انڈیا: 60 ارب ڈالر کی بالی وڈ صنعت کو مشکلات کا سامنا کیوں؟

اگرچہ سٹریمنگ اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے روایتی سینیما کو متاثر کیا ہے مگر موجودہ مشکلات خود ساختہ بھی ہیں جس میں فلم کی ریلیز سے پہلے ہی اسے ’ہٹ‘ قرار دینے کا رواج شامل ہے۔

ایک شخص 20 اکتوبر 2016 کو راولپنڈی میں ڈی وی ڈی کی دکان میں بالی وڈ فلموں کے پوسٹرز کے سامنے کھڑا ہے (روئٹرز)

انڈیا کی 60 ارب ڈالر کی فلمی صنعت ’بالی وڈ‘ اب گرتی ہوئی ساکھ کے گہرے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ فلمی صنعت کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ ناقدین کے تبصروں میں ہیر پھیر اور باکس آفس کی بڑھا چڑھا کر پیش کی جانے والی آمدنی عوامی رائے کو متاثر کر رہی ہے جس سے بالآخر ٹکٹوں کی فروخت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اگرچہ سٹریمنگ اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے روایتی سینیما کو متاثر کیا ہے مگر فلمی صنعت کے ماہرین کے مطابق بالی وڈ کی موجودہ مشکلات خود ساختہ بھی ہیں جس میں فلم کی ریلیز سے پہلے ہی اسے ’ہٹ‘ قرار دینے کا رواج شامل ہے۔

پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر سنیل وہدوا نے اس حوالے سے اے ایف پی کو بتایا: ’اگر آپ انفلونسرز اور نقادوں کو مطمئن نہ کریں تو وہ فلم کی خراب ریویو لکھیں گے، چاہے فلم اچھی ہی کیوں نہ ہو اور اگر فلم واقعی خراب ہے تو وہ اچھی باتیں لکھیں گے، بشرطیکہ پروڈیوسر یا سٹوڈیو نے ان کی جیبیں بھری ہوں۔‘

سینیئر ڈسٹری بیوٹر راج بنسال کا بھی ماننا ہے کہ ابتدائی زبردست ریویوز کے بارے میں ناظرین اب مشکوک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’جیسے ہی میڈیا چار ستارے دیتا ہے، لوگ مجھے میسج کرتے ہیں کہ 'سر، اس کا مطلب ہے کہ فلم اچھی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اگر فلم اچھی بھی ہو مگر وہ اعتماد نہیں کرتے۔‘

یہ بے اعتمادی اب باکس آفس پر بھی ظاہر ہو رہی ہے۔ بنسال کے مطابق: ’عام سینیما دیکھنے والے صحیح رپورٹس کا انتظار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پہلے شوز کے دوران ٹکٹ کی فروخت میں شدید کمی آتی ہے جب کہ شائقین فلم دیکھنے والوں کی رائے یا حقیقی ریویوز کا انتظار کرتے ہیں۔‘

انڈسٹری کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کچھ انفلونسرز کے پاس ’ریٹ کارڈز‘ ہوتے ہیں، جن کی قیمت فلم کی پری ریلیز ہائیپ کے مطابق بڑھ جاتی ہے۔ پروڈیوسرز پر الزام ہے کہ وہ افتتاحی ہفتے کے اعداد و شمار بڑھانے کے لیے خود ہی ٹکٹ خرید لیتے ہیں۔

بنسال نے کہا: ’سب کچھ خریداری اور ہیر پھیر کیا جاتا ہے، یہ تنقید فلم ریویوز اور سوشل میڈیا شخصیات دونوں پر لاگو ہوتی ہے۔‘

'ادھورا منظر'

جئے پور کے جم سینیما کے مالک سدھیر کاسلی وال نے یاد دلایا کہ سپر سٹار شاہ رخ خان کی ریلیز ہونے والی فلموں میں آن لائن سینکڑوں بکنگ دیکھی مگر اصل میں صرف چند ناظرین ہی سینیما ہالز میں موجود تھے۔

انہوں نے کہا: ’پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور اداکار خود ٹکٹ خریدتے ہیں، اگر یہ رواج جاری رہا تو بالی وڈ کا مستقبل بہت مخدوش نظر آتا ہے۔ غلط پیغام عوام تک پہنچایا جا رہا ہے اور جب تک اچھا مواد نہیں بنایا جاتا، صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔‘

حال ہی میں اداکار اکشے کمار کی فلم ‘سکائی فورس‘ بھی تنازع کا شکار ہو گئی تھی۔ فلم کے ڈائریکٹر نے پہلے ہفتے کے اعداد و شمار بڑھانے کے الزام کو مسترد کیا مگر ممبئی کے ایک تجزیہ کار کا دعویٰ ہے کہ فلم کی آمدنی 60 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 90 لاکھ ڈالر دکھائی گئی۔

بنسال کے مطابق، جو نقاد اس رواج پر عمل نہیں کرتے، انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے جبکہ جو اس بددیانتی پر عمل کرتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔

'ٹکٹ خریدنے کی عادت'

پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر وہدوا نے کہا کہ 2025 کی رومانوی کامیڈی ہارر فلم ’تھما‘ کی باکس آفس آمدنی میں بھی ہیر پھیر کی گئی جس میں اصل فروخت تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر تھی، مگر فلم نے آمدنی کو بڑھا کر ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر دکھایا۔ فلم کے ڈائریکٹر آدتیہ نے اس آمدنی کو درست قرار دیا اور کہا کہ یہ اعداد و شمار ڈسٹری بیوٹرز اور ایکزیبیٹرز سے آئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ باکس آفس کے اعداد و شمار میں ہیر پھیر کے نتیجے میں ستاروں کی تنخواہیں بڑھ جاتی ہیں اور نئے ٹیلنٹ کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔

جیسا کہ وہدوا نے کہا: ’آپ ناظرین کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ وہ حقیقت جانتے ہیں۔ ریویوز اور ٹکٹ کی فروخت دونوں میں ہیرا پھیری ایک بہت افسوسناک صورت حال ہے۔‘

نیٹ فلکس اور ایمازون جیسے سٹریمنگ پلیٹ فارمز، جو اب فلم کی ڈسٹری بیوشن میں بڑے کھلاڑی ہیں، معاہدے سے قبل تصدیق شدہ باکس آفس اعداد و شمار مانگنے لگے ہیں جس نے پروڈیوسرز پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

وہدوا کے مطابق او ٹی ٹی اب فلموں کے انتخاب میں بہت ہوشیار اور محتاط ہو گئے ہیں۔

اس کے باوجود کم ہی لوگ توقع رکھتے ہیں کہ یہ رجحان جلد ختم ہو جائے گا جیسا کہ وہدوا نے کہا: ’یہ اس وقت تک رواج جاری رہے گا جب تک پروڈیوسرز اور سٹوڈیوز ٹکٹ خریدنے کی خواہش ترک نہیں کر دیتے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی فلم