قرون وسطیٰ کی حال ہی میں دریافت ہونے والی ایک تحریر کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ قدیم ترین شہادت ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ تورین کا کفن جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ مصلوب ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ کے جسم کو اس میں لپیٹا گیا تھا، اصلی نہیں۔
’جرنل آف میڈئیول ہسٹری‘ میں شائع ہونے والے یہ تحقیقی یہ نتائج اس بات کے مزید شواہد فراہم کرتے ہیں کہ قرون وسطیٰ میں بھی لوگ جانتے تھے کہ یہ کفن کی چادر جعلی ہے۔
اس دستاویز کے مطابق قرون وسطیٰ کی مذہبی شخصیت نکول اوریسم نے اس چادر کو اصلی ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد کے بشپ نے بھی اسے ’واضح‘ اور ’کھلا‘ جعلی قرار دیا جو ان کے مطابق ’مذہبی شخصیات‘ کی فریب کاری کا نتیجہ تھا۔
اورسیم بعد میں فرانس میں لیزیو کے بشپ بنے اور ایک اہم شخصیت کے طور پر ابھرے، جو نام نہاد معجزات کے لیے عقلی وضاحتیں دینے کی کوششوں کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔
اس دستاویز میں اوریسم لکھتے ہیں: ’مجھے کسی ایسے شخص کی بات ماننے کی ضرورت نہیں جو دعویٰ کرے کہ ’کسی نے میرے لیے ایسا معجزہ کیا۔‘ کیوں کہ بہت سے مذہبی شخصیات اس طرح دوسروں کو دھوکہ دیتی ہیں تاکہ اپنی کلیساؤں کے لیے نذرانے حاصل کریں۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے شیمپین کے ایک چرچ کے معاملے میں کہا گیا کہ وہاں حضرت عیسیٰ کا کفن موجود ہے اور دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے اس طرح کے جعلی تبرکات بنا رکھے ہیں۔‘
تورین کے کفن کے عالمی شہرت یافتہ ماہر پروفیسر آندریا نیکولوتی نے کہا کہ ’اس دستاویز کے ساتھ وہ کہانی جسے ہم پہلے سے دیگر ذرائع سے جانتے تھے، کی مکمل تصدیق ہو گئی ہے۔‘
مذکورہ چادر ان قدیم نوادرات میں سے ایک ہے جن پر سب سے زیادہ تحقیق کی گئی۔ اس کپڑے پر کسی مرد کے جسم کے سامنے اور پیچھے کے دھندلے نقوش موجود ہیں جو مصلوب ہونے کے بعد حضرت عیسیٰ کے بارے میں بیان کردہ روایات سے مطابقت رکھتے ہیں۔
آج بھی لوگ اس کفن کے اصلی ہونے پر سوال اٹھاتے ہیں لیکن بہت سے لوگ اسے سچا مانتے ہیں حالانکہ تحقیق بار بار اس کے خلاف شواہد فراہم کرتی رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مثال کے طور پر قبل ازیں رواں ماہ شائع ہونے والی تحقیق میں تھری ڈی تجزیے کر کے نتیجہ نکالا گیا کہ زیادہ اس بات امکان ہے کہ یہ چادر کسی مجسمے کے گرد لپیٹی گئی تھی نہ کہ حضرت عیسیٰ کا جسم اس میں لپیٹا گیا تھا۔
کپڑے کے مواد کی تاریخ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غالباً 13ویں صدی یا 14ویں صدی کے آخرمیں تیار کیا گیا۔
تحقیق کاروں کے مطابق نئی دریافت شدہ دستاویز اب تک پیش کی جانے والی پہلی تحریری، ’باضابطہ‘ اور نہایت معتبر تردید ہے جس میں اس چادر کے اصلی ہونے مسترد کیا گیا۔ یہ دستاویز اس سے پہلے کی قدیم ترین معروف تحریر سے بھی پرانی ہے جو 1389 میں ٹروئیس کے بشپ پیئر دآرسس نے لکھی جس میں اس چادر کو جعلی قرار دیا گیا تھا۔
نئی تحقیق کے مرکزی مصنف نکولا سارزود نے کہا کہ ’اب متنازع ہو جانے والا تبرک صدیوں سے اس کو اصلی ماننے والوں اور ناقدین کے درمیان بحث و مباحثے کی زد میں رہا۔ جو کچھ سامنے آیا وہ کفن کے (اصلی ہونے) کی بڑی تردید ہے۔
سارزود بیلجیم میں ’کیتھولک یونیورسٹی‘ لووین میں تبرکات اور تصاویر کی تاریخ پر تحقیق کرتے ہیں۔
© The Independent