بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عوام کو جدید، محفوظ اور کم خرچ سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے انٹر سٹی ’جناح پیپلز ٹرین‘ منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور وزیر ریلوے حنیف عباسی نے منگل کو کوئٹہ میں پیپلز ٹرین سروس کا افتتاح کر دیا۔
حکومت بلوچستان کے مطابق اس منصوبے سے کوئٹہ اور گردونواح کے شہریوں کو ریلوے کے ذریعے باقاعدہ سفری سہولت میسر آئے گی۔
جناح پیپلز ٹرین — کوئٹہ کے لیے جدید سفری سہولت
— Chief Minister's Office Balochistan (@CMOBalochistan) September 29, 2026
کچلاک سے سریاب ریلوے اسٹیشن تک 32 کلومیٹر طویل روٹ پر جناح پیپلز ٹرین سروس کا آغاز کیا گیا ہے۔
اس منصوبے میں:
7 اسٹیشنز شامل ہیں
2 نئے اسٹیشنز تعمیر کیے گئے ہیں
5 اسٹیشنز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے
ٹریک کو 32 کلومیٹر تک اپ… pic.twitter.com/AAeqvV5nb1
بلوچستان سے ملک کے دیگر شہروں کو جانے والی تین ٹرین سروسز سکیورٹی وجوہات کی بنا پر معطل ہیں۔ صرف ایک ٹرین جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے راولپنڈی تک چلائی جاتی ہے۔ جعفر ایکسپریس سروس بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کئی بار معطل رہتی ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق جناح پیپلز ٹرین کے لیے 32 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کا کام صرف 120 روز میں مکمل کیا گیا، جبکہ منصوبے پر تقریباً تین ارب روپے لاگت آئی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جناح پیپلز ٹرین کے روٹ پر 7 سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں کچلاک، بلیلی، شیخ ماندا، جی او آر، کوئٹہ، لوڑ کاریز اور سریاب شامل ہیں۔
ٹرین کے ذریعے کوئٹہ اور مضافاتی علاقوں کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کو متبادل اور نسبتاً کم خرچ سفری ذریعہ دستیاب ہوگا۔
منصوبے سے طلبہ، سرکاری و نجی اداروں کے ملازمین، کاروباری افراد اور روزمرہ سفر کرنے والے شہریوں سمیت بڑی تعداد میں مسافروں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
جناح پیپلز ٹرین نہ صرف شہریوں کی سفری مشکلات میں کمی لائے گی بلکہ کوئٹہ میں بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔
صوبائی حکومت نے ٹرین کا کرایہ سبسڈی ریٹ پر 50 روپے رکھا ہے، جبکہ معذور افراد اور سینیئر سٹیزنز کو مفت سفری سہولت فراہم کی گئی ہے۔