لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) میں گیٹس فاؤنڈیشن کی مالی معاونت سے پاکستان کا پہلا قومی مصنوعی ذہانت (اے آئی) مرکز قائم کیا جا رہا ہے، جو مقامی زبانوں میں آگہی فراہم کرنے والا اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ ہو گا۔
اس مرکز کا بنیادی ہدف زچہ، نومولود اور بچوں کی صحت کے لیے قومی سطح کے الیکٹرانک ڈیٹا کو یکجا کرنا اور جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے بروقت جان بچانے والے حل فراہم کرنا ہے۔
مثال کے طور پر وہ مسئلہ جس کے تحت ایک شہر میں موجود خاتون کا میڈیکل ریکارڈ دوسرے شہر میں قابل رسائی نہیں ہوتا، اسے اے آئی مرکز کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
اس بارے میں ڈاکٹر مریم نے کہا ’کوئی خاتون کہیں سے بھی علاج کرانا چاہے گی تو اس کا الیکٹرانک ریکارڈ ہر جگہ دستیاب ہوگا۔‘
پہلے مرحلے میں تین سے پانچ سال تک زچہ و نومولود صحت کے لیے مربوط اے آئی سسٹم تیار کیا جائے گا، جسے بعدازاں دیگر شعبوں تک وسعت دی جائے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ ماڈل مستقبل میں تعلیم، پالیسی سازی، گورننس اور دیگر عوامی شعبوں میں بھی استعمال ہو سکے گا۔
گیٹس فاؤنڈیشن کی نمائندہ مبارک امام نے اس منصوبے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا ’مصنوعی ذہانت عالمی معیار کے طبی علم کو ملک کے دور دراز علاقوں، استور سے زیارت تک، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز تک پہنچا کر اس صورتِ حال کو بدل سکتی ہے۔‘
پاکستان میں زچہ اور نوزائیدہ اموات کی شرح خطے میں بلند ترین ہے۔ ہر ایک لاکھ پیدائش پر 186 خواتین جان سے جاتی ہیں جبکہ ایک ڈاکٹر اوسطاً 7.5 لاکھ آبادی کے لیے دستیاب ہے۔
ایسے میں بروقت تشخیص، خطرات کی نشاندہی اور موثر ریفرل نظام جان بچانے کے لیے ضروری ہیں۔ اے آئی حب اسی خلاء کو پُر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
عملی طور پر یہ نظام ایک فرسٹ لائن ہیلتھ ورکر کو یہ صلاحیت دے گا کہ وہ اے آئی کی مدد سے خون کی کمی جیسی جان لیوا پیچیدگیوں کی فوری نشاندہی کر سکے اور بروقت ریفرل ممکن بنائے۔ اس طرح زچہ اموات میں نمایاں کمی ممکن ہے۔
ڈاکٹر مریم کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان اور لمز دونوں کے لیے سنگِ میل ہے۔
انہوں نے کہا ’اس مرکز کا آغاز ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت کے شعبے سے کیا جا رہا ہے کیونکہ یہی وہ شعبہ ہے جہاں فوری توجہ کی اشد ضرورت ہے۔‘
یہ اقدام نہ صرف صحت کے شعبے میں تبدیلی لائے گا بلکہ پاکستان کے اے آئی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنائے گا اور مستقبل میں دیگر قومی ترجیحی شعبوں میں بھی وسعت اختیار کرے گا۔
یہ کامیابی پاکستان کو ان ممالک کی صف میں کھڑا کرتی ہے جو ذمہ دار قومی سطح کے مصنوعی ذہانت پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑے سماجی چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں۔