سعودی وزارت خارجہ نے جمعے کو کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک ہنگامی اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کریں گے، جس میں حوثی حملوں کے تناظر میں مملکت کی حمایت کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی جانب متعدد حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
یہ سب وسیع تر مشرق وسطیٰ کی جنگ کا حصہ ہے، جو فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور جس کے ردعمل میں تہران نے اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی مفادات پر حملے کیے تھے۔
حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جبکہ سعودی عرب کے حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک دیا۔
سعودی عرب نے اس سے قبل مکہ مکرمہ، جدہ اور ینبع سمیت علاقوں کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے تھے۔ ینبع بحیرہ احمر پر سعودی عرب کی اہم تیل بندرگاہ ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) پر جاری بیان کے مطابق سعودی عرب کی اعلیٰ مذہبی اتھارٹی نے مملکت کے فوجیوں سے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہیں، جب تک کہ اس گروپ کو اقتدار سے بے دخل نہیں کر دیا جاتا۔
اسی دوران سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ملاقات کی، جس میں انہوں نے مکہ مکرمہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی، جبکہ سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی۔
#نيويورك | سمو وزير الخارجية الأمير #فيصل_بن_فرحان @FaisalbinFarhan يعقد اجتماعاً مع معالي نائب رئيس الوزراء وزير خارجية جمهورية باكستان الإسلامية السيد محمد إسحاق دار، ومعالي وزير خارجية الجمهورية التركية السيد هاكان فيدان، وذلك في إطار اتفاقية مكة للدفاع المشترك.… pic.twitter.com/FqSWVfY17z
— وزارة الخارجية (@KSAMOFA) September 25, 2026
بیان میں کہا گیا: ’وزرا نے تینوں ممالک کے چیف آف سٹاف کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کے انتظامات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور ہوگا۔‘
اس اجلاس کا اعلان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے جمعرات کو ایک امریکی ٹیلی ویژن انٹرویو میں ایران کو حوثیوں سے الگ رکھنے کی کوشش کے کچھ ہی دیر بعد کیا گیا۔
مسعود پزشکیان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے ایک روز بعد فاکس نیوز کے پروگرام ’سپیشل رپورٹ ود بریٹ بائر‘ میں کہا: ’حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔‘
پزشکیان کا انٹرویو اور خطاب امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں وقفے اور نیویارک میں سفارت کاری کی ایک مختصر کوشش کے دوران ہوا، جس میں قطر نے دونوں متحارب فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک تجویز پہنچائی ہے، جس کے تحت تہران کی شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی تجویز کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر سات دن کے اندر لڑائی ختم کردی جائیں گی، امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے گا، تہران کے منجمد اثاثے جاری کرے گا اور اس پر عائد تیل کی پابندیاں ختم کردے گا۔
عراقچی نے کہا: ’آبنائے ہرمز آخری روز دوبارہ کھول دی جائے گی‘ اور مزید کہا کہ اس کے بعد امریکہ کے ساتھ دیگر معاملات، جن میں ایران کا جوہری مسئلہ بھی شامل ہے، پر مذاکرات شروع ہوں گے۔
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے بدھ کو روئٹرز کو بتایا کہ تہران واشنگٹن کی جانب سے اپنی امن تجاویز کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس جنگ میں، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی تھی، ہزاروں افراد جان سے جا چکے ہیں اور عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ امریکہ اور ایران نے بڑی حد تک براہ راست لڑائی سے گریز کیا ہے، لیکن ایران کے اتحادی خطے میں سرگرم ہیں، حزب اللہ لبنان میں اسرائیل کا مقابلہ کر رہی ہے جبکہ حوثی یمن میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔
حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر کی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت کو مؤثر طور پر محدود کردیا ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی 20 فیصد تیل برآمدات اسی راستے سے ہوتی تھیں۔ عراق میں سرگرم ایران نواز ملیشیاؤں کے ایک حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی مشرقی-مغربی پائپ لائن بھی عارضی طور پر بند ہوگئی تھی۔
یمنی حکومت، ایرانی اور علاقائی ذرائع نے کہا ہے کہ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ حوثیوں کی پیش قدمی ایرانی اسلامی پاسداران انقلاب کی براہ راست رہنمائی میں کی گئی۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے محاذ پر کئی ماہ تک بڑی حد تک تعطل برقرار رہنے کے بعد واشنگٹن نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایرانی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے والی تیسرے ممالک کی کمپنیوں کو نشانہ بنا کر اپنی مالی پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ اس عمل کو ’ثانوی پابندیاں‘ کہا جاتا ہے۔
جمعرات کو نئی امریکی پابندیوں کے ردعمل میں متحدہ عرب امارات اور عمان سمیت پڑوسی ممالک نے ایرانی ایئرلائنز پر پابندی عائد کر دی۔ یہ امریکی پالیسی میں اس تبدیلی کا پہلا بڑا اثر ہے، جس کے تحت ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی تیسرے ممالک کی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اگر پروازوں پر پابندی برقرار رہتی ہے تو اس سے ایران کی تنہائی مزید گہری ہوسکتی ہے اور ملک میں جاری معاشی بحران بدتر ہوسکتا ہے، جہاں سمندر میں ایرانی بندرگاہوں کو پہلے ہی امریکی ناکہ بندی کا سامنا ہے۔