لیبیا کے ساحل پر اٹلی کے حکام کے مطابق پانچ اپریل کو حادثے کا شکار ہونے والی تارکینِ وطن کی کشتی میں تقریباً 105 افراد سوار تھے، جن میں سے 32 کو بچا لیا گیا ہے، جن کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش اور مصر سے ہے۔
لاپتہ تارکینِ وطن میں بعض کا تعلق پاکستان سے ہے، جن میں ایک 22 سالہ راشد آفریدی بھی شامل ہیں، جو خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے تعلق رکھتے ہیں۔
راشد آفریدی کے اہل خانہ کے مطابق وہ گذشتہ سال نومبر میں اٹلی کے لیے گھر سے نکلے تھے اور اہل خانہ سے آخری مرتبہ گفتگو ہفتے (پانچ اپریل) کو ہوئی تھی۔
راشد آفریدی کے پھوپھی زاد عرفان آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ راشد اٹلی جانا چاہتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے یہی راستہ اختیار کیا تھا۔
عرفان کے مطابق: ’راشد کے تین بڑے بھائی ہیں، جن میں ایک لندن میں ہے، ایک جسمانی معذوری کا شکار ہے اور راشد سب سے چھوٹے بھائی تھے۔‘
راشد کے حوالے سے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے انٹر تک تعلیم حاصل کی تھی اور پہلے کولمبو، سعودی عرب اور اس کے بعد مختلف راستوں سے لیبیا پہنچ گئے تھے۔
راشد کے ایک دوسرے رشتہ دار فرمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ راشد کے والد سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔
کشتی حادثہ کیسے پیش آیا؟
بحیرہ روم میں ریسکیو آپریشن کرنے والے غیر سرکاری ادارے سی واچ کے مطابق ہفتے کی شب ان کے ہوائی جہاز کو خطرے کا الرٹ موصول ہوا تھا۔
ادارے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ لکڑی سے بنی کشتی بحیرہ روم میں الٹ گئی تھی، جس میں 32 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے جبکہ باقی 71 افراد لاپتہ ہیں۔
یہ کشتی اٹلی کوسٹ گارڈ کے بیان کے مطابق لیبیا کے تاجورا بندرگاہ سے اٹلی کے لیے ہفتے (پانچ اپریل) کو روانہ ہوئی تھی اور خراب موسم کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
غیر سرکاری ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال فروری سے اب تک 725 تارکینِ وطن ایسے ہی حادثات کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ 2014 سے اب تک 33 ہزار تارکینِ وطن جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
کشتی کے اس حادثے میں بعض پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق راشد کے علاوہ بھی تین دیگر افراد کا تعلق خیبر، بعض کا ضلع باجوڑ جبکہ بعض تارکینِ وطن کا تعلق ملک کے دیگر حصوں سے ہے۔
تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے ابھی تک اس حادثے کی تصدیق اور اس میں پاکستانی شہریوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
اٹلی کوسٹ گارڈ کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور مصر سے تعلق رکھنے والے 32 بچ جانے والے تارکینِ وطن کو اٹلی کے جزیرے لیمپاڈوسا منتقل کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے بھی اس طرح کے غیر محفوظ راستوں سے یورپ جانے والے تارکینِ وطن کی کشتیوں کو حادثات پیش آتے رہے ہیں، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہوتے ہیں۔
تارکینِ وطن زیادہ تر ایجنٹس کے ذریعے مختلف غیر محفوظ راستوں سے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں اور راستے میں انہیں مختلف حادثات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔