’جیم بوائے‘: امریکی خواب کی قیمت کیا ہے؟

ایک پاکستانی اور ایک انڈین کی ملاقات، اور یہ سوال کہ آخر ہمیں اپنے مشترکہ مسائل کا احساس دلانے کے لیے کسی تیسرے جابر کی ضرورت کیوں پڑتی ہے، حالانکہ گھر کے بارے میں ہمارے تصورات ہمیشہ ایک جیسے رہے ہیں۔

فلم جیم بوائے کا پوسٹر (جیم بوآئے انسٹاگرام)

مئی 2025 میں برصغیر کی دو جوہری طاقتوں، انڈیا اور پاکستان، کے درمیان مختصر مگر خطرناک فوجی کشیدگی کے بعد حالات ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے تھے کہ بوسٹن میں ایک پاکستانی اور ایک انڈین کافی پر مل بیٹھے۔ دونوں کی دوستی کی بنیاد فلموں سے مشترکہ محبت بنی۔

اسی کافی نشست کے دوران، میں (سریم قدوائی) ایک پاکستانی تخلیق کار اور انڈین مصنف و ہدایت کار سری رام ایمانی نے ان کی نئی مختصر فلم ’جیم بوائے‘ (Jam Boy) پر گفتگو کی۔ یہ تحریر انہوں نے اسی ملاقات کی روشنی میں لکھی۔

سریم قدوائی ساپن نیوز کے لیے اس تحریر میں کہنا ہے کہ پہلی بار سری رام سے 2025 میں ان کی بوسٹن ایشین امریکن فلم فیسٹیول میں ملاقات ہوئی تھی اور بعد میں ایک نجی نمائش میں ان کی 22 منٹ دورانیے کی فلم دیکھی۔ یہ ایک فکری سائنس فکشن تمثیل ہے جو امریکہ کی نام نہاد ’ماڈل مائنارٹی‘ کا حصہ بننے کی نفسیاتی قیمت کو موضوع بناتی ہے۔

فلم کا عنوان ایک پریشان کن نو آبادیاتی داستان سے لیا گیا ہے۔ اس کہانی کے ایک ورژن کے مطابق برطانوی گولف کھیلنے والے انڈیا میں اپنے مقامی نوکر کے جسم پر جام مل دیتے تھے اور اسے قریب کھڑا کر دیتے تھے تاکہ مچھر اس کی طرف متوجہ ہوں اور وہ خود آرام سے رہ سکیں۔

چاہے یہ واقعہ حقیقی ہو یا محض ایک لوک کہانی، اس کی علامتی تصویر ایک ایسے نوآبادیاتی بندوبست کی عکاسی کرتی ہے جو آج بھی پہچانا جا سکتا ہے: ایک انسان کو غیر انسانی بنا دیا جاتا ہے تاکہ دوسرا آرام اور آسائش سے زندگی گزار سکے۔

اس ملاقات کی ظاہری صورت حال میں بھی ایک دلچسپ ستم ظریفی تھی۔ ہم دونوں کا رنگ ایک جیسا گندمی، بال سیاہ اور ہمارے نام ایک دوسرے کے قریب قریب معلوم ہوتے تھے۔ ہم بوسٹن کی غیر جانبدار زمین پر بیٹھے تھے، لیکن ایک ایسے سرحدی تنازع کے دو مخالف کناروں سے تعلق رکھتے تھے جو مسلسل کشیدگی کا شکار رہتا ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Sriram Emani (@sriramemani)

ہم اپنے اپنے ممالک کے جھگڑوں اور تنازعات سے بخوبی واقف تھے، لیکن اگر کوئی اجنبی ہماری گفتگو سن لیتا، تو شاید وہ ہمیں ایک دوسرے سے الگ نہ کر پاتا۔

یہی ستم ظریفی ’جیم بوائے‘ میں داخل ہونے کا بہترین راستہ بنتی ہے۔ سری رام کی فلم اس کشمکش کو نہایت موثر انداز میں بیان کرتی ہے جو مغرب میں مواقع حاصل کرنے اور اپنی ثقافتی یادداشت کو محفوظ رکھنے کے درمیان موجود ہے۔ یہ وہ چکی ہے جس کے دو پاٹوں میں تقریباً ہر جنوبی ایشیائی پستا ہے، خواہ وہ پاکستان سے تعلق رکھتا ہو یا انڈیا سے۔

ٹی وی مبصرین کے شور، بریکنگ نیوز اور کرکٹ کی رقابتوں سے ہٹ کر، ایک مشترکہ حقیقت موجود ہے: جب آپ امریکہ کی کارپوریٹ دنیا میں کامیابی کے خواب دیکھنے والے جنوبی ایشیائیوں کے ہجوم کا حصہ بنتے ہیں تو آپ کو خاندان سے قربت، روایات اور کئی قیمتی تعلقات قربان کرنے پڑتے ہیں۔

فلم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی تارک وطن بیانیے کو الٹ دیتی ہے۔ بیشتر کہانیاں سرحد عبور کرنے، ویزا حاصل کرنے اور بالآخر پراسرار ’امریکن ڈریم‘ تک پہنچنے پر ختم ہو جاتی ہیں۔

لیکن سری رام کا مرکزی کردار، جسے خود سری رام نے ادا کیا ہے اور جو ایک ناگزیر انڈین پروگرامر ہے، ایک مختلف خوف سے نبرد آزما ہے۔ وہ اپنے نئے وطن کے لیے اپنی افادیت ثابت کرنے کے بعد صرف ایک موقع چاہتا ہے: انڈیا واپس جانا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عام تارک وطن کہانیوں کے برعکس، ’جیم بوائے‘ ایک تصوراتی مستقبل کی دنیا تخلیق کرتی ہے۔ اس دنیا میں امریکہ کے اندر ایک مبہم کریڈٹ سسٹم نافذ ہے جو طے کرتا ہے کہ سری رام کام کر سکتا ہے یا نہیں، سفر کر سکتا ہے یا نہیں اور اپنی بیمار ماں سے ملنے جا سکتا ہے یا نہیں۔

وہ تمام قواعد کی پابندی کرتا ہے اس امید پر کہ اچھی کارکردگی ایک دن اسے آزادی دلا دے گی۔

لیکن جوں جوں اس کی افادیت بڑھتی جاتی ہے، اس سے مطالبات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ اس کی منزل مسلسل دور ہوتی چلی جاتی ہے اور آزادی ہر بار اس کے ہاتھ سے پھسل جاتی ہے۔

فلم کی اصل طاقت اس بات میں ہے کہ اسے زیادہ مبالغے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ اگرچہ فلم میں الگورتھمز، بیوروکریٹک رکاوٹوں اور غیر مرئی حدود کو نمایاں کیا گیا ہے، لیکن ہر تارک وطن اس گھٹن اور قید کے احساس کو فوراً پہچان لے گا، جو فلم کے ابتدائی مناظر میں ہی سامنے آ جاتا ہے، جب مرکزی کردار اپنے گھر جانے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔

موضوعاتی اعتبار سے ’جیم بوائے‘ ’ماڈل مائنارٹی‘ کے تصور کو چیلنج کرتی ہے اور مغرب میں تارک وطن کی کامیابی کو ایک نئے زاویے سے دیکھتی ہے۔ فلم کے مطابق یہ کامیابی اکثر اس بات کا ثبوت بن جاتی ہے کہ آپ نے موجودہ نظام کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے۔

تارک وطن کو اس وقت سراہا جاتا ہے جب وہ مفید، پیداواری اور خاموش ہو۔ نظام اختلاف رائے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ قبولیت کا احساس صرف اسی وقت دیا جاتا ہے جب انسان خود کو چھوٹا کر لے اور اپنے وجود کے کچھ حصوں کو پس پشت ڈال دے۔

اگر سری رام اور میری کافی شاپ میں ہونے والی گفتگو کو تصاویر اور موسیقی کی شکل دے دی جائے تو شاید نتیجہ خود ’جیم بوائے‘ جیسا ہی نکلے۔

آج کل امریکہ میں تارکین وطن کے بارے میں جو سماجی اور سیاسی فضا پائی جاتی ہے، وہ یہ تاثر دیتی ہے کہ ہم صرف موقع پرست لوگ ہیں جو اس ملک میں اپنی موجودگی مسلط کرنا چاہتے ہیں اور جن کا واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔

حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

تارکین وطن کے بارے میں میڈیا بیانیوں میں جو نئی اور اہم باریکی نظر انداز ہو جاتی ہے، اس کا تعلق مغرب پہنچنے کی مشکلات سے نہیں ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں مستقل بنیادوں پر بس جانے کے بعد بھی کیا آپ کو اس آزادی تک رسائی حاصل ہے کہ آپ آسانی سے اپنے آبائی وطن جا سکیں؟

چائے پر دوستوں کے ساتھ بیٹھکوں کی یاد، خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کی خواہش اور گھر واپس جانے کی تمنائیں اکثر جلد ہی ویزوں، شہریت کے مراحل اور نئی سفری پابندیوں پر بحث میں بدل جاتی ہیں۔

شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ’جیم بوائے‘ کو فلمی میلوں اور ناقدین کے حلقوں میں بھرپور پذیرائی ملی ہے۔ یہ فلم ایسے دور میں سامنے آئی ہے جب ’حوصلہ مند تارک وطن‘ کی پرانی داستان اب نئی دنیا کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔

سری رام کی فلم بے آرام، گھٹن زدہ اور جان بوجھ کر غیر حتمی رکھی گئی ہے، کیونکہ جس تجربے کو یہ بیان کرتی ہے، اس کا کوئی صاف اور آسان حل شاذونادر ہی ہوتا ہے۔

یہ ایک ایسی جدوجہد کو زبان دیتی ہے جس کی نمائندگی کم ہوتی ہے: اندر داخل ہونے کی جدوجہد نہیں، بلکہ اندر پہنچ جانے کے بعد اپنی پوری شناخت برقرار رکھنے کی جدوجہد۔

فلم کا عالمی پریمیئر رواں سال فروری میں ڈی سی انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول میں ہوا، جہاں اسے بہترین فلم کا ایوارڈ ملا۔

اپریل میں اسے بوسٹن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا گیا، جہاں اسے انڈی سول سپیشل ریکگنیشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

سری رام اور میرا رابطہ آج بھی برقرار ہے اور ہم اپنی اپنی تخلیقی کوششوں میں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں۔

ایک انڈین اور ایک پاکستانی کا اکٹھے بیٹھنا میرے ذہن میں آج بھی ایک مضبوط تصویر کی طرح موجود ہے۔ ہم ایک دوسرے کے مقابل ممالک کے نمائندے نہیں تھے بلکہ دو ایسے تخلیق کار تھے جو ایک ایسے ملک میں اپنی شناخت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے جو اکثر ہمارے درمیان موجود فرق کو مٹا کر ہمیں ایک ہی خانے میں رکھ دیتا ہے۔

’جیم بوائے‘ ہماری تارک وطن برادری کے لیے ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: آخر ہمیں اپنے مشترکہ مسائل کو دیکھنے کے لیے کسی تیسرے طاقتور جابر کی ضرورت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ اور آخر ایسی ہی صورت حال میں ہمیں یہ کیوں یاد آتا ہے کہ گھر کے بارے میں ہمارے تصورات، ہماری خواہشیں اور ہماری وابستگیاں دراصل ایک جیسی ہیں؟

سریم قدوائی ایک مارکیٹر، کہانی نویس اور فن کار ہیں، جو کراچی میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ 16 برس کی عمر میں تنقیدی سطح پر سراہ جانے والی فلم ’دی گلاس ورکر‘ کے لیے آرٹسٹ کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کرنے کے بعد انہوں نے اپنی تخلیقی سرگرمیوں کو امریکہ تک وسعت دی۔ وہ اس وقت فلم، کاروبار اور مارکیٹنگ کے سنگم پر کام کر رہے ہیں اور بوسٹن کے ایمرسن کالج میں بزنس آف کری ایٹو انٹرپرائزز کے 2027 کے بیچ کے طالب علم ہیں۔

بشکریہ ساپن نیوز بیب سائٹ

زیادہ پڑھی جانے والی فلم