جوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا

ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعہ کے رپورٹ کیا ہے ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کا آج 28واں دن ہے۔

 امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔



رات 11 بج کر 55 منٹ پر

پاکستان اور چین کا امن کے لیے سفارتی روابط کو فروغ دینے کا عزم

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آج چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی واحد مؤثر راستہ سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ مذاکرات کے دور میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کی پیشکش اسی اصولی مؤقف کی عکاس ہے، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔


رات 11 بج کر 45 منٹ پر

جرمن چانسلر کا ایران جنگ کے بارے میں شکوک کا اظہار

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ انہیں اس بات پر شکوک ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے پاس ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود ہے، تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ جرمنی اصولی طور پر جنگ کے بعد خطے کو مستحکم کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہوگا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مرز نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے قائل نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے موجودہ اقدامات کامیابی کی طرف لے جائیں گے۔

یہ کانفرنس جرمن اخبار ایف اے زیڈ (FAZ) کے زیر اہتمام منعقد ہوئی تھی۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے ایران نے اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے ایندھن کی ترسیل بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

یورپی ممالک اس تنازع میں براہ راست شامل ہونے سے گریزاں رہے ہیں، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

مرز کے مطابق جرمنی سفارتی کوششوں میں شامل ہے، جن میں خلیجی ممالک سے بات چیت اور جی سیون کے پلیٹ فارم پر حل تلاش کرنا شامل ہے، جبکہ امریکہ بھی مشترکہ مؤقف اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔


رات 11 بج کر 30 منٹ پر

روس ایران کو جدید ڈرون فراہم کر رہا ہے: امریکی اور یورپی حکام

 امریکی اور یورپی حکام کا کہنا ہے کہ روس ایران کو ڈرونز کی ایک نئی کھیپ بھیج رہا ہے، جس میں وہ جدید ورژنز بھی شامل ہیں جن کی ٹیکنالوجی ابتدائی طور پر ایران نے یوکرین جنگ کے بعد ماسکو کو فراہم کی تھی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان ڈرونز میں نیویگیشن سسٹم سمیت کئی اہم بہتریاں کی گئی ہیں۔

ایران گذشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اسرائیل، خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی اڈوں پر ڈرون حملے کر رہا ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئے۔

اگرچہ ایران کے پاس پہلے سے شاہد ڈرونز کا ذخیرہ موجود ہے، تاہم یوکرین جنگ کے دوران روس نے ان کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔

یورپی انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق اس ماہ روس اور ایران کے درمیان ڈرونز کی منتقلی کے حوالے سے نہایت سرگرم مذاکرات ہوئے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ یہ کھیپ ایک بار کی ترسیل ہے یا مستقبل میں مزید سپلائی کا حصہ ہوگی۔

حکام نے ڈرونز کی تعداد یا ان کے اثرات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ ایک یورپی اہلکار کے مطابق محدود تعداد میں ڈرونز جنگ کے نتائج پر بڑا اثر نہیں ڈالیں گے۔

امریکی  اہلکار نے یہ بھی کہا کہ یہ واضح نہیں کہ روس ایران کو جدید ڈرونز کیوں فراہم کر رہا ہے، کیونکہ ہر بھیجا جانے والا ہتھیار وہ ہے جو روس خود یوکرین میں استعمال نہیں کر سکے گا۔


رات 11 بج کر 05 منٹ پر

ایران میں مقاصد زمینی افواج کے بغیر حاصل کر سکتے ہیں: امریکی وزیر خارجہ

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں اپنے اہداف زمینی فوج بھیجے بغیر حاصل کر سکتا ہے اور توقع ہے کہ جاری فوجی آپریشن چند ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں خطے میں مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔

روبیو نے یہ بیان فرانس میں جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد امریکہ واپسی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ جہاں انہوں نے گذشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے تنازع پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اس جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر رہا ہے، جن میں ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنا، ان ہتھیاروں کی تیاری کے کارخانوں کو نشانہ بنانا، اور اس کی بحریہ اور فضائیہ کو کمزور کرنا شامل ہے۔

ان کے مطابق یہ اہداف ’مہینوں نہیں بلکہ چند ہفتوں‘ میں مکمل کر لیے جائیں گے۔ روبیو نے زور دیتے ہوئے کہا، ’ہم زیادہ تر اہداف میں شیڈول سے آگے ہیں اور ہم انہیں بغیر کسی زمینی فوج کے حاصل کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ خطے میں ہزاروں اضافی فوجیوں کی حالیہ تعیناتی کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مختلف ممکنہ حالات سے نمٹنے کے لیے مزید آپشنز فراہم کرنا ہے، تاہم انہوں نے آپریشنل تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔


رات 10 بج کر 05 منٹ پر

جوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا

 ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے تہران کے خلاف اپنی مہم کو ’مزید تیز اور وسیع‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا (IRNA) نے رپورٹ کیا کہ ایک ہیوی واٹر پلانٹ اور یلو کیک پیدا کرنے والے پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ یلو کیک یورینیم کی ایک مرتکز شکل ہوتی ہے جو خام معدنیات سے کثافتیں دور کرنے کے بعد حاصل کی جاتی ہے۔

دوسری جانب ایران کے خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی جوہری توانائی کے ادارے کا کہنا ہے کہ ارداکان میں یلو کیک پلانٹ پر حملے کے بعد تابکاری خارج ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے بھی جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ حملوں کے بعد تنصیبات کے باہر تابکاری کی سطح میں کسی اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔ ادارے نے مزید بتایا کہ وہ اس معاملے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے اور رپورٹ کی تحقیقات جاری ہیں۔

یہ حملے ایک ایسے وقت میں رپورٹ ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مزید وقت دیا گیا ہے۔

اس صورت حال کے بعد عالمی منڈیوں میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے اور اس جنگ کے معاشی اثرات مشرق وسطیٰ سے باہر تک پھیل رہے ہیں۔

ٹرمپ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول ختم کروائیں، جو ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل گزرتا ہے۔

ایران نے امریکہ کی 15 نکاتی جنگ بندی تجویز مسترد کر دی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول چھوڑنے کی شرط بھی شامل تھی، جبکہ مزید ہزاروں امریکی فوجی علاقے میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر چھ اپریل تک راستہ نہ کھولا گیا تو ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں۔


شام آٹھ بج کر 40 منٹ پر

ایران پر سینکڑوں ٹوما ہاک میزائل فائر کرنے پر پینٹاگون حکام کو تشویش

خبر رساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری چار ہفتوں پر محیط جنگ کے دوران امریکی فوج نے ایران پر 850 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل فائر کیے ہیں۔

جس سے ان جدید ہتھیاروں کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے جمعہ کے روز باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس تیز رفتار استعمال نے پینٹاگون کے کچھ حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اس حوالے سے اندرونی سطح پر مزید میزائلوں کی دستیابی بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

تاہم خبر رساں ادارہ روئٹرز اس رپورٹ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے روئٹرز کو دیے گئے بیان میں کہا کہ امریکی فوج کے پاس ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے اہداف حاصل کرنے کے لیے وافر مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور ہتھیاروں کے ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ امریکی افواج کو مضبوط بنانے پر توجہ دیتے ہیں اور دفاعی ٹھیکیداروں کو تیزی سے جدید امریکی ساختہ ہتھیار تیار کرنے کی ہدایت دیتے رہیں گے۔

ادھر پینٹاگون، جسے ٹرمپ نے محکمہ جنگ کا نام دینے کا حکم دیا ہے، نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ فوج کے پاس ہر قسم کے مشن کو کسی بھی وقت مکمل کرنے کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔


شام آٹھ بج کر 20 منٹ پر

امریکہ اور اسرائیل کا ایران میں سٹیل کے کارخانوں پر حملے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی میڈیا کو رپورٹ کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے جمعے کو ایران کے کم سے کم دو علاقوں میں سٹیل کے کارخانوں پر حملے کیے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس ایجنسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے خوزستان اور اصفہان میں سٹیل کے کارخانوں پر حملے کیے ہیں۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔ 


شام سات بج کر 40 منٹ پر

ایران سے منسلک ہیکرز کا ایف بی آئی ڈائریکٹر کی ای میل ہیک کرنے کا دعوی

خبر رساں ادارے روئٹرز نے جمعے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران سے منسلک ہیکرز نے امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے ذاتی ان باکس کی ہیکنگ کا عوامی طور پر دعویٰ کیا ہے، اور ڈائریکٹر کی تصاویر اور ان کا مبینہ ریزیومے شائع کیا ہے۔

محکمہ انصاف کے ایک اہلکار نے روئٹرز کو تصدیق کی کہ کاش پٹیل کی ای میلز تک رسائی حاصل کی گئی لیکن انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

ایف بی آئی نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔


شام چھ بج کر 55 منٹ پر

 ’امریکی اڈوں سے دور رہیں‘: ایرانی پاسداران انقلاب کی مشرق وسطیٰ میں شہریوں کو وارننگ

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے  پاسداران انقلاب نے جمعے کو پورے مشرق وسطیٰ میں شہریوں کو امریکی افواج کے قریبی علاقوں سے دور رہنے کی وارننگ جاری کر دی۔

یہ وارننگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آئی ہے کہ ایک ماہ طویل جنگ کو ختم کرنے کے لیے بات چیت ’اچھی طرح چل رہی ہے۔‘

پاسداران انقلاب کی وارننگ اس وقت آئی جب ٹرمپ نے دوبارہ تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے یا اپنے توانائی کے اثاثوں کی تباہی کا سامنا کرنے کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی اور اسے جمعہ سے بڑھا کر چھ اپریل کر دیا ہے۔

ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی شرائط پر یہ لڑائی ختم کرنا چاہتا ہے اور اسرائیل اور خلیج بھر میں اہداف کے خلاف حملوں میں کسی کمی کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔


شام چھ بج کر 20 منٹ پر

اسرائیل کی ایران پر حملوں میں توسیع کی وارننگ

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اور وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نےایرانی حکومت کو اسرائیل میں شہری آبادی پر میزائل فائرنگ بند کرنے کی وارننگ دی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وارننگز کے باوجود، فائرنگ جاری ہے اور اس لیے ایران میں (اسرائیلی فوجی) حملے بڑھیں گے اور اضافی اہداف اور علاقوں تک پھیلیں گے جو اسرائیلی شہریوں کے خلاف ہتھیار بنانے اور چلانے میں حکومت کی مدد کرتے ہیں۔‘

کاٹز نے کہا کہ ’وہ اس جنگی جرم کی بھاری اور بڑھتی ہوئی قیمت ادا کریں گے۔‘

اسرائیل نے بتایا ہے کہ جمعے کو فائر کیے جانے ایرانی میزائلوں کے تیسرے حملے نے ملک کے کئی حصوں کو نشانہ بنایا ہے۔


شام پانچ بج کر 24 منٹ پر

آبنائے ہرمز دشمنوں سے منسلک جہازوں کے لیے بند ہے: ایرانی پاسداران انقلاب

ایرانی پاسداران انقلاب نے جمعہ کو اعلان کیا کہ انہوں نے سٹریٹجک طور پر انتہائی اہم آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین بحری جہازوں کو روک کر واپس کر دیا ہے، اور اس آبی گزرگاہ کو اپنے ’دشمنوں‘ سے منسلک بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کے لیے بند قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ ’آج صبح، بدعنوان امریکی صدر کے اس جھوٹ کے بعد کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، مختلف قومیتوں کے تین کنٹینر جہازوں کو آئی آر جی سی نیوی کی جانب سے وارننگ کے بعد واپس کر دیا گیا۔‘

پاسداران نے مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’صیہونی-امریکی دشمنوں کے اتحادیوں اور حامیوں سے تعلق رکھنے والی بندرگاہوں ’سے اور تک‘ کسی بھی منزل اور کسی بھی راستے سے کسی بھی جہاز کی نقل و حرکت ممنوع ہے۔‘

یہ پیش رفت اس تنگ آبی گزرگاہ سے بحری ٹریفک پر نئی غیر یقینی صورت حال پیدا کرتی ہے، جو عام حالات میں دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس کی فراہمی کے لیے ایک اہم گزرگاہ کے طور پر کام کرتی ہے، اس کے علاوہ دیگر ضروری مصنوعات بھی اسی راستے سے منتقل ہوتی ہیں۔

حال ہی میں، ایران نے 26 جہازوں کو ایک متبادل راستے سے آبنائے عبور کرنے کی منظوری دی تھی، جو لارک آئی لینڈ کے گرد واقع ہے، جو ایران کے ساحل کے بالکل قریب ہے۔

اس راستے کو معروف شپنگ انڈسٹری کی لائیڈز لسٹ نے ’تہران ٹول بوتھ‘ کا نام دیا ہے۔ منظور شدہ جہاز بنیادی طور پر یونانی اور چینی ملکیت کے تھے، ساتھ ہی کچھ انڈین، پاکستانی اور شامی ملکیت کے جہاز بھی شامل تھے۔

انرجی مارکیٹ انٹیلی جنس فرم کے پی ایل آر نے چینی شپنگ کمپنی کاسکو سے تعلق رکھنے والے دو کنٹینر جہازوں کی نشاندہی کی جنہوں نے جمعہ کو آبنائے عبور کرنے کی کوشش کی لیکن واپس مڑنے پر مجبور ہو گئے۔

دونوں جہاز 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے آغاز سے ہی خلیج میں پھنسے ہوئے تھے۔


دن چار بج کر 33 منٹ پر

امریکی اور اسرائیلی حملوں سے 120 عجائب گھروں، تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچا: ایران

تہران سٹی کونسل کی ہیریٹیج کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 120 ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے حامل مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔

احمد علوی نے بتایا کہ ’مختلف صوبوں میں کم از کم 120 عجائب گھروں، تاریخی عمارتوں اور ثقافتی مقامات کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔‘

سرکاری ٹی وی کے مطابق انہوں نے یونیسکو کی فہرست میں شامل ’گلستان پیلس‘ (جس کا موازنہ اکثر فرانس کے ورسائے محل سے کیا جاتا ہے) کے علاوہ تہران کے مرمر پیلس، تیمور تاش ہاؤس اور سعد آباد پیلس کے نام بھی لیے۔

سعد آباد پیلس کمپلیکس دارالحکومت کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقامات میں سے ایک ہے اور اس میں ایک وسیع پارک اور ایرانی تاریخ کے لیے وقف عجائب گھر شامل ہیں۔

ثقافتی اداروں کے علاوہ، اس کمپلیکس میں ایرانی صدر اور گورنر صوبہ تہران کی رہائش گاہیں بھی واقع ہیں، جبکہ عدلیہ اور پاسدارانِ انقلاب کی عمارتیں بھی اس کے قریب ہی موجود ہیں۔


دن چار بج کر دس منٹ

امریکہ نے میناب کے سکول پر منصوبہ بندی کے تحت حملہ کیا: ایران

ایران کے وزیرِ خارجہ نے جمعے کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے پہلے دن میناب شہر میں واقع ایرانی سکول پر ہونے والے مہلک حملے کو امریکہ کا ’منصوبہ بند‘ حملہ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 28 فروری کو میناب میں ایک ایرانی پرائمری سکول پر ہونے والے حملے پر منعقدہ ہنگامی بحث سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ’سوچے سمجھے اور مرحلہ وار حملے میں 175 سے زائد طلبہ اور اساتذہ کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔‘

اپنے ویڈیو خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’یہ حملہ ایک جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم تھا، جس کی سب کی جانب سے غیر مبہم مذمت اور مجرموں کا بلا امتیاز احتساب ضروری ہے۔‘

دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کونسل سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ اس بمباری نے ’روح کو جھنجھوڑ دینے والا خوف‘ پیدا کیا ہے۔

اس حملے میں ہلاک ہونے والے دو بچوں کی ماں محدثہ فلاحات نے بھی ویڈیو کے ذریعے کونسل سے بات کی اور جنیوا میں موجود سفارت کاروں سے اپیل کی کہ ’اس المیے کو فراموش نہ ہونے دیں۔‘

انہوں نے اپنے جذباتی خطاب میں کہا: ’کوئی بھی ماں یہ الفاظ سننے کے لیے تیار نہیں ہوتی کہ آپ کا بچہ اب واپس نہیں آئے گا۔‘

دن 2 بج کر 30 منٹ

بندرگاہ پر ’دشمن ڈرونز‘ کا حملہ: کویت

کویت کے حکام نے کہا ہے کہ جمعے کو ملک کی مرکزی تجارتی بندرگاہ کو ڈرون حملے میں نقصان پہنچا ہے۔

کویت پورٹس اتھارٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’شُوَیخ بندرگاہ کو صبح سویرے ’دشمن ڈرونز‘ نے نشانہ بنایا، اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق صرف مادی نقصان ہوا ہے جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘


دن ایک بج کر 15 منٹ

اقوام متحدہ کا ایران سکول حملے پر امریکہ سے ’انصاف‘ کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 28 فروری کو ایران میں ایک سکول پر ہونے والے بم حملے کی غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات مکمل کرے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ترک نے کہا کہ اس حملے نے ’شدید خوف و دہشت‘ پیدا کیا۔

ان کا کہنا تھا ’میناب کے شجارہ طیّبہ ایلیمنٹری اسکول پر ہونے والا بم دھماکہ فطری اور انتہائی خوف ناک ردعمل کا باعث بنا۔‘

’حملہ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ اس واقعے کی بروقت، غیرجانب دار، شفاف اور مکمل تحقیقات کریں۔‘

ترک نے مزید کہا کہ اعلیٰ امریکی حکام کے مطابق یہ حملہ تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہے۔

’میں چاہتا ہوں کہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے۔ اس خوفناک نقصان پر انصاف ضروری ہے۔‘ اے ایف پی


صبح 10 بجے

امریکہ کا مزید 10 ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے پر غور

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں مزید 10,000 تک اضافی زمینی فوجی بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسا اس لیے کیا جا رہا تاکہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کو مزید فوجی آپشنز فراہم کیے جا سکیں۔

وال سٹریٹ جرنل نے یہ بات جمعرات کو امریکی محکمہ دفاع کے منصوبہ سے آگاہ حکام کے حوالے سے رپورٹ کی۔


صبح سات بج کر 15 بجے

’ایران نے توانائی تنصیبات پر حملوں میں 10 روزہ وقفے کی درخواست نہیں کی‘

امریکی نیوز ویب سائٹ وال سٹریٹ جرنل نے جمعرات کو امن مذاکرات کے ثالثوں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایران نے اپنی توانائی کی تنصیبات پر حملوں میں 10 روزہ وقفے کی کوئی درخواست نہیں کی اور نہ ہی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 15 نکاتی منصوبے پر اپنا حتمی جواب دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے 10 دن کے لیے روک رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ درخواست ایرانی حکومت کی جانب سے کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات ’بہت اچھے‘ جا رہے ہیں۔ روئٹرز

صبح چھ بج کر 45 بجے

اسرائیل کے تہران میں ’انفراسٹرکچر‘ اہداف پر حملے

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کی صبح تہران میں ’انفراسٹرکچر‘ اہداف پر حملے کیے ہیں۔

ایک مختصر فوجی بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج نے تہران کے وسط میں ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر حملوں کا سلسلہ مکمل کر لیا۔ اے ایف پی


صبح چھ بج کر 15 بجے

ایران کے توانائی پلانٹس پر حملے 10 دن کے لیے روک رہے ہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ ایرانی حکومت کی درخواست کے مطابق ایران کے توانائی پلانٹس پر حملوں کو 10 دن کے لیے روک رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران کے ساتھ بات چیت ’بہت اچھی‘ جا رہی ہے۔

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ’ایرانی حکومت کی درخواست کے مطابق… میں توانائی پلانٹس کی تباہی کی مدت کو 10 دن کے لیے مؤخر کر رہا ہوں تاکہ یہ پیر، چھ اپریل، 2026، شام 8 بجے (ایسٹرن ٹائم) تک بڑھ جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’بات چیت جاری ہے اور جعلی نیوز میڈیا اور دیگر کی گمراہ کن باتوں کے برعکس، یہ بات چیت واقعی بہت اچھی جا رہی ہے۔‘

بعد میں انہوں نے فاکس نیوز کے پروگرام ’دی فائیو‘ میں بتایا ’میں نے انہیں 10 دن دیے تھے۔ انہوں نے سات دن مانگے تھے۔‘

ٹرمپ نے، جو ایران کی جنگ کے بارے میں اپنے اہداف اور ٹائم لائن کو تبدیل کرتے رہے ہیں، فاکس نیوز کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ جنگ جیت چکا ہے۔

انہوں نے کہا ’ایک لحاظ سے ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔‘

ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ایران کو کوئی معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ اسے مسلسل حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔روئٹرز

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا