امریکی ایئر مین کی ایران سے بازیابی کا مشن کیسے انجام دیا گیا؟

امریکی حکام کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایئر مین کا سراغ لگایا اور ایرانی فورسز کو مس لیڈ کرنے کے لیے ڈیسیپشن ٹیکٹیکس استعمال کی۔

ایران کے بہت اندر ایک امریکی فائٹر جیٹ کو شاٹ ڈاؤن کیا گیا، ایک ہائی رسک ریسکیو مشن اور اس کے انجام کی بالکل الگ کہانیاں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ اسے بچا لیا گیا ہے اور اسے سب سے پیچیدہ آپریشنز میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔

ایک امریکی ایف 15 ای فائٹر جیٹ گذشتہ ہفتے ایران کے جنوب مغربی علاقے میں مار گرایا گیا۔ عملے کا ایک رکن، ویپنز سسٹمز آفیسر، ایجیکٹ ہوا اور بچ گیا۔ وہ زخمی تھا، لیکن پھر بھی حرکت کرنے کے قابل تھا۔

اس کے بعد اس امریکی اہلکار کی تلاش کی ایک دوڑ شروع ہو گئی اور امریکی اور ایرانی فورسز دونوں نے اس کی تلاش شروع کر دی۔ 

امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ درجنوں خصوصی فورسز کے علاوہ امریکی جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹرز بھی اس ریسکیو مشن میں شامل تھے، ساتھ ہی سی آئی اے بھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس اہلکار کی جگہ کی ’چوبیس گھنٹے‘ امریکی حکام کی جانب سے نگرانی کی جا رہی تھی جو ریسکیو آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق سی آئی اے نے ایک دھوکہ مہم بھی چلائی، جس سے ایران کے اندر یہ خبر پھیلائی گئی کہ امریکی فورسز نے پہلے ہی دوسرے ایئر مین کو تلاش کر لیا ہے۔

ایرانی حکام نے مقامی لوگوں اور قبائل کو امریکی ایئر مین کی تلاش میں شامل ہونے کا کہا اور ان کی گرفتاری پر ’بڑا انعام‘ دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔

وہ کئی دنوں تک پہاڑی علاقوں میں چھپا رہا۔ رپورٹس کہتی ہیں کہ وہ زیادہ تر دشوار گزار راستوں پر رہا اور تلاش سے بچنے کے لیے اونچی جگہوں کی طرف جاتا رہا۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر وہ 2,100 میٹر بلند پہاڑی پر پہنچ گیا۔ امریکی ایوی ایشن اہلکار خطرناک علاقوں میں اترنے کی صورت میں زندہ رہنے، چھپنے اور فرار کے لیے تربیت یافتہ ہوتے  ہیں اور ان کے پاس ریڈیو/جی پی ایس بیکن، پانی، خوراک، فرسٹ ایڈ اور پستول ہوتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس کا سراغ لگایا اور ایرانی فورسز کو مس لیڈ کرنے کے لیے ڈیسیپشن ٹیکٹیکس استعمال کی۔

امریکی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ دو ٹرانسپورٹ طیارے جو ریسکیو عملے کو لائے تھے تھے، ایران کے اندر ایک دور دراز اڈے سے اڑان بھرنے میں ناکام رہے، اور پھر دشمن کے ہاتھوں سے بچانے کی خاطر انہیں تباہ کر دیا گیا۔

بی بی سی ویریفائی کی تصدیق شدہ فوٹیج اور تصاویر میں وسطی ایران کے ایک پہاڑی علاقے میں ایک دھواں دیتے ہوائی جہاز کا ملبہ نظر آ رہا ہے، جو اصفہان شہر سے تقریبا 50 کلومیٹر (30 میل) جنوب مشرق میں ہے۔

ایران ایک مختلف کہانی بیان کرتا ہے۔ ایرانی فوج نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران دو امریکی C-130 فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ ہو گئے - اور یہ کہ ’جنوبی اصفہان کے ایک ترک شدہ ہوائی اڈے پر دھوکہ دہی اور فرار کا مشن...‘ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی حکام کہتے ہیں کہ وہ اس تک اس وقت پہنچے جب ایرانی فورسز قریب آ رہی تھیں۔ رپورٹس ہیں کہ امریکی فوجیوں نے انہیں دور رکھنے کے لیے فائرنگ بھی کی۔

ٹرمپ کہتے ہیں کہ فضائی اہلکار کو بچا لیا گیا۔ کوئی امریکی جانی نقصان نہیں ہوا۔

حکام نے بتایا کہ امریکی وقت کے مطابق آدھی رات سے پہلے ریسکیو مکمل ہو چکا تھا، اور ایئر مین کو طبی علاج کے لیے کویت بھیج دیا گیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ افسر ’شدید زخمی ہے‘، لیکن ’وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا‘۔ امریکی حکام نے اس ایئر مین کی بازیابی کی اصل جگہ یا اس کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات شیئر نہیں کی ہیں۔

کسی ہالی وڈ فلم کے سکرپٹ کی طرح اس ریسکیو مشن کی مکمل تصویر ابھی سامنے آنا باقی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا