جانب سے گذشتہ روز افغانستان میں امریکی بگرام جیل سے رہائی پانے والے پاکستانی قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کی مشکلات پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی گئی۔ اس رپورٹ میں 2014 میں بگرام جیل سے رہائی پانے والے 43 میں سے 11 قیدیوں کی کہانیاں بیان کی گئی ہیں کہ وہ کس طرح پاکستان سے بگرام جیل پہنچے اور وہاں انہیں کیا کیا برداشت کرنا پڑا۔

امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آغاز کے قریباً اگلے ہی سال 2002 میں بگرام جیل قائم کی گئی تھی، جس کا اکثر و بیشتر بدنام زمانہ امریکی جیل ’ گوانتانامو بے‘ سے بھی موازنہ کیا جاتا رہا ہے۔ امریکہ کی اس جنگ میں پاکستان کود تو گیا، لیکن اس کا خمیازہ اسے سابق قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کی صورت میں بھگتنا پڑا اور ساتھ ہی پاکستانیوں کے لاپتہ ہونے کی بھی رپورٹس سامنے آئیں، جن کے بارے میں بعدازاں پتہ چلتا کہ وہ افغانستان کی امریکی جیل میں قید ہیں۔

فاطمہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر افتخار بھی کام کی تلاش میں افغانستان گئے تھے، جہاں انہیں امریکی فورسز نے پکڑ کر بگرام جیل منتقل کر دیا۔ جے پی پی کے مطابق دوران قید افتخار پر بدترین تشدد کیا گیا۔ جیل سے رہائی کے کچھ عرصہ بعد ہی افتخار تو چل بسے، لیکن ان کی اہلیہ اور بچوں کے لیے مشکلات کے نئے دور کا آغاز ہوگیا، جس سے یہ خاندان اب بھی نہیں نکل پایا ہے۔

بگرام جیل تو اب بند ہوچکی ہے، لیکن اس جیل سے رہائی پانے والے سابق قیدی حمید اللہ کی زندگی کے مسائل ختم نہیں ہوئے۔ انہوں نے اپنی کہانی کچھ یوں بیان کی: ’مجھے 2008 میں افغانستان سے پکڑا گیا اور میں چھ سال بگرام جیل میں رہا۔ اس دوران امریکی مختلف طریقوں سے سزا دیتے رہے۔ پہلے میں افغانوں کے ساتھ رہا۔ افغانوں نے تو بہت زیادہ مارا پیٹا۔ ابھی تک میری کمر اور پسلیوں میں زخم ہیں۔ پھر مجھے پاکستان کے حوالے کر دیا گیا، یہاں بھی میں تین چار مہینے قید میں رہا اور پھر مجھے ضمانت پر رہائی ملی۔‘

حمید اللہ کا تعلق وزیرستان سے ہے تاہم ان کا خاندان کچھ سال قبل کراچی منتقل ہو گیا تھا۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن کے آغاز کے بعد 16 سالہ حمید اللہ وہاں اپنے خاندان کی بچی کھچی اشیا لینے گئے اور پھر وہاں سے افغانستان چلے گئے، جہاں بقول ان کے وہ ایک مدرسے میں داخلہ لینا چاہتے تھے، تاہم انہیں امریکی فورسز نے پکڑ لیا اور بگرام جیل ان کا مقدر بنی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امریکیوں کے مطابق انہیں اس لیے پکڑا گیا کیونکہ ان کے پاس پاسپورٹ یا ویزہ نہیں تھا، اس کے علاوہ ان پر کوئی الزام نہیں تھا۔

حمید اللہ کہتے ہیں کہ بگرام جیل سے رہائی پانے کے باوجود بھی قسمت کی ستم ظریفی نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور کوئی انہیں نوکری پر نہیں رکھتا۔ ’لوگ کہتے ہیں کہ تم بدنام ہو۔ اُدھر (بگرام جیل میں) تو پانچ چھ سال جو بھی گزارے، وہ مشکل تھے اور یہ سب اکیلے ہی برداشت کیا لیکن اب میں شادی شدہ ہوں، میرے بچے بھی ہیں لیکن کوئی ملازمت نہیں دیتا۔ کہتے ہیں تم لوگ خطرناک ہو۔ میرے لیے جیل سے بھی برے حالات ہیں۔‘

رپورٹ کے اجرا کی اس تقریب میں شاہ خالد کے بھائی خان بہادر بھی موجود تھے۔ بگرام جیل کے سابق قیدی شاہ خالد اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

2007 میں جب شاہ خالد کو گرفتار کیا گیا، تو اس وقت ان کی عمر 16 برس تھی۔ بگرام جیل میں انہیں جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں انتہائی سخت سردی میں محض زیرجامے پہن کر رہنے پر مجبور کیا جاتا اور کئی کئی گھنٹوں تک جگایا جاتا۔ جب شاہ خالد کو کینسر کی تشخیص ہوئی تو وہ اس وقت بگرام سے واپسی کے بعد ہری پور جیل میں تھے۔ انہیں گھر بھیج دیا گیا، جہاں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ محض چند ہفتے ہی گزار سکے۔ اس دوران مرض بڑھنے کے باعث ڈاکٹروں کو ان کی ٹانگ کاٹنی پڑی اور پھر 2016 میں 25 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔

دیگر کہانیاں

سلیم خان (فرضی نام)

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سلیم خان پشاور میں بحیثیت بڑھئی کام کرتے تھے۔ انہیں افغان شہر جلال آباد سے ملازمت کی پیشکش آئی۔ اگرچہ یہ سفر محفوظ نہیں تھا لیکن بہتر مراعات کے باعث انہوں نے اسے قبول کر لیا اور افغانستان پہنچ گئے لیکن چند دن بعد ہی افغان سکیورٹی فورسز نے اس گھر پر چھاپہ مارا جہاں سلیم کام کر رہے تھے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ بگرام جیل میں ان پر بدترین تشدد کیا گیا، جس میں سردیوں میں اے سی کی ٹھنڈک اور گرمیوں میں ہیٹر کی گرمی سے تکلیف پہنچانا بھی شامل تھا۔ تقریباً آٹھ سال ماورائے عدالت قید میں رہنے کے بعد انہیں 2014 میں رہائی ملی۔

ریحان آفریدی (فرضی نام)

ریحان آفریدی بہتر ملازمت کی تلاش میں اپنے والد کی اجازت سے گھر سے نکلے اور پھر اپنے کزن سے ملنے کے لیے پشاور جا پہنچے۔ پشاور میں انہوں نے کچھ نئے دوست بنائے، جن کا تعلق افغان صوبے ننگرہار کے علاقے غنی خیل سے تھا۔ نئے دوستوں نے ریحان کو غنی خیل کی دلکشی کے قصے سنائے اور وہ ان کے ساتھ چل پڑے لیکن پاکستان واپسی کے سفر میں افغان پولیس اہلکاروں نے انہیں گرفتار کرلیا، جس کے بدلے ان کے افغان دوستوں نے کچھ رقم وصول کرلی اور ریحان کو امریکی فوجیوں کے حوالے کر دیا گیا، جہاں سے بگرام جیل ان کا مقدر بنی۔ 2014 میں رہائی پانے سے قبل انہوں نے آٹھ سال قید میں گزارے۔

عثمان یوسف (فرضی نام)

تبلیغی جماعت سے منسلک عثمان یوسف کو امریکی فورسز نے افغانستان سے گرفتار کیا تھا۔ وہ دس افراد کے ساتھ سفر کر رہے تھے لیکن لمبی داڑھی کی وجہ سے صرف انہیں ہی گرفتار کیا گیا۔ عثمان کے مطابق ان پر اپنی گاڑی میں پاکستان سے اسلحہ افغانستان منتقل کرنے کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔ وہ سات سال تک بگرام جیل میں قید رہے، جہاں انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

ہارون (فرضی نام)

2004 میں ہارون ایران کے شہر قُم میں چاولوں کی تجارت کا کام کر رہے تھے۔ محرم کے مہینے میں چونکہ کاروبار میں اتنی تیزی نہیں ہوتی اور زیادہ تر ایرانی شہری، زیارت کے لیے عراق جاتے ہیں، ہارون نے بھی عراق جانے کا فیصلہ کیا، حالانکہ وہ اہلِ تشیع نہیں تھے۔ بغداد میں جس مقام پر وہ رہائش پذیر تھے، وہاں برطانوی فوجیوں نے چھاپہ مارا اور فائرنگ شروع کردی۔ اس افراتفری میں ہارون بے ہوش ہوگئے اور جب آنکھ کھلی تو انہوں نے خود کو ہسپتال کے بستر پر  اس حالت میں پایا کہ ان کے دائیں جبڑے کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، کچھ دانت غائب تھے اور وہ دائیں نتھنے سے سانس نہیں لے سکتے تھے۔ ان سے کئی دن تک ایک سیل میں تفتیش کی گئی اور پھر امریکی حکام کے حوالے کردیا گیا، جہاں سے انہیں بگرام جیل منتقل کردیا گیا۔

یاسر وزیر (فرضی نام)

2003 میں ویڈیو کیسٹ فروخت کرنے والے یاسر وزیر نے کام کے سلسلے میں پشاور کا رخ کیا۔ انہیں پاک افغان سرحد پر سپن بولدک کے علاقے سے اُس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ ایک مسجد میں سو رہے تھے۔ وہ وہاں لنڈے کے جوتے فروخت کرنے گئے تھے۔ یاسر کے بھائی کے مطابق بچپن میں سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے انہیں کچھ دماغی مسائل تھے اور وہ بہت گرم مزاج تھے۔ یاسر جیل میں جھگڑالو کے طور پر مشہور تھے اور خراب سہولیات پر گارڈز سے لڑ پڑتے تھے۔ انہوں نے دس سال بگرام میں گزارے۔

گل یعقوب (فرضی نام)

16 سالہ گل یعقوب دسویں جماعت میں تھے جب 2010 میں انہیں امریکی فورسز نے گرفتار کیا۔ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان گئے تھے۔ بگرام جیل منتقلی سے قبل 25 دن تک وہ بلیک جیل میں بھی رہے، جہاں تفتیش کے لیے تشدد اور انتہائی سخت طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔ گل یعقوب کو 2014 میں  بگرام جیل سے رہائی ملی۔

عمر شاہ (فرضی نام)

ایبٹ آباد کے رہائشی عمر کو امریکی فورسز نے 2008 میں گرفتار کیا تھا۔ عمر کا خاندان سیمنٹ، سٹیل اور سریے کی سپلائی کا کام کرتا تھا، جس کے لیے لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں سفر کرنے کی ذمہ داری عمر کی تھی۔ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ رائے ونڈ بھی جایا کرتے تھے، جہاں کسی نے انہیں بتایا کہ افغانستان سمینٹ وغیرہ کے کاروبار کے لیے اچھی مارکیٹ ہے۔

عمر بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب وہ افغانستان میں دیگر چھ افراد کے ساتھ کہیں جا رہے تھے تو ایک ہیلی کاپٹر نے بمباری شروع کر دی۔ دو تین دن بعد جب انہیں ہوش آیا تو وہ افغانستان میں خوست کے ایک ہسپتال میں تھے اور ان کا دایاں ہاتھ ضائع ہوچکا تھا۔ جس کے بعد انہیں بگرام جیل منتقل کر دیا گیا۔ جیل کے دنوں میں عمر نے اپنے دائیں ہاتھ سے خط لکھ کر اپنے گھر بھیجے، لیکن ان کے اہلخانہ ان کی لکھائی نہیں پہچان سکے۔ عمر کے تینوں بچے یہ سمجھتے تھے کہ ان کے والد شاید کام کے سلسلے میں کہیں گئے ہوئے ہیں۔ 2014 میں واپسی کے بعد سے وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنے بچوں کے ساتھ گھر میں گزارتے ہیں۔

مشتاق ایوب (فرضی نام)

مشتاق ایوب کراچی میں مزدوری کرتے تھے۔ ان کے والد کی کپڑے کی دکان تھی۔ جب مشتاق 25 برس کے تھے تو ان کے خاندان کو مالی مشکلات نے گھیر لیا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک پرانے قرضے کی وصولی کے لیے افغانستان جانے کا فیصلہ کیا۔ رقم تو انہیں نہیں ملی لیکن واپسی پر کابل کے قریب انہیں ایک چیک پوسٹ پر روک لیا گیا اور پاسپورٹ نہ ہونے کے باعث پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ وہ نو سال تک بگرام جیل میں قید رہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان