پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی چلانے والے ڈرائیور

اپنے ملک کی لاری کی حالت دیکھ لیں۔ اسی طرح چل رہی ہے کہ ’نہ انجن کی خوبی نہ کمالِ ڈرائیور، چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے۔‘

(پکسا بے)

بھلے وقتوں میں دادی جان ٹرین میں سفر کر رہی تھیں۔ پسماندہ سے گاؤں میں پلی بڑھی سادہ سی جٹی نے ذرا سخت طبیعت پائی تھی۔

ان کی سیٹ کی اوپر والی برتھ پر ایک خاتون پاؤں لٹکائے بیٹھی تھی۔ نادانستہ اس کا پاؤں دادی مرحومہ کے سر سے ٹکرا گیا تو انہوں نے خاتون کو وارننگ دی کہ دوبارہ اس کی ایسی کسی حرکت سے ناگہانی صورت حال پیش آ سکتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد غیر ارادی طور پر مسافر عورت کا پاؤں پھر ان کے سر سے آ لگا۔ دادی حضور نے اس کے دونوں پاؤں پکڑ کر اسے پوری قوت سے نیچے کھینچ لیا۔ بے چاری منہ کے بل آ گری۔ مرحومہ اپنا یہ واقعہ سنا کر آخر میں فرماتیں، ’اس کے بعد باقی کا سفر خیریت سے گزرا۔‘

ایک مرتبہ دادی محترمہ نے بس میں بھی سفر کیا تھا۔ آپ لاری اڈے پر پہنچیں تو مطلوبہ بس مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ ڈرائیونگ سیٹ خالی تھی، آپ اسی پر براجمان ہو گئیں۔ ڈرائیور آیا تو اس نے دادی جان کو اٹھنے کو کہا۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ ڈرائیور نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ اماں جی دراصل یہاں بیٹھ کر میں نے لاری چلانی ہے۔ بہشتی خاتون نے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے جواب دیا ’پتر، تم کہیں اور بیٹھ کر لاری چلا لو، میں تو یہیں بیٹھوں گی۔‘

ایک ناخوشگوار سا واقعہ سردار ہرنام سنگھ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ وہ رات گئے کلب سے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھا تو گھبرا کر باہر نکلا اور ٹیلی فون بوتھ سے پولیس کا نمبر ملا کر فریاد کی، ’جلدی آؤ مترو! کوئی چور کا پتر میری کار سے سٹیئرنگ، گیئر، بریک وغیرہ نکال کر لے گیا ہے۔‘

پریشان حال سردار پولیس کے انتظار میں دوبارہ گاڑی میں جا کر بیٹھا تو ایک دفعہ پھر اچھل کر نکلا اور پولیس کو کال کر کے چیخا، ’واہ گرو کی جے! آنے کی ضرورت نہیں بھائیو، میں غلطی سے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔‘

قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ ہر نام سنگھ کی کار کی پچھلی سیٹ اور ہماری گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ آپ کی دعا سے ہم ایک عدد پرانی جاپانی کار رکھتے ہیں۔ ویسے جاپانی ہونے کی تو اس پر تہمت ہی باقی رہ گئی ہے، مکینک حضرات نے جگاڑ لگا لگا کر اس کے تنِ ناتواں میں چینی، تائیوانی، کابلی، کورین اور پاکستانی پرزے اس طرح پھنسائے ہیں کہ وہ وطن عزیز کی طرح چوں چوں کا مربہ ہو گئی ہے۔

اسے مختلف ممالک کے پرزے اس طرح باہم مل کر چلا رہے ہیں جیسے دنیا کے در در سے ہمارے کشکول میں پڑنے والی امداد یہ ملک رواں رکھے ہوئے ہے۔ یہ گاڑی باہر سے جتنی کھٹارہ ہے اندر سے بھی اتنی ہی ناکارہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ جو فرمایا گیا ہے کہ امیر لوگ دل کے ڈاکٹروں کے پاس اس لیے زیادہ جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو باور کرایا جا سکے کہ ان کے سینے میں بھی دل ہے۔ اسی طرح ہماری کار بھی ہفتے میں دو دن ضرور ورکشاپ میں جانا پسند کرتی ہے تاکہ دیکھنے والوں کو یقین ہو جائے کہ اس کے سینے میں بھی انجن ہے۔ اس گاڑی کے پٹرول اور سی این جی سسٹم میں پاکستان اور بھارت کی طرح شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ پٹرول کا نظام ٹھیک کرایا جائے تو سی این جی کٹ خراب ہو جاتی ہے اور اسے درست کرائیں تو کاربوریٹر جواب دے جاتا ہے۔

یہ وزیروں اور افسروں کی طرح تیل اور گیس کو مال مفت سمجھ کر پھونکتی ہے اور اس بارے میں مستریوں کی مشترکہ رائے ہے کہ ’یہ مرضِ عشق ہے، جاتا نہیں۔‘

ہم اسے اس لیے آہستہ نہیں چلاتے کہ اس کے بریک نہیں، اس کے لیے تو کھمبے وغیرہ سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔ دراصل ہماری گاڑی خود تیز رفتاری کی اتنی مخالف ہے، جتنی مریم نواز فردوس عاشق اعوان کی۔ ہم اسے دھلوانے وغیرہ سے بھی گریز کرتے ہیں کیونکہ اس کے انجن کے ایسے خفیہ خانوں میں پانی گھس جاتا ہے کہ اسے دوبارہ سٹارٹ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اپنی کار کی بے شمار ’خوبیوں‘ کے باوجود ہم اس کے احسان کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں کہ وہ ہر روز ہمیں گاؤں سے جائے وکالت، ضلع کچہری پہنچا دیتی ہے۔ بچے کئی دفعہ اسے تبدیل کرنے کا پر زور مطالبہ کر چکے ہیں۔ ہم ہر بار وعدہ بھی کرتے ہیں مگر اقتصادی وجوہ کی بنا پر یہ وعدہ عمران خان کی ’تبدیلی‘ کے انجام سے ہی دوچار ہوتا آیا ہے۔

ایسے میں ہم بچوں کو کسی گھاگ سیاستدان کی طرح تسلی دیتے ہیں کہ ’یہ جاپانی چیز ہے بچو! اب اس جیسی مضبوط اور آرام دہ گاڑیاں کہاں ملتی ہیں؟‘

ویسے یہ بھی ہم سفید پوشوں کا عجیب وطیرہ ہے کہ اگر نئی سائیکل خریدنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو اپنی پطرسی سائیکل کو تھپتھپا کر کہتے ہیں، ’یہ انگریز دور کا حلالی لوہا ہے جناب! آج کے دو نمبری دور میں ایسی سائیکل کون بناتا ہے؟‘

مگر وسائل ہاتھ آتے ہی نئی گاڑی یا سائیکل خرید لیتے ہیں اور اپنے موقف پر یو ٹرن لے کر کہتے ہیں، ’نئی چیز نئی ہوتی ہے بھائی صاحب! پرانی گاڑیوں کا ان سے کیا مقابلہ؟‘

اپنے ملک کے بارے میں بھی ہمارا رویہ کچھ ایسا ہی ہے۔ جب تک یورپ یا امریکہ کا ویزا نہیں ملتا ’ہم کو وطن کی لُو بھی ہے پیاری، غیروں کی بادِ صبا سے‘ گنگناتے ہیں، لیکن جونہی باہر جا کر آباد ہونے کے آثار نظر آتے ہیں، غیروں کی بادِ صبا کے گن گانے لگتے ہیں۔ پہلی ہی چھٹی پر آ کر دوستوں کو بتاتے ہیں، ’میں نے تو فیملی کی امیگریشن کے لیے بھی اپلائی کر دیا ہے یار، یہ پاکستان بھی کوئی ملک ہے رہنے کے لائق؟‘

بہرحال ہم ان لوگوں میں سے نہیں، ہمیں اپنی گاڑی سے بھی قلبی لگاؤ ہے اور ملک سے بھی، مگر کیا کیا جائے کہ دونوں اپنے چال چلن کی بدولت دنیا کو انٹرٹین کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ مہذب دنیا میں ملک کی لاری کے حقیقی ڈرائیور عوام کے منتخب نمائندوں کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر ہمارے ڈرائیور عشروں سے مجبوراً ہر نام سنگھ کی طرح پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر اسے چلانے کی سعی کر رہے ہیں، جہاں سٹیئرنگ ہوتا ہے، گیئر نہ بریک۔

ہٹ دھرم دادیاں ڈرائیونگ سیٹ پر خود بیٹھی ہیں، جو انہیں حکم دیتی ہیں کہ تم کہیں اور بیٹھ کر گاڑی چلاؤ، ہم تو یہیں بیٹھیں گی۔ اس گرد گرد سفر میں اگر کبھی کسی ڈرائیور نے اپنی سیٹ پر بیٹھنا چاہا یا اس کا پاؤں کسی سخت طبیعت دادی کے سر سے ٹکرا گیا تو اس نے اسے منہ کے بل نیچے گرا دیا۔ پھر مورخ لکھتا رہا کہ باقی کا سفر خیریت سے گزرا۔

اگر آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں تو نواز شریف سے پوچھ لیں یا ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی قبروں سے جا کر معلوم کر لیں۔ نچوڑ یہ ہے اگر ڈرائیونگ سیٹ پر سخت مزاج دادیاں بیٹھ جائیں یا کسی اناڑی ڈرائیور کو بٹھا دیں تو وہ گاڑی کا انجر پنجر ہلا دیتا ہے۔

اگر آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں تو اپنی لاری کی حالت دیکھ لیں۔ یہ اسی طرح چل رہی ہے، جیسے ہم اپنی جاپانی کار چلا رہے ہیں کہ ’نہ انجن کی خوبی نہ کمالِ ڈرائیور، چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ