کیا سری لنکن ٹیم واقعی ’تیسرے درجے کی ٹیم‘ ہے؟

کسی بھی ٹیم کو تیسرے درجے کی ٹیم کا خطاب دینے سے بہتر ہے کہ پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر اپنی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔

اس سیریز سے سری لنکا کو کئی سٹار کھلاڑی مل گئے ہیں (اے ایف پی)


کلثوم جہاں، سپورٹس جرنلسٹ
’سری لنکن ٹیم میں تیسرے درجے کے کھلاڑی شامل ہیں بھائی، میچ دیکھنے کون آئے گا؟‘
نیشنل سٹیڈیم کراچی میں ہونے والے ون ڈے سیریز کے دوران سوشل میڈیا میں اس طرح کے تبصرے دیکھنے کو ملے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سر ی لنکن ٹیم واقعی ’تیسرے درجے کی ٹیم‘ ہے؟
یہ ضرور ہے کہ سری لنکا کے اہم کھلاڑیوں نے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا لیکن ون ڈے سیریز میں نوجوان کرکٹرز پر مشتمل ٹیم کی کارکردگی مایوس کن ہرگز نہیں تھی اور 2018 میں ویسٹ انڈیز ٹی 20 سیریز کی طرح یکطرفہ بھی نہیں تھی۔

لہیرو تھریمانے کی قیادت میں سری لنکن ٹیم کی دونوں میچوں میں کارکردگی بہتر رہی۔ مہمان ٹیم کے بیٹسمینوں نے ڈٹ کر پاکستانی بولروں کا سامنا کیا۔
پہلا ون ڈے بارش کی نذر ہوا۔ آئی لینڈرز دوسرے ون ڈے میں 306 رنز کے تعاقب میں 238 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور 67 رنز سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن سری لنکن ٹیم نے چھٹی وکٹ جےسوریا اور ڈاسن شاناکا نے177 رنز کی ریکارڈ پارٹنرشپ قائم کی۔ شیہان جےسوریا نے96  رنز اورڈاسن شاناکا  نے 60 رنز کی اننگز کھیلی۔
تیسرے ون ڈے میں ’تیسرے درجے کی ٹیم‘ پاکستانی بولروں کے خلاف 300 کے قریب سکور کا پہاڑ کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ دنوشکا گونا تھلکا کی سنچری کی بدولت آئی لینڈرز نے نو وکٹوں کے نقصان پر 297 رنز بنائے۔ گونا تھلکا نے ایک چھکے اور 16 چوکوں کی مدد سے 133رنز کی اننگز کھیلی۔
خیال رہے کہ سری لنکن اوپنر دنوشکا گونا تھلکا نے نہ صرف نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی مرکزی عمارت پر اعزاز ی تختی ’ون ڈے کرکٹ میں سنچریاں بنانے والوں کی فہرست‘ میں اپنا نام درج کروایا بلکہ ون ڈے سیریز میں سب سے زیادہ 147رنز بنانے والوں کی فہرست میں ٹاپ پر رہے جبکہ بابر اعظم 146 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ گونا تھلکا 38 ایک روزہ میچوں کھیل چکے ہیں اور 1249رنز بنا چکے ہیں۔
سری لنکا پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں ناکامی کا بدلہ ٹی 20 سیریز میں لےرہا ہے۔ مہمان ٹیم نے پہلے میچ میں پاکستان کو 64 رنز سےشرمناک شکست دی اور دوسرے میچ میں 35 رنز سےآؤٹ کلاس کرکےتین میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز0-2سے جیت لی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 166 رنز کے تعاقب میں نمبر ون ٹیم پاکستان کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جواب میں پاکستانی ٹیم 17.4 اوورز میں 101 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ اس میچ میں بھی  دنوشکا گونا تھلکا کی کارکردگی شاندار رہی۔ انہوں نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 38 گیندوں پر 57 رنزبنائے۔
دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکن ٹیم نے گرین شرٹس کے لیے 183رنز کا پہاڑ کھڑا کیا جس میں پاکستانی بیٹنگ لائن کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اورپوری ٹیم 19 اورروں میں 147رنز بناکر پویلین لوٹ گئی۔

اس سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں سری لنکا ہی کے راجاپاسکے 109رنز بناکر ٹاپ پر ہیں۔ اسی طرح بولنگ سائیڈ میں نووان پردیپ سب زیادہ سات وکٹیں لینے والے کھلاڑی ہیں۔
 سری لنکن ٹیم میں نامور کھلاڑیوں لستھ ملنگا، اینجیلو میتھیوز، تھیسارا پریرا، کوشل مینڈس، جیون مینڈس اورسرنگا لکمل کی عدم موجودگی کے باوجود اس فارمیٹ میں سب سے بڑی فتح حاصل کی اور عالمی نمبر ایک ٹیم پاکستان کیخلاف ٹی 20 سیریز جیت کر ثابت کیا کہ وہ تیسرے درجے کی ٹیم ہرگز نہیں ہے۔ نوجوان سری لنکن شیہان جے سوریا، دنوشکا گونا تھلکا اور ڈاسن شاناکا سٹارز بن کر سامنے آ رہے ہیں۔

کسی بھی ٹیم کو تیسرے درجے کی ٹیم کا خطاب دینے سے بہتر ہے کہ پہلے اپنی ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ اس فارمیٹ میں ٹیم کی بدترین کارکردگی کوچ اور سلیکٹروں کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔

پاکستان ٹیم اب اس خمار اور خوش فہمی سے باہر نکل آئے کہ وہ عالمی نمبر ون ہے اورحریف ٹیم کمزور ہے۔ اس وقت کوچ اور سلیکٹروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے اور بہترین ٹیم تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیم آئندہ سال ہونے والے عالمی ٹی 20 ورلڈ کپ میں ڈٹ کرمضبوط ٹیموں سے مقابلہ کر سکے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ