جے یو آئی: ایک طرف آزادی مارچ تو سندھ میں پی ٹی آئی کی حمایت کیوں؟

جے یو آئی (ف) سندھ کے ایک ضمنی الیکشن میں پی پی پی کے خلاف گرینڈ ڈیموکریٹک ایلائنس کے امیدوار کے ساتھ کھڑی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی اس اتحاد کا حصہ ہے۔

حلقہ پی ایس 11 میں ضمنی الیکشن کے حوالے سے جے یو آئی(ف) کی مرکزی قیادت نے صوبائی رہنماؤں کے فیصلوں کی حمایت کی ہے(اے ایف پی)

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مرکزی قیادت وفاق میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو'آزادی مارچ' کرنے جا رہی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ عمران خان وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑ کر نئے انتخابات کی راہ ہموار کریں، مگر مولانا فضل الرحمان کی جماعت سندھ کے ایک ضمنی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف گرینڈ ڈیموکریٹک ایلائنس کے امیدوار کے ساتھ کھڑی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی اس اتحاد کا حصہ ہے۔

جے یو آئی(ف)۔ سندھ لاڑکانہ میں سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 11 پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں پی پی پی کے مدمقابل جی ڈی اے کے امیدوار معظم علی عباسی کی حمایت کررہی ہے۔

2018 کے عام انتخابات میں پی پی پی کے اس مضبوط گڑھ پر جی ڈی اے کے معظم علی عباسی نے پی پی پی کی امیدوار اور سینیئر لیڈر نثار کھوڑو کی بیٹی ندا کھوڑو کو تاریخی شکست دی تھی۔

الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق، معظم عباسی نے 32 ہزار 178 جبکہ ندا کھوڑو نے 21ہزار 811 ووٹ حاصل کیے تھے۔

اگست 2019 میں سپریم کورٹ نے انتخابی عذرداری کیس سنتے ہوئے معظم علی عباسی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے ساتھ ساتھ حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا۔

اس حلقے پر ضمنی انتخاب جمعرات 17 اکتوبر کو ہونے جارہے ہیں اور پی پی پی نے بلاول ہاؤس کراچی کے ملازم جمیل سومرو کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ اس حلقے پر ضمنی الیکشن کے دوران کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

معظم علی اسے حلقے پر عام انتخاب میں جیت چکے ہیں، جبکہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پولیٹیکل سیکریٹری جمیل سومرو کسی بھی الیکشن میں پہلی بار حصہ لے رہے ہیں۔

واضع رہے جولائی 2019 میں سندھ کے ضلع گھوٹکی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 205 پر ضمنی انتخاب میں جے یو آئی(ف) نے پی پی پی کے امیدوار سردار محمد بخش خان مہر کی حمایت کی تھی، لیکن اس بار پی ایس 11 لاڑکانہ پر جی ڈی اے، جس کا حصہ پی ٹی آئی بھی ہے، حمایت کررہی ہے۔

جے یو آئی (ف) کی جانب سےجی ڈی اے امیدوار کی حمایت پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگاراور سندھ ٹی وی کے اینکر پرسن فیاض نائچ نے کہا پی ایس 11 لاڑکانہ، جے یو آئی (ف)۔ سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو کے گھر کا حلقہ ہے، جہاں انھوں نے ہمیشہ پی پی پی مخالف سیاست کی اور وہ پی پی پی امیدوار کی حمایت کرکے اپنی ساکھ کو نقصان نہیں پہچانا چاہتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سوال پر فیاض نائچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا گھوٹکی کے ضمنی الیکشن کے دوران جے یو آئی(ف) نے پی پی پی امیدوار کی حمایت اس لیے کی تھی کیوں کہ اس سیٹ پر جے یو آئی کا اپنا ووٹ بینک نہیں تھا جبکہ لاڑکانہ میں عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ 200 پر جہاں سے بلاول بھٹو زرداری 84 ہزارسے زائدد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، وہاں راشد محمود سومرو نے 50 ہزار سے زائد ووٹ لیے تو اس صورت میں وہ پی پی پی مخالف امیدوار کی ہی حمایت کریں گے۔

'جے یو آئی(ف)، آٹھ اضلاع پر مشتمل شمالی سندھ میں پی پی پی کے بعد دوسرے نمبر پر بڑی سیاسی قوت ہے اور سومرو خاندان کا اپنا بھی کافی اثر و رسوخ ہے، لہذا جے یو آئی(ف) کی مرکزی قیادت شمالی سندھ میں کسی سیاسی فیصلے پر راشد محمود سومرو کی مکمل حمایت کرتی ہے۔'

تجزیہ نگار اور اینکرپرسن منظور شیخ کے مطابق تمام سیاسی پارٹیوں کی صوبائی قیادت مقامی طور پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتی ہے اور ان کی مرکزی قیادت اس فیصلے کی حمایت کرتی ہے، اس سیٹ پر جے یو آئی(ف) کی مرکزی قیادت نے صوبائی قیادت ی حمایت کی ہے۔

پی ایس 11 لاڑکانہ کے لیے عام طور پر کہا جاتا ہےکہ اگر پی پی پی اس سیٹ پر کسی کھمبے کو بھی اپنا امیدوار نامزد کرتی تھی تو وہ بھی جیت جاتا ،مگر عام انتخابات میں اپنے مضبوط گڑھ اور گھر کی سیٹ پرندا کھوڑو کی تاریخی شکست کے بعد پی پی پی قیادت ضمنی انتخاب میں حد سے زیادہ سنجیدہ ہوگئی ہے۔

پہلی بار پی پی پی قیادت کو اس سیٹ پر الیکشن مہم چلانی پڑ رہی ہے، جس کے لیے نہ صرف آصفہ بھٹو بلکہ بلاول بھی ریلیاں نکال چکے ہیں۔

ان ریلیوں کے بعد الیکشن کمیشن نےبلاول بھٹو، وزیراعلی ٰسندھ سید مراد علی شاہ، نثار کھوڑو، صوبائی وزرا ناصر شاہ، سہیل انور سیال، مکیش چاؤلہ اور ایم این اے خورشید جونیجو کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس جاری کردیا۔

اس الیکشن کی دلچسپ بات یہ کہ جی ڈی اے کے امیدوار معظم علی عباسی ’اماں ڈاکٹر ‘کے نام سے مشہور اور بینظیر بھٹو کی قریبی ساتھی اور1973 سے 1977 تک قومی اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی سپیکر بیگم اشرف عباسی کے پوتے ہیں۔

پیپلزپارٹی ورکرز کے چیئرمین ڈاکٹر صفدر عباسی اور پی پی پی کے سابقہ رہنما اور پی پی پی مخالف لاڑکانہ عوامی اتحاد بنانے والے منور عباسی کی والدہ بیگم اشرف عباسی، بینظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکریٹری ناہید خان کی ساس تھیں اور وہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں 1988 سے 1990 تک قومی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر بھی رہیں۔

اس الیکشن میں بینظیر بھٹو کی قریبی ساتھی بیگم اشرف عباسی کا پوتا اور ناہید خان کا بھتیجا، بلاول بھٹو کے امیدوار کے مدمقابل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست