معاہدہ اور ٹرمپ کا فرانسیسی محل کا انتخاب

امریکی صدر نے ایران سے معاہدے پر دستخط کے لیے پیرس کے قریب ایک تاریخی محل کا انتخاب ہی کیوں کیا؟

امریکی صدارتی لیموزین، جسے ’دی بیسٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، 17 جون 2026 کو پیرس کے جنوب مغرب میں واقع ویرسائی میں امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ منانے کے لیے ایک عشائیہ کے دوران ویرسائی محل کے باہر کھڑی ہے (اے ایف پی)

امن معاہدے پر دستخط کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور ثالث ملک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کا انتخاب کیا، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دستخط کے لیے چناؤ واشنگٹن نہیں بلکہ پیرس سے صرف بیس، پچیس کلومیٹر دور ایک تاریخی ویرسائی محل رہا۔

صدیوں پرانے فرانس کے بادشاہت والے دور کا یہ عظیم الشان 700 کمروں کا محل ہے۔ 

ٹرمپ نے اس موقعے پر، جب دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی تھی، اسی محل کا انتخاب کیوں کیا؟

کہنے کو تو کہا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ جی سیون کے اجلاس کی شرکت کے لیے فرانس میں تھے اور اسی محل میں عالمی رہنماؤں کی تقریب بھی تھی۔

شاید محض اتفاق تھا لیکن ٹرمپ تو دستخط کرنے کے بعد ہی امریکہ واپس چلے گئے اور اسی روز دستخط کی شرط بھی نہ تھی۔ امریکہ واپسی پر بھی تو دستخط ہو سکتے تھے۔

یا پھر ٹرمپ کا انتخاب ارادی تھا اور وہ تاریخ کو علامتی طور دہرانا چاہ رہے تھے؟

قصہ یوں ہے کہ اسی ویرسائی محل میں پہلی عالمی جنگ کے بعد جون 1919 میں جرمنی نے شکست پر امریکہ اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا۔ 

اس وقت کے امریکی صدر ووڈرو ولسن کے 14 نکات تھے جو جرمنی نے جنگ بندی کے لیے تسلیم کیے تھے۔ اتفاق کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے بھی نکات 14 ہی ہیں، اور معاہدے کا مہینہ بھی جون۔ 

ٹرمپ کی تاریخ پر کتنی دسترس ہے وہ تو سبھی جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ٹرمپ کے کسی ’ماگا‘ تحریک کے ’قابل‘ ساتھی نے انہیں ادھوری تاریخ پڑھا دی ہو۔

اگر ٹرمپ اپنے چاہنے والوں کے لیے ایران کو پہلی عالمی جنگ عظیم میں شکست خوردہ جرمنی کی تشبیہ دینا چاہتے ہیں تو یوں سمجھ لیجیے کہ الٹی ہو گئی سب تدبیریں۔ 

جرمنی کو سخت شرائط ماننا پڑی تھیں اور اگر ایران - امریکہ امن معاہدے یا ’مفاہمت کی یادداشت‘ کی شقوں پر نظر ڈالیں تو امریکہ کو ایران کی بیشتر شرائط تسلیم کرنی پڑی ہیں۔ 

امریکہ ایران کے لگ بھگ 100 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے، اس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کو ختم کرنے پر بھی رضا مند ہے۔ 

ایران کی تعمیرنو  کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ قائم کرنے کا بھی وعدہ ہے۔

جنگ سے پہلے ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے تھے، اب اسی سے معاہدہ کیا ہے۔

ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کے جڑ سے خاتمے کے خواہش مند تھے۔

ٹرمپ اب بیان دے رہے ہیں کہ ایران میزائل ٹیکنالوجی بھی رکھ سکتا ہے اور اسے نیوکلیئر پروگرام پرامن اور سویلین مقاصد کے لیے رکھنے کا حق حاصل ہے۔

لگ بھگ یہی ایران کا موقف تھا۔ یوں سمجھ لیجیے ٹرمپ کے جنگ سے قبل اور حالیہ بیانات میں دن رات جیسا فرق ہے۔ 

امن معاہدہ پاکستان کی مثالی ڈپلومیسی اور خطے کی طاقتوں بالخصوص قطر اور سعودی عرب کی کوششوں سے حاصل ہو سکا ہے۔

اس کے دو مراحل ہیں۔ پہلے مرحلہ میں معاہدے یہ مفاہمتی یاداشت کی منظوری کے بعد آبنائے ہرمز کو جہازوں کی آمد و رفت کیلیے بحال کرنا ہوگا-

یہ عمل پوری دنیا اور بالخصوص خلیجی ریاستوں کے لیے راحت کا باعث ہے۔

خلیجی ریاستوں نے اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی اور ایران کے مستقل حملوں کے باوجود مثالی تحمل کا مظاہرہ کیا۔ 

معاہدے کی رو سے فی الفور خطے میں تمام محاذوں بالشمول لبنان فوجی کارروائیوں کے خاتمہ کا نفاذ لازمی ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ اور جے ڈی وینس دونوں ہی لبنان کو جنگ بندی میں شامل کرنے سے انکاری رہے تھے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن اب لبنان میں جنگ بندی پر رضامندی، ٹرمپ اور وینس کا اسرائیل اور نتن یاہو کی جنگی پالیسیوں کے خلاف کھلم کھلا تنقید، امریکہ کی مشرق وسطی میں پالیسی کی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

اس جنگ کے دوران بیشتر امریکیوں کا بیانیہ رہا کہ یہ ان کی جنگ نہیں بلکہ امریکہ کو اسرائیل نے جنگ میں دھکیلا۔

شاید اس وجہ سے ان رہنماؤں کو اسرائیل کی تنقید کا اور بھی موقع ملا۔

ٹرمپ کو مڈٹرم الیکشن کا سامنا ہے اور وینس اگلے انتخابات میں امریکی صدر بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ 

اختلافات کا سلسلہ ٹرمپ کی نتن یاہو کے ساتھ غصے سے بھری فون کالز سے شروع ہوا۔

نتن یاہو نے جب معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے بیروت پر بمباری کی تو ٹرمپ نے سخت بیان داغ دیا کہ امریکہ کے سہارے کے بغیر اسرائیل کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔

اب اسرائیل پر تنقید میں وینس بھی شامل ہوگئے ہیں۔ حالیہ جنگ اور اس کے تناظر میں بدلتے مشرق وسطی میں اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کا بظاہر ٹکراؤ ہے۔ 

حالیہ جنگ کے خطے پر اثرات سے امریکہ کی عسکری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے بیشتر مغربی مبصرین اس جنگ کے نتائج اور معاہدے کو ایران کی ’سٹریٹیجک فتح‘ گردان رہے ہیں۔ 

لیکن ایران کو بھی شدید نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔ سیاسی اور عسکری رہنماؤں کی اموات، انفراسٹرکچر کی تباہیم کمزور معیشت اور گلوبل تنہائی سے فرار معاہدے کی پاسداری اور پڑوسی ممالک سے رواداری پر استوار نئے تعلقات اور سمجھوتوں پر منحصر ہوگی۔

آنے والے 60 دنوں میں نیوکلیئر پروگرام اور اقتصادی پابندیوں پر مذاکرات حساس اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوں گے۔

لبنان میں اسرائیل فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ امن معاہدہ سبوتاژ ہوسکے۔ 

اس معاہدے پر ٹرمپ نے دستخط کر کے اس کی اونرشپ لی ہے۔

تاہم ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے محتاط فاصلہ اپناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے معاہدے کی منظوری مسعود پزشکیان کی ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے مفادات کی ضمانت کی وجہ سے دی۔ 

یہ معاہدہ ابھی بھی کچے دھاگے سے بندھا ہوا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ایران کی ذمہ داری بھی ہے۔

جہاں مستقبل میں امریکہ کو اسرائیل کو لگام دینا ہوگی وہیں ایران کو ہر معاملے پر آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا بند کرنے کی دھمکیوں سے گریز کرنا ہوگا۔

اسی صورت میں باقاعدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات ممکن ہوسکتے ہیں۔

ایران میں ان دنوں جنگ میں مارے جانے والے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ملک گیر جنازے کے جلوس اور الوداعی تقریبات کی تیاریاں ہیں۔ 

ان تقریبات کا آغاز چار جولائی سے ہوگا جب امریکہ اپنی آزادی کی 250ویں سالگرہ منا رہا ہوگا۔ جنازے کو کربلا بھی لے جایا جائے گا اور تدفین مشہد میں ہو گی۔

شاید اسی تقریب میں ایرانی عوام مجتبیٰ خامنہ ای کو نئے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ دیکھ سکیں۔ امریکہ کے ساتھ امن کے بعد بدلتے ایران اور نئے سپریم لیڈر کی قیادت میں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر