ایران امریکہ مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ میں، پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی شریک

دونوں ملکوں کے درمیان تکنیکی سطح کی بات چیت کے لیے امریکی نائب صدر اور ایرانی نمائندے سوئس شہر برگن سٹاک پہنچ گئے۔

وزیر اعظم شہباز شریف 20 جون، 2026 کو سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے کے لیے طیارے میں سوار رہے ہیں (وزیر اعظم آفس)

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کی بات چیت میں شرکت کے لیے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے۔

مشرق وسطیٰ کی جنگ پر امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر جمعرات کو الیکٹرانک دستخطوں کے بعد آمنے سامنے مذاکرات کا نیا دور اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہو رہا ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے بعد مہینوں سے جاری رہنے والی اس کشیدگی کا خاتمہ ہو گیا جس نے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ 

معاہدے کے تحت امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے، امریکہ کی طرف سے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے۔

وزیر اعظم آفس کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق ’وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔‘

اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے ہمراہ ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات کے موقعے پر توقع کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود سے دوطرفہ ملاقاتیں کر سکتے ہیں تاکہ ’خطے میں مذاکرات اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا جا سکے۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

پاکستان کا سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا اعلان

اس سے قبل ہفتے کو پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہوں گے۔

دفتر خارجہ نے کہا ’امریکہ اور ایران کے نمائندے، پاکستان اور قطر کے ثالثوں کے ساتھ، ان مذاکرات میں حصہ لیں گے۔

’پاکستان اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے مقصد سے ثالث کے طور پر اس عمل میں سہولت فراہم کرنا جاری رکھے گا۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی مذاکرات کار امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے چند گھنٹے قبل ہفتے کو برگن سٹاک پہنچے۔

یورپ کے لیے پرواز میں سوار ہونے سے پہلے جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ وہ ’جوہری مسئلے پر پیش رفت کریں گے اور لبنان میں جنگ بندی کے مسئلے پر پیش رفت کریں گے۔

’یہ وہ دو بڑے معاملات ہیں جن پر مجھے لگتا ہے کہ ہم توجہ مرکوز کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکی مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور سٹیو وٹکوف پہلے سے ہی سوئٹزرلینڈ میں ’کچھ تکنیکی معاملات‘ سنبھال رہے ہیں اور انہوں نے اطلاع دی ہے کہ ’معاملات اچھے جا رہے ہیں۔‘

ایران اور امریکہ کے درمیان یہ فالو اپ مذاکرات جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں طے تھے لیکن اسرائیل کے لبنان پر جان لیوا حملے کرنے کی وجہ سے انہیں آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا۔

واشنگٹن نے جمعے کو لبنان میں دوبارہ جنگ بندی کا اعلان کیا جو ایران کے ساتھ اس کے ابتدائی معاہدے کی ایک شرط ہے۔

تاہم ہفتے کو اسرائیلی فوجیوں کی حزب اللہ کے ساتھ دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کا الزام لگایا۔

امریکہ کی جانب سے ’معاہدے کی خلاف ورزی‘ اور ’جنوبی لبنان میں صہیونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل اور بے دریغ خلاف ورزی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی مرکزی فوجی کمانڈ نے ہفتے کو کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔‘

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اعلان کے بعد کہا کہ اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے محفوظ راستہ ’برقرار‘ ہے اور امریکی افواج ’موجود اور چوکنا‘ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرمپ نے بعد میں متنبہ کیا کہ اگر مذاکرات کار معاہدہ مکمل کرنے میں ناکام رہے تو واشنگٹن ہرمز پر اپنے ٹول ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہوگا ’جب تک کہ وہ امریکہ کی طرف سے اور اس کے لیے عائد نہ کیے جائیں۔‘

ایرانی وفد کی سوئٹزرلینڈ آمد

ایرانی سرکاری میڈیا اور سوئس وزارت خارجہ نے بتایا کہ ایک ایرانی وفد ہفتے کی رات کو سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بتایا کہ اس وفد میں پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ وفد معاہدے کے تحت ’دوسرے فریق کے وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ‘ کرے گا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’بصورت دیگر پوری مفاہمت خطرے میں پڑ جائے گی۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا