تھر ڈیزرٹ ٹرین سفاری، ریل گاڑی سے ایک ایسا سفر جس کے ذریعے نہ صرف سندھ کی ثقافت کو اجاگر کیا گیا بلکہ اس کے مسافروں نے کھوکھرا پار کے قریب زیرو لائن کا بھی مشاہدہ کیا، جہاں ایک ہی صحرا پاکستان اور انڈیا میں تقسیم ہوتا ہے۔
زمین پر واضح حد بندی، خار دار تاریں اور رینجرز کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقہ حساس اور علامتی مقام ہے۔
’سفر ثقافت سندھ‘ کراچی کینٹ سٹیشن سے شروع ہوا جہاں صبح کا منظر معمول سے مختلف تھا، ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ثقافتی رقص۔
سندھ حکومت کے تعاون سے شروع کی گئی تھر ڈیزرٹ ٹرین سفاری کے تحت دو روزہ یادگار سفر کا آغاز ہو رہا تھا، جس کا مقصد صوبے میں سیاحت کو فروغ دینا اور سندھ کی ثقافت، تاریخ اور جغرافیے کو ایک ہی سفر میں سمونا تھا۔
یہ اس سفاری کا چوتھا کارواں تھا، جس میں مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد تھر کی سرزمین کو قریب سے دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے۔
20 دسمبر کی صبح سوا نو بجے خصوصی ٹرین کراچی کینٹ سٹیشن سے روانہ ہوئی۔
حیدرآباد سے گزرتے ہوئے میرپورخاص کی سرسبز فضاؤں میں داخل ہوتے ہی ماحول میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہونے لگی۔ راستے بھر کھیت، درخت، چھوٹے سٹیشن اور دیہی زندگی کے مناظر اس سفر کو محض ایک سفری مرحلہ نہیں بلکہ ایک بصری تجربہ بناتے رہے۔
کراچی کی نورین نے بتایا کہ تھر کا سفر وہ ماضی میں بھی کرتی رہی ہیں لیکن ٹرین کے ذریعےتھر جانے کا الگ مزہ ہے۔
سفر کے دوران سندھ کے صوبائی وزیر ثقافت ذوالفقار علی شاہ میرپورخاص سے ٹرین میں سوار ہوئے۔
انہوں نےانڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ سندھ میں سیاحت اور ہیریٹیج کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور مستقبل میںموئن جو دڑو جیسے تاریخی مقامات کو بھی اس پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔
دن ڈھلنے لگا تو آٹھ گھنٹے کی مصافحت طے کرنے کے بعد ٹرین تھر کے تاریخی قصبے ’چھور‘ پہنچی۔
یہاں سے مسافروں کو بس کے ذریعے تقریباً 12 کلومیٹر دور واقع ’پرچی جی ویری‘ لے جایا گیا، جو صحرا کے عین درمیان واقع ایک نمایاں مقام ہے۔
پرچی جی ویری میں مقامی ثقافتی اشیا کے سٹال لگائے گئے تھے، جہاں ہاتھ سے تیار کردہ ملبوسات، کڑھائی اور روایتی مصنوعات تھر کے ہنر اور محنت کی عکاسی کر رہی تھیں۔
عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والی ڈھیلی نامی خاتون نے بھی روایتی ملبوسات کا سٹال لگایا ہوا تھا۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ سندھ کے خاص ملبوسات ہیں جو دعوتوں اور شادی بیاہ میں پہنے جاتے ہیں۔
’ایک قمیض کو تیار کرنے میں ایک سے دو ماہ لگ جاتے ہیں جس کے لیے دن رات کی محنت درکار ہوتی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شام کے ساتھ ہی صحرا کا منظر مزید دلکش ہو گیا۔ سورج آہستہ آہستہ افق کی اوٹ میں چھپنے لگا اور آسمان نارنجی، سنہری، گلابی اور جامنی رنگوں رنگ گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دن اور رات کے درمیان ایک خاموش مکالمہ محسوس ہوتا ہے۔
ایک رات کے قیام کے بعد دوسرے روز کا آغاز پرچی جی ویری میں طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہوا۔ سورج کی پہلی کرن ریت کے ٹیلوں پر پڑی تو صحرا ایک نئے رنگ میں جاگتا محسوس ہوا۔ اسی کے ساتھ سفر کے سب سے اہم مرحلے کا آغاز بھی ہوا۔