ترکی نے اسرائیلی جہازوں اور طیاروں کے داخلے پر پابندی لگا دی

ترک وزیر خارجہ کے مطابق انقرہ نے اسرائیلی جہازوں اور طیاروں کے لیے اپنی بندرگاہیں اور فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

24 جون، 2021 کو شمالی اسرائیلی شہر حیفہ کی بندرگاہ پر کارگو جہاز لنگر انداز ہیں (اے ایف پی)

ترکی کے وزیر خارجہ نے جمعے کو کہا کہ انقرہ نے اسرائیلی جہازوں اور طیاروں کے لیے اپنی بندرگاہیں اور فضائی حدود بند کر دی ہیں۔

ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ پابندی ’سرکاری‘ پروازوں پر لاگو ہوتی ہے۔

وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ارکان پارلیمان کو ایک نشری تقریر میں بتایا ’ہم نے اپنی بندرگاہیں اسرائیلی جہازوں کے لیے بند کر دی ہیں۔

’ہم ترک جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں دیتے۔۔۔ ہم ہتھیار اور گولہ بارود لے جانے والے کنٹینر جہازوں کو اسرائیل کے لیے اپنی بندرگاہوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور نہ ہی ان کے طیاروں کو اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے دیتے ہیں۔‘

وزیر خارجہ کے بیان پر ایک ترک سفارتی ذریعے نے کہا کہ فضائی حدود ’تمام طیاروں پر بند ہے جو (اسرائیل کے لیے) ہتھیار لے جا رہے ہوں اور اسرائیل کی سرکاری پروازوں پر۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ فضائی حدود پر پابندیاں کب نافذ کی گئیں۔

گذشتہ نومبر میں ترکی نے اسرائیلی صدر کے طیارے کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے سے منع کر دیا تھا، جس کے باعث انہیں آذربائیجان میں منعقدہ سی او پی 29 ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔

مئی میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے بھی باکو کا دورہ منسوخ کر دیا تھا کیونکہ انقرہ نے مبینہ طور پر اوور فلائٹ حقوق دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس ہفتے اسرائیل کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی ’زیم‘ نے کہا کہ اسے بتایا گیا ہے کہ ترکی میں 22 اگست کو منظور ہونے والے نئے ضوابط کے تحت ’وہ جہاز جو یا تو اسرائیل سے منسلک کسی ادارے کی ملکیت میں ہوں، اس کے زیرِ انتظام ہوں یا اس کے ذریعے چلائے جا رہے ہوں، انہیں ترک بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں ہو گی۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا