منگل کی شب شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کا بوئنگ 737 طیارہ بحیرۂ عرب کے قریب اچانک لاپتہ ہوگیا تھا۔ واقعے کے 12 گھنٹے بعد طیارے کا ملبہ تو تلاش کر لیا گیا، تاہم حادثے کو دو روز گزرنے کے باوجود طیارے میں سوار عملے کے پانچ ارکان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
سرچ آپریشن تاحال جاری ہے اور عملے کے اہل خانہ مسلسل بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔
طیارے میں سوار ایئرکرافٹ انجینیئر محمد عارف صدیقی کے گھر میں دو روز سے انتظار کی اذیت نے ڈیرے ڈال رکھےہیں۔ گھر کے باہر لگے شامیانے اور عزیزو اقارب کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
عارف صدیقی کے صاحبزادے حذیفہ صدیقی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’میرے والد پی آئی اے سے ڈپٹی چیف انجینیئر کے عہدے سے ریٹائرہونے کے بعد بھی شعبہ ہوا بازی سے وابستہ تھے اور نجی کمپنی میں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔
شارجہ سے روانگی سے قبل انہوں نے حسب معمول والدہ کو فون کرکے کراچی واپسی کی اطلاع دی تھی۔ ہمیں طیارہ حادثے کی اطلاع خبروں سے ملی جس کے بعد پاکستان ایوی ایشن نے حادثے کی تصدیق کی۔
’تاہم اس وقت پاکستان نیوی اور پاکستان ایوی ایشن میں رابطے سے سرچ آپریشن جاری ہے باقی والد کے حوالے سےکوئی اطلاعات نہیں مل رہی۔‘
حذیفہ صدیقی نے والد عارف صدیقی کے کیریئر کے حوالے سے بتایا کہ ’40 سال سے زائد عرصے تک پی آئی اے میں خدمات انجام دیں۔ اب نجی کمپنی کے ساتھ کام کررہے تھے لاتعداد فلائٹس کے ساتھ آنا جانا رہا ہے۔ ان کے لیے یہ معمول کی بات تھی۔‘
بقول حذیفہ صدیقی: ’ہم بھی یہ چاہ رہے ہیں کہ والد کےحوالے سے مصدقہ اطلاعات ملیں کیوں کہ اس وقت ہم ایک اذیت اور کرب سے گزر رہے ہیں۔ والدہ کی طبیعت اس حادثے کے بعد بہتر نہیں۔ ہم پریشانی میں مبتلا ہیں۔ والد کے جانے کا دکھ ہے۔
’متعلقہ ادارے پرامید ہیں ہم سے کہا جا رہا ہے کہ بچ جانے کا امکان اب بھی موجود ہے۔ ہمیں صرف اللہ سےامید ہے کہ کوئی معجزہ ہو جائے۔‘
دوسری جانب طیارے کے کپتان رضوان ادریس کے اہل خانہ بھی شدید کرب میں مبتلا ہیں۔ پاکستان ایئر فورس کے سابق فائٹر پائلٹ اور بعد ازاں کمرشل ایوی ایشن سے وابستہ کیپٹن رضوان ایک تجربہ کار پائلٹ تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے صاحبزادے شہیر رضوان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ’حادثے کے پانچ گھنٹے بعد انہیں اطلاع ملی وہ بھی خبروں سے۔
انہوں نے کہا کہ والد سے آخری بار منگل کی شام تقریباً سات بجے بات ہوئی تھی، جس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
’خاندان دو روز سے کسی مثبت اطلاع کا منتظر ہے اور مسلسل دعاؤں میں مصروف ہے۔ امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے اللہ کوئی معجزہ دکھا دے یہی دعا ہے۔‘
حادثے میں لاپتہ ہونے والے دیگر ارکان میں فرسٹ آفیسر فیصل محمود جتوئی، ایئرکرافٹ انجینیئر محمد حامد خان اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔ تمام عملے کا تعلق کراچی سے ہے۔
ان کے گھروں میں رشتہ داروں، دوستوں اور عزیز و اقارب کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جب کہ اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ سرچ آپریشن کو ہر ممکن وسائل کے ساتھ جاری رکھا جائے تاکہ ان کے پیاروں کے بارے میں جلد از جلد کوئی حتمی اطلاع مل سکے۔