ہماری ذہنی صحت دواؤں سے ٹھیک کیوں نہیں ہوتی؟

اپنے اردگرد پچاس سال سے زائد افراد کو دیکھیے ان میں سے کتنے ہیں جو باقاعدہ کسی دوا کے بغیر زندگی گزارتے ہیں؟ دوا اب خوراک کا حصہ ہے۔

پورا معاشرہ گزشتہ چالیس برسوں سے سے اسی غیر یقینی صورتحال کا شکار  اور اسی خوف کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ ایسے معاشرے میں بسنے والے افراد سے ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے پہاڑ سا کلیجہ چاہیے۔ (اے ایف پی)

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) 1988 تک صحت کو ’جسمانی، ذہنی اور سماجی عافیت‘ کے طور پر جانتی تھی۔ یعنی اگر ایک فرد جسمانی، ذہنی اور سماجی طور پر متحرک اور کارآمد ہے تو اسے صحت مند سمجھا جاتا تھا۔ مگر 2010 میں صحت کا مطلب کسی قابل تشخیص بیماری کی غیرموجودگی لیا جانے لگا۔

یعنی اگر آپ نے صحت مندی کا سرٹیفکیٹ لینا ہے تو کسی مستند طبیب سے کسی بھی قابل تشخیص بیماری کی عدم موجودگی کا ثبوت چاہیے ہوگا۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ کام دورحاضر میں تقریباً ناممکن ہے۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو کہ جسے کوئی چھوٹی موٹی بیماری لاحق نہ ہو اور وہ اس کے لیے کبھی کبھار ادویات کا استعمال نہ کرتا ہو۔ پاکستان میں فارمیسی کے ایک سیلز مین نے مجھے سکون آور ادویات کے بارے میں جو بات کہی تھی آج تک یاد ہے ۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہ ادویات لوگ چنے کی طرح پھانکتے ہیں۔ ہمارے ایک ڈاکٹردوست نے کہا تھا کہ ان کا بس چلے تو وہ لوگوں کو ڈپریشن کی دوائیں اپنے کھانے پر چھڑک کر استعمال کرنے کا مشورہ دیں۔ جہاں یہ صورتحال ہو وہاں WHO کی تعریف کے مطابق صحت مند افراد کی تعداد کا اندازہ لگائیے۔

اپنے اردگرد پچاس سال سے زائد افراد کو دیکھیے ان میں سے کتنے ہیں جو باقاعدہ کسی دوا کے بغیر زندگی گزارتے ہیں؟ دوا اب خوراک کا حصہ ہے۔ اس عمر کے افراد کی اکثریت روزانہ رات کو کچھ ادویات استعمال کر کے سوتی ہے۔ یہ گفتگو ان مسائل کے بارے میں ہے جن کے اعتراف میں عام لوگوں کو کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی۔ ہر کوئی آسانی سے ہائی بلڈ پریشر، شوگر،  مختلف طرح کی جسمانی درد اور معدے کے مختلف امراض کو بیان کرتا ہے اور ان کے تدارک کے لیے ادویات استعمال کرتا ہے لیکن ذہنی مسائل کا معاملہ مختلف ہے۔

مختلف سطح کی اداسی Depression بے چینی Restlessness خوف اور تشویش Anxiety کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہر کوئی جھجکتا ہے۔ لیکن شدید ذہنی امراض جیساکہ سکیزوفرینیا Schizophrenia کے مریض تو باقاعدہ چھپائے جاتے ہیں اور ایسا صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ خاندان میں ایسے افراد کی موجودگی پورے خاندان کے لیے رسوائی کا سبب سمجھی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کے بہن بھائیوں کی شادیاں رکاوٹوں کا شکار ہوجاتی ہے کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس خاندان میں ذہنی امراض وراثت میں چلتے چلے آرہے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسمانی امراض کے بارے میں یہ بات صرف جزوی طور پر درست ہے کہ ان کی وجوہات فرد کے اردگرد کے ماحول میں موجود ہوتی ہیں۔ لیکن ذہنی مسائل کے بارے میں یہ بات نسبتا زیادہ زور دے کر کہی جا سکتی ہے کہ ان کی وجوہات فرد کے ماحول اور ان تجربات میں چھپی ہوتی ہیں جن سے فرد گزرتا ہے۔ گفتگو کے اس مرحلے پر پاکستان کے حالات پر خصوصی اور پوری دنیا کے حالات پر عمومی توجہ فرمائیں۔ 

 کبھی کچھ کہا جاتا ہے اور کبھی کچھ، تاہم یہ طے ہے کہ سینکڑوں افراد پاکستان کے گلی کوچوں میں دن دہاڑے قتل ہوتے ہیں اور یہ جانے بغیر قتل کر دئیے جاتے ہیں کہ ان کا قصور کیا تھا۔ آپ پاکستان کے عوام سے پوچھیں کہ ملک میں چار دہائیوں تک جاری رہنے والی دہشت گردی کا سبب کیا تھا آپ کو کوئی ایک مستحکم جواب نہیں ملے گا ہر کوئی اپنی سمجھ، علم اور نظریاتی وابستگی کے مطابق جواب دے گا۔

نفسیات کے ایک طالب علم کے طور پر میں گذشتہ کئی سالوں سے خود کش حملوں کا ریکارڈ رکھ رہا ہوں۔ لبنان میں کیے جانے والے خود کش حملوں کے بارے میں تفصیلی ریکارڈ آج بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ فلسطین کے خود کش بمباروں کے بارے میں انتہائی تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاچکا ہے۔  ایک مغربی مصنفہ نے فلسطین کی خواتین خودکش بمباروں کے بارے میں ساری معلومات ایک کتاب میں اکٹھی کردی ہیں۔

پاکستان میں نہ تو خود کش حملہ آوروں کے بارے میں کوئی مستند اور قابل بھروسہ معلومات ہیں اور نہ ان حملوں کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھونے والوں کا کوئی ریکارڈ ہے۔ 2014 میں ایک کانفرنس کے لیے عراق گیا۔ کربلا سے نجف کے راستے میں  بجلی کے ہر کھمبے پر دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ایک شہری کی تصویر اس کے تعارف کے ساتھ موجود تھی۔

اربیل بھی گیا یہ موصل سے صرف 65 میل کے فاصلے پر واقع عراق کا ایک شہر ہے۔ موصل اس وقت داعش کے قبضے میں تھا۔ اربیل میں موصل سے آنے والے پناہ گزینوں کے کیمپ بھی دیکھے۔ داعش کے تشدد کی شکار یزیدی خواتین  اور ان کے لیے قائم امدادی کیمپ بھی دیکھے۔ ان خواتین کی حالت صرف ناقابل بیان ہی نہیں تھی نفسیاتی امراض کا معالج ہونے کے باوجود میرے لیے وہ ناقابل مشاہدہ اور ناقابل برداشت بھی تھی۔ لیکن جو لوگ ان کی نفسیاتی بحالی کا کام کر رہے تھے ان کی تعریف کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ ان کی ذرا سی مدد کر کے جو اطمینان محسوس ہوا وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کبھی کبھار ہی نصیب ہوتا ہے۔

گو پاکستان میں شدت پسندی کی سطح موصل کے مقابلے میں کہیں کم رہی مگر اس کے شکار افراد کی نفسیاتی بحالی بھی عراق کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہے۔ شدت پسندی کے شکار معاشروں میں مصیبت صرف زخمی ہونے والے افراد یا جان سے جانے والے مظلوموں کے لواحقین پر نہیں گزرتی۔ یہ پورے معاشرے پر عذاب بن کر نازل ہوتی ہے اور اس سے معاشرے کا ہر فرد ذہنی طور پر متاثر ہوتا ہے۔

پشاور کی ماؤں سے پوچھیے وہ کس دل سے اپنے بچے صبح کو تعلیم کے لیے روانہ کرتی ہیں اور ان کی سکول سے واپسی تک وہ کیسی کیسی دعائیں کرتی ہیں۔ یہ اس بچے کی ماں ہے اس کا بچہ بخیریت اس کے سامنے ہے۔ اسی طرح کراچی میں رہنے والے، میلاد منانے والے، عزاداری  میں شرکت کرنے والے، جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے جانے والے، خرید و فروخت کرنے کے لیے پرہجوم بازاروں میں جانے والے اور پولیس میں کام کرنے کے لیے صبح صبح گھر سے نکلنے والے سب لوگ روزانہ اسی کرب و اذیت سے گزرتے ہیں۔

پورا معاشرہ گزشتہ چالیس برسوں سے سے اسی غیر یقینی صورتحال کا شکار  اور اسی خوف کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ ایسے معاشرے میں بسنے والے افراد سے ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے پہاڑ سا کلیجہ چاہیے۔ معاشرے کے ان افراد کے بارے میں کون یہ گمان کر سکتا ہے کہ ذہنی تناؤ کی اس چالیس سالہ کیفیت نے ان کے جسمانی امراض،  سماجی مسائل اور آپس کی ناچاقیوں میں اضافہ نہ کیا ہوگا۔ لیکن ان افتادگان خاک کی ذہنی صحت کی خبر کس نے لی؟

اب ذرا پاکستان سے باہر نکلیے عراق کے بعض علاقوں میں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر PTSD کے مریضوں کی تعداد بعض علاقوں میں کل آبادی کا 50 سے 70 فیصد ہے۔ سوائے موصل کے کسی اور جگہ نفسیاتی بحالی کا کوئی قابل ذکر کام نہیں ہو رہا۔ یمن، شام اور لیبیا کے باسیوں کا تو خیر ذکر ہی فضول ہے۔ جہاں جان کے لالے پڑے ہوں وہاں ذہنی صحت کس شمار قطار میں آتی ہے۔

لیکن کیا وہ ممالک جہاں انسانی خون اوپر بیان کردہ ممالک کی طرح ابھی سستا نہیں ہوا ذہنی صحت کے حوالے سے بہتر ہیں؟ جی یقینا، یہاں شفاخانے نے بھی موجود ہیں اور ذہنی صحت کے ماہرین بھی۔ لیکن انسانی استحصال کی ایک مختلف صورت حال یہاں آپ کی منتظر ہے۔ ادویات بنانے والی کمپنیوں نے معمولی اداسی اور روزمرہ کے ذہنی دباؤ کو بھی جسمانی بیماری بنا دیا ہے۔ اور اب ان روزمرہ کی کیفیات کے لیے بھی دوائیں تجویز کی جانا شروع ہوگئی ہیں۔ گو سائنسی طور پر ان ادویات کے مفید ہونے کے شواہد بنیادی طور پر ان تحقیقات میں ملتے ہیں ہیں جن کو یہ دوا ساز کمپنیاں  اسپانسر کرتی ہیں۔ مگر اس کے باوجود بھی یہ ادویات زندگی بچانے والی ادویات کی طرح فروخت کی جاتی ہیں۔ میرے اپنے مشاہدے میں بے شمار افراد ایسے ہیں جو سالہا سال سے ان ادویات کو بغیر کسی فائدے کے استعمال کر رہے ہیں اور اس خوف میں مبتلا ہیں کہ اگر ان ادویات کی ایک ہی خوراک نہ لیں تو ان کی حالت مزید خراب ہو جائے گی۔ ان ادویات کو لیے بغیر یہ افراد صبح کو اپنے گھر سے کام کے لیے نہیں نکل پاتے۔

سائیکو تھراپی کے ذریعے ہونے والا علاج زیادہ وقت لیتا ہے۔ اس علاج کے لیے ماہرین کی تربیت بھی وقت مانگتی ہے۔ مگر انگلینڈ کے نظام صحت NHS اور انشورنس کمپنیوں نے اس کا حل سی بی ٹی CBT میں ڈھونڈا ہے۔ یہ نفسیاتی علاج کا ایک طریقہ ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے ذریعے ڈپریشن کو سولہ سے بیس سیشنز  میں ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

اس دعوے کو درست ثابت کرنے کے لیے سی بی ٹی کے لیے اسی طرح شواہد اکھٹا کیے گئے جیسے دباؤ کے لیے کیے گئے تھے۔ صرف انگلینڈ میں سی بی ٹی کی سرکاری ترویج کے لیے بے پناہ فنڈز مختص کیے گئے۔ لیکن ڈپریشن کی دواؤں اور سی بی ٹی پر ہونے والی تحقیقات کے مثبت نتائج انگلینڈ میں خودکشی کی روزانہ بڑھنے والی شرح کو کنٹرول نہ کر سکے۔

نفسیاتی علاج کے شعبے سے تقریبا تیس برسوں کی وابستگی کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ذہنی صحت ہماری کسی سیاسی ترجیح کا حصہ کبھی نہیں رہی۔ سیاسی اور مذہبی قائدین نے کبھی یہ خیال نہ کیا کہ ان کی شعلہ فشانی معاشرے کا سکون کس طرح غلط کرتی ہے۔ جب وہ مردہ اختلافات کی آگ بھڑکاتے ہیں تو لوگوں کے باہمی تعلقات کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔

شدت پسندوں کی تربیت کرنے والے اداروں نے کبھی نہیں سوچا کہ ان افراد کی کارگزاریاں ذہنوں پر کیا اثرات مرتب کریں گی۔ کشمیر میں سات دہائیوں سے جاری صورتحال اور اب دو ماہ کا کرفیو نوجوان بچے بچیوں کی جذباتی نشوونما کو کیسے متاثر کرے گا۔ فلسطینی بچے کیسے جوان ہوتے ہیں، فرقہ وارانہ زندگی کس طرح اپنے اردگرد آگ لگاتی ہے، ان سب پر سیاسی اور مذہبی قائدین نے نہ کبھی سوچا اور نہ اس کو کنٹرول کرنے کے لیے کبھی کچھ کیا۔

 باقی رہے ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین، سو وہ اپنے کلینک چلاتے رہیں گے۔ دواساز کمپنیوں کے خرچ پر بیرون ملک کانفرنسز میں شرکت کرتے رہیں گے اور بدلے میں ان کمپنیوں کی دوائیں بیچتے رہیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ