قندیل بلوچ کیس کا فیصلہ: مقدمے میں کمزوری کیا رہ گئی تھی؟

عدالت نے اپنے فیصلے میں متعدد مقامات پر پراسیکیوشن کی جانب سے تفتیش اور کیس کی تیاری کے حوالے سے  خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

سوشل میڈیا سٹار اور ماڈل فوزیہ عظیم العروف قندیل بلوچ   کو   16 جولائی 2016  کو ملتان میں ان کے گھر میں قتل کردیا گیا تھا۔ (تصویر: فیس بک)

قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم وسیم کو سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا اور باقی ملزمان کی بریت پر قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ پولیس کی جانب سے کی جانے والی ناقص تفتیش اور مقدمے کے مدعی کی ملزمان کے ساتھ ہمدردی اور ملی بھگت کی وجہ سے ایسا ہوا۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ناقص پولیس تفتیش، ثبوتوں کی عدم دستیابی اور گواہوں کے ناکافی بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مرکزی ملزم کو ٹرائل کورٹ  کی جانب سے دی جانے والی سزا اپیل کورٹ میں جا کر ختم ہو جائے گی۔
مفتی عبدالقوی کے وکیل حاجی محمد اسلم کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے تیار کردہ کیس میں بہت خامیاں تھیں۔ مفتی قوی شروع میں پولیس کی ایک ہائی لیول ٹیم جس میں ریجنل پولیس افسر، سٹی پولیس افسر اور دیگر افسران شامل تھے، کے سامنے پیش ہوئے اور ٹیم نے انہیں بے قصور ٹھہرایا مگر تقریباً ڈیڑھ سال بعد تفتیشی افسر نے صرف ایک فقرہ لکھ دیا کہ ’مفتی قوی کی گرفتاری باقی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ قریبی عزیزوں پر تو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے لیکن باقی تین ملزمان پر یہ الزام کس طرح لگایا جا سکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب مدعی عدالت کو بتا رہا ہو کہ ان کی بیٹی پاک دامن تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مفتی قوی کے بینک اکاونٹس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے سے عدالت کو قائل نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے قندیل کے قتل کے لیے کسی کو اکسایا۔ حاجی اسلم کا کہنا تھا اگرچہ وہ صرف مفتی قوی کے وکیل تھے مگر باقی ملزمان کی حد تک بھی کیس نہایت کمزور تھا اور مرکزی ملزم بھی اپیل میں رہا ہو جائے گا۔
فوجداری کے سینیئر وکیل نعیم خان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں متعدد مقامات پر پراسیکیوشن کی جانب سے تفتیش اور کیس کی تیاری کے حوالے سے  خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے مرکزی ملزم وسیم کو دفعہ 164 کا بیان قلم بند کرنے کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے میں عجلت کی۔ مجسٹریٹ کے سامنے ملزم نے اگرچہ خود قتل کا اعتراف کیا جبکہ دوسرے مرکزی ملزم حق نواز، جس نے بقول وسیم کے قندیل کا گلا  دبایا، اس کا ذکر وسیم نے بعد میں پولیس کے سامنے کیا تاہم جب وسیم نے پولیس کو دوسرے ملزم کے بارے میں بتایا تو اسے پولیس تفتیش کا حصہ تو بنایا گیا مگر اس کا دوبارہ 164 کا بیان ریکارڈ نہیں کروایا گیا۔

اسی طرح جب پولیس نے حق نواز کو گرفتار کیا تو اس نے پولیس کے سامنے تو قندیل کو گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا اعتراف کیا لیکن اس کو بھی مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مجسٹریٹ کے سامنے دیا جانے والا بیان رضاکارانہ ہوتا ہے لیکن پولیس کو چاہیے تھا کہ دونوں ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتی، جس سے اس نے گریز کیا جس کا عدالت نے بھی اپنے فیصلے میں ذکر کیا کہ دونوں بیانات کو مجسٹریٹ کے سامنے قلمبند نہیں کرایا گیا، اس لیے ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر پراسیکیوشن نے ایک کمزور کیس عدالت کے سامنے رکھا اور بہت سے ضروری گواہ پیش کرنے میں ناکام رہی، جیسے اگر قاتلوں کو کسی نے قتل کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو ایسا گواہ بھی نہیں تھا جس نے ملزموں کو قتل کے بعد گھر سے نکلتے دیکھا ہو یا قتل کے لیے باہم صلاح مشورہ کرتے دیکھا اور سنا ہو۔

فوجداری  امور کے ایک اور وکیل فہیم اختر گل ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پولیس کے پہلے دن کے رویے سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ ملزمان سزا سے بچ جائیں گے۔ ایف آئی آر کے اندراج میں عجلت برتی گئی۔ عمومی طور پر فوجداری مقدمات کا اندراج پوسٹ مارٹم رپورٹ وصول ہونے کے بعد کیا جاتا ہے تاکہ صحیح دفعات کا اندراج کیا جاسکے مگر پولیس نے مدعی کے بیان اور حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمے کا اندراج پوسٹ مارٹم رپورٹ کے وصول ہونے کا انتظار کیے بغیر کردیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں درج ہے کہ قتل کے محرکات غیرت اور پیسے کا لالچ ہیں، جس سے ذہن میں فوراً سوال اٹھتا ہے کہ اگر پیسے کے لالچ میں قتل کیا گیا تو وہ کسی صورت غیرت کے نام پر قتل نہیں ہو سکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ ایف آئی آر نامزد ملزمان کے خلاف کاٹی گئی لیکن قتل کے وقوعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے، یعنی قتل تو ہوا ہے لیکن اسے کسی نے ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ نہ تو مدعی قتل کا عینی شاہد ہے اور نہ کسی گواہ  نے قتل ہوتے ہوئے دیکھا۔

انہیں کمیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے کیس براہ راست شہادتوں کی بجائے قرائینی شہادتوں میں تبدیل ہوگیا، جس کا فائدہ عمومی طور پر ملزمان کو ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عدالت میں وکلا صفائی نے اسے ایک اندھا قتل قرار دیا اور کہا کہ یہ پولیس تھی جس نے اسے غیرت کے نام پر قتل کا رنگ دیا۔

ایڈووکیٹ گل کا کہنا تھا کہ مقدمے کا اندراج کرتے وقت پولیس اس بات کا اندازہ لگانے میں یا تو ناکام رہی یا پھر جان بوجھ کر نظرانداز کیا کہ مقدمے کا مدعی کسی بھی وقت اپنے بیٹوں کے خلاف لگائے جانے والے الزامات سے دستبردار ہو سکتا ہے یا پھر قندیل کا قانونی اور شرعی وارث ہونے کی بنا پر اپنے سزا یافتہ بیٹوں کو معاف کرسکتا ہے اور جب پولیس کو اس بات کا احساس ہوا تو اس نے کیس کی دفعات میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 311 کا اضافہ کردیا، جس کے تحت اگر ورثا مجرمان کو معاف بھی کردیں تو حکومت کیس کی مدعی بن جاتی ہے اور عدالت انہیں سزا سنا سکتی ہے۔

 باوجود اس کے کہ قندیل کے والد محمد عظیم اور والدہ انور بی بی 22 اگست کو عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کو اللہ کے نام پر معاف کر دیا ہے تاہم عدالت نے معافی کی درخواست مسترد کردی۔

دوسری مرتبہ 30 اگست کو جب دونوں میاں بیوی بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے مقدمے میں کسی کو نامزد نہیں کیا ہے اور انہیں ان کے بیٹوں کا نام لینے کے لیے پولیس نے کہا تھا، یعنی پولیس کے دباؤ پر انہوں نے اپنے بیٹوں کا نام مقدمے میں درج کرایا تھا۔

واضح رہے کہ جنوری 2017 میں مظفرآباد پولیس نے قندیل کے والدین کے خلاف مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیٹے اسلم شاہین کے خلاف دیے جانے والے بیانات سے منحرف ہونے پر ایک مقدمے کا اندراج کیا تھا، انہیں گرفتار بھی کرلیا گیا تھا، تاہم وہ بعد میں ضمانت پر رہا کر دیے گئے تھے۔

تاہم تفتیشی افسرعطیہ جعفری کا کہنا تھا کہ پولیس نے کیس پر بہت محنت کی اور 35 کے قریب گواہ پیش کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پولیس کی اعلیٰ معیار کی تفتیش کا نتیجہ ہے کہ مرکزی ملزم کو عمر قید کی سزا ہوئی جبکہ مقتولہ کے والدین اپنے بیانات سے منحرف ہو چکے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حق نواز کے حوالے سے وسیم نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا تھا اور حق نواز، جس نے پولیس کو اعترافی بیان ریکارڈ کرایا تھا، مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے سے انکاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پولیس نے کیس کی تفتیش کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برتی۔

پاکستان میں انٹرنیٹ پر تلاش کی جانے والی دس اولین شخصیات میں شامل سوشل میڈیا سٹار اور ماڈل فوزیہ عظیم العروف قندیل بلوچ 16 جولائی 2016 کی صبح جب ملتان میں اپنے کرائے کے گھر میں مردہ پائی گئیں تو پاکستانی میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا نے بھی ان کی ہلاکت کی خبر نمایاں طور پر شائع اور نشر کی، جس کی بنیادی وجہ ان کے والد محمد عظیم کا پولیس کو مقدمے کے اندراج کے لیے دیا جانے والا یہ بیان تھا کہ ان کی بیٹی جو اپنی ویڈیوز اور متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور تھیں، کو ان کے بڑے بیٹے اسلم شاہین، جو فوج میں ملازم ہے، کے غیرت کے نام پر اکسانے کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے محمد وسیم نے قتل کر دیا ہے۔

پولیس نے 16 جولائی کو ایف آئی آر کا اندراج کیا اور اسی دن مدعی کی درخواست پر ایک ضمیمے کے ذریعے پانچ دیگر لوگوں کو جن میں مفتی عبدالقوی، قندیل کا چچازاد بھائی حق نواز، محمد ظفر، ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط اور قندیل کے سعودی عرب میں مقیم بھائی محمد عارف شامل ہیں، کو ملزم نامزد کر دیا گیا۔ 

27 ستمبر کو ماڈل کورٹ ملتان کے جج عمران شفیع نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم محمد وسیم کو عمرقید کی سزا سنائی۔  عدالت نے کیس کے دیگر پانچوں ملزمان کو شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا جبکہ قندیل کے تیسرے بھائی محمد عارف کو اشتہاری قراردے  دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان