سمبارا، انڈیا میں بھی محفوظ نہیں

اندرا گاندھی نے بھٹو کو پیشکش کی کہ وہ کاہن اور سمبارا میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کاہن کا مجسمہ چن لیا۔ یوں یہ مجسمہ اس وقت سے پاکستان کے پاس ہے جبکہ سمبارا کا مجسمہ انڈیا کے پاس ہے۔

سمبارا کا مجسمہ دہلی کے نیشنل میوزیم  میں موجود ہے جہاں اسے ہندوستان کی نسوانی آزادیوں اور وقار کی قومی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے (پبلک ڈومین)

2 جولائی 1972 ۔۔۔۔ شملہ میں معاہدے پر دستخطوں کے لیے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور انڈین ہم منصب اندرا گاندھی پچھلے چار دن سے گفت و شنید میں مصروف ہیں۔ معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

دونوں ملکوں کے مستقبل کے تعلقات، دوطرفہ مسائل اور پاکستانی فوجیوں کی رہائی سمیت متعدد معاملات زیرِ بحث ہیں کہ اس دوران پاکستانی وزیراعظم موہن جو دڑو سے دریافت ہونے والے دو اہم ترین مجسموں کی واپسی کا مطالبہ بھی کر دیتے ہیں۔

ان میں کاہن بادشاہ (King Priest)  اور ایک رقاصہ سمبارا (Dancing Girl) شامل ہیں۔ یہ مجسمے 25 سال پہلے تقسیم کے وقت دہلی میں ایک نمائش کے لیے موہن جو دڑو سے دہلی لائے گئے تھے کہ اسی دوران دو الگ الگ ملک بن گئے اور یہ مجسمے وہیں رہ گئے۔

پاکستان جو اپنے بہت سے اثاثوں کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کر رہا تھا، ان میں یہ دو مجسمے بھی شامل ہو گئے۔ چونکہ یہ موہن جو دڑو سے ملنے والی دو اہم ترین دریافتیں تھیں اس لیے پاکستان ان کی واپسی کی کوششیں کرتا رہا لیکن انڈیا ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔

شملہ معاہدے کے وقت پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایک بار پھر یہ معاملہ انڈیا کے سامنے اٹھا دیا۔ اندرا گاندھی نے بھٹو کو پیشکش کی کہ وہ کاہن اور سمبارا میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کاہن کا مجسمہ چن لیا۔ یوں یہ مجسمہ اس وقت سے پاکستان کے پاس ہے جبکہ سمبارا کا مجسمہ انڈیا کے پاس ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے کاہن کے مجسمے کا انتخاب کیوں کیا؟

 کاہن کا مجسمہ داڑھی والا ہے جس کا تشخص اسلام کے قریب لگتا ہے۔ بھٹو کو اسلام پسند حلقے ان کے سیکولر خیالات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے، اس لیے انہوں نے غالباً اس دباؤ میں کاہن کا مجسمہ چن لیا ہو گا۔ بعض محققین سمجھتے ہیں کہ اس زمانے میں سندھ تہذیب کے تجارتی روابط بابل  ونینوا کی تہذیبوں کے ساتھ موجود تھے، اس لیے وہ یہ قیاس کرتے ہیں کہ کاہن کا مجسمہ دراصل کسی مذہبی پارسا کا ہے جو عراق یا اردن کا کوئی تاجر موہن جو دڑو لایا تھا۔

کیونکہ اس وقت صرف بائیں کندھے کو ڈھانپنے والا انداز میسو پوٹامیہ کی تہذیب میں عام تھا لیکن دوسری جانب جس مواد سے یہ مجسمہ بنا ہوا ہے، اسی سے سندھ تہذیب کی مہریں وغیرہ بھی بنی ہوئی ہیں، جو موہن جو دڑو اور ہڑپا سے ملی ہیں پھر اس کے نقش ونگار بھی اجرک کے ڈیزائن سے ملتے جلتے ہیں۔

1925 میں جب موہن جو دڑو میں کھدائیاں کی جا رہی تھیں تب یہ مجسمہ بھی ملا تھا جس کی اونچائی 17.5 سینٹی میٹر ہے۔ سر جان مارشل نے اسے کنگ پریسٹ کا نام دیا جبکہ مارٹیمر ویلر نے اسے پریسٹ کنگ لکھا کیونکہ مارٹیمر یہ سمجھتا تھا کہ ایسی مقتدر شخصیات کا چلن میسو پوٹامیہ میں ہی عام تھا جبکہ وادیٔ سندھ کی تہذیب میں یہ مجسمہ کسی دیوتا یا کسی تاریخی شخصیت کی نمائندگی  نہیں کرتا۔

 سمبارا پر انڈیا میں تنازع کیا ہے؟

انڈیا سندھ تہذیب پر نہ صرف فخر کا اظہار کرتا ہے بلکہ اس کا سرکاری نام ’انڈیا‘ بھی انڈس تہذیب سے ہی ماخوذ ہے۔ انڈین نصاب میں سندھ تہذیب کو خصوصیت کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔ سمبارا کا مجسمہ دہلی کے نیشنل میوزیم  میں موجود ہے جہاں اسے ہندوستان کی نسوانی آزادیوں اور وقار کی قومی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن گذشتہ کچھ سالوں سے یہ مجسمہ انڈیا میں متنازع بنا ہوا ہے اور انڈین حکومت نے انتہا پسند حلقوں کے دباؤ میں آکر نصابی کتب میں سمبارا کی برہنگی کو پہلے ڈھانپنے کی کوشش کی اور جب اس عمل پر سیکولر حلقوں نے احتجاج کیا تو اب اسے دوبارہ اصلی حالت میں شائع کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ سمبارا کی برہنگی پر انڈیا میں طوفان برپا کیا گیا ہے بلکہ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی تھی جب 1997 میں انڈیا کے پچاسویں یومِ آزادی پر دہلی ٹورازم اینڈ ٹرانسپورٹیشن ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے اپنی ڈائری میں سمبارا کی تصویر شامل کی تو بی جے پی کے اراکین نے اعتراض کیا کہ حکومت کی ڈائری میں ایک برہنہ عورت کی تصویر شامل کی گئی ہے۔

اسی عرصے میں ممتاز آرٹسٹ ایم ایف حسین کی جانب سے ہندو دیوی سرسوتی کی عریاں تصویروں پر بھی تنازع کھڑا ہو گیا، جس پر انڈیا بھر میں آرٹ گیلریوں پر حملے کیے گئے اور ایم ایف حسین کے فن پاروں کی توڑ پھوڑ کی گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے سمبارا کی نیم برہنگی سے ڈرتے ہوئے اس کے مقابلے میں کاہن کے مجسمے کا انتخاب کیا تھا، آج انڈیا بھی سمبارا کے مجسمے سے اس کی برہنگی کی وجہ سے خوف زدہ ہے۔  

سمبارا کی خاصیت کیا ہے؟

سمبارا محض ایک رقاصہ کا مجسمہ نہیں بلکہ یہ سندھ تہذیب کی سیکولر روایات اور جنسی آزادیوں کی علامت کے طور پر موجود ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے بقول کسی بھی قدیم تہذیب میں اس طرح کی کوئی علامت نہیں ملی۔

یہ نامور مجسمہ ماہرِ آثار قدیمہ کو موہن جو دڑو میں کھدائیوں کے دوران اس وقت ملا تھا جب وہ ایک آتش قدے کے قریب پہنچے تھے۔ شاید کانسی کا یہ مجسمہ وہاں کسی اور مقام سے پہنچا تھا۔

چھ انچ لمبے اس مجسمے کی رقاصہ نے بائیں بازو میں 25 اور دائیں بازو میں صرف چار چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔ ہندو ماہرین اسے کسی دیوی سے بھی موسوم کرتے ہیں لیکن موہن جو دڑو میں فی الحال کوئی مذہبی علامت نہیں ملی۔ کچھ ماہرین اسے نیگرو طرز کی عورت سمجھتے ہیں جو شاید یہاں کسی اور خطے سے آیا تھا۔

یونیسکو کنونشن 1972 کی رو سے سمبارا کے مجسمے پر پاکستان کا حق ہے کیونکہ یہ کنونشن نوادرات کو ان ہی ملکوں کی ملکیت قرار دیتا ہے جہاں سے یہ درآمد ہوئے ہیں۔ اس پس منظر میں وقتاً فوقتاً پاکستان کے ماہرین اور ثقافتی ادارے انڈیا سے یہ مطالبہ بھی کرتے رہتے ہیں کہ سمبارا پاکستان کو لوٹائی جائے۔

کل تک ہندوستان جس مجسمے کو عورت کی آزادیوں اور بے باکی کی علامت  بنا کر پیش کرتا تھا آج اسی پر برقعہ ڈالا جا رہا ہے۔ سمبارا کو دریافت ہوئے سو سال ہو چکے ہیں یہ مجسمہ بھی کم و بیش چار ہزار سال پرانا ہو سکتا ہے لیکن برصغیر کے عوام کو سوچنا ہوگا کہ انہوں نے چار ہزار سال آگے کا سفر کیا ہے یا وہ مزید پیچھے چلے گئے ہیں کیونکہ سمبارا تو کوئی اور ہی کہانی سنا رہی ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ