کامیاب جوان: ’قرضوں کے لیے دفاتر کے چکر نہیں کاٹنا پڑیں گے‘

حکومتی اہلکاروں کے مطابق کامیاب جوان پروگرام کے تحت دستیاب قرضوں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ قرضے خواجہ سرا بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو  کامیاب جوان پروگرام کا افتتاح کیا (پی ٹی آئی ٹوئٹر)  

اگر آپ پاکستانی ہیں، جوان ہیں، اور بے روزگار ہیں، تو آپ وزیر اعظم عمران خان کے پاکستانی نوجوانوں کو بااختیار بنانے سے متعلق پروگرام ’کامیاب جوان‘ سے استفادہ اٹھا کر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف حکومت نے پاکستانی نوجوانوں کو روزگاراور عملی زندگی میں کامیابی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے  ’کامیاب جوان‘ کے نام سے پروگرام شروع کیا ہے جس کا افتاح وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کی شام کیا۔ اس سے چند گھنٹے قبل اس پروگرام کی ویب سائٹ (yes.kamyabjawan.gov.pk) بھی لانچ کر دی گئی۔ اس پروگرام کے لیے حکومت نے سو ارب روپے مختص کیے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق ایک کروڑ نوکریوں کی فراہمی سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے وعدے کے پیش نظر کامیاب جوان کے ذیل میں یوتھ انٹر پر نیورشپ سکیم (YES) شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جس کا بنیادی تصور ’ہنر سے کاروبار تک‘ ہے۔

کامیاب جوان پروگرام سے منسلک سینئیر حکومتی اہلکاروں کا کہنا تھا: ’ان قرضوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے حصول کے لیے درخواست دہندہ کو مختلف دفاتر کے چکر نہیں کاٹنا پڑیں گے بلکہ ویب سائٹ پرموجود ایک نہایت ہی آسان فارم پر کرنا ہو گا۔ جس میں ذاتی معلومات کے علاوہ قرضے کی رقم سے شروع ہونے والے مجوزہ کاروبار یا روزگار کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ ‘

انہوں نے بتایا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت دستیاب قرضوں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ قرضے خواجہ سرا بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

کامیاب جوان کا پہلا فیز 2022 تک جاری رہے گا  اور اس کے لیے کئی ملکی، غیر ملکی اور بین الاقوامی ادارے اور دوست ممالک امداد فراہم کر رہے ہیں۔

قرضہ کس عمر تک کے لوگ لے سکتے ہیں؟

15 سے 29 سال تک کے نوجوان اس سکیم کے تحت حکومت سے قرضہ لے سکیں گے۔

اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق جوان اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنی عمر کے ایسے حصے میں ہو جب وہ لازمی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر سکے اور زندگی کا پہلا روزگار(کاروبار یا نوکری) شروع کر سکے۔

اس معیار کے تحت بین الاقوامی ادارہ 15 سے 24 سال عمر کے شخص (مرد یا خاتون) کو جوان کے زمرے میں گنتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ ہی کے ترقی سے متعلق ذیلی ادارے یو این ڈی پی کا جوانوں سے متعلق معیار تھوڑا سا مختلف ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یو این ڈی پی 15سے 29سال کے خواتین و حضرات کو جوانوں کی فہرست میں شمار کرتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری طور پر جوانوں کی تعریف کے لیے یو این ڈی پی کی عمر کی حدوں کو استعمال کیا جاتا ہے یعنی 15سے 29 سال عمر کا ہر پاکستانی جوان کہلائے گا۔

پاکستان کا شمار دنیا کے جوان ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال کی عمر سے کم افراد پر مشتمل ہےجبکہ 29 فیصد پاکستانیوں کی عمریں 15 اور 30 سال کے درمیان ہیں۔یوں سرکاری معیار کے مطابق تقریباً ساڑھے چھ کروڑ پاکستانی جوانوں کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔

ماہرین جوانوں کی اتنی بڑی تعداد کو کسی بھی ملک کے لیے ایک اثاثہ قرار دیتے ہیں جو اس ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں قلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حکومت کے مطابق جوانوں کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی کے پیش نظر پاکستان میں جوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے کامیاب جوان پروگرام کی داغ بیل ڈالی گئی۔

تین قسم کے قرض

کامیاب جوان پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق ملک کے جوانوں کو تین قسم کے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔

1۔ پہلی قسم میں ایک لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضے شامل ہیں جو وزیر اعظم کےاعلان کے مطابق ملک کے 45 اضلاع میں کمزور طبقات کو فراہم کیے جائیں گے۔

ان قرضوں کے حصول کے لیے دیہی علاقوں کے جوانوں کو ترجیح دی جائے گی۔

2۔ دوسری قسم کے قرضوں کو مائیکرو لونز کہا گیا ہے۔ جو ایک سے پانچ لاکھ روپے تک کے ہوں گے۔ اور ان قرضوں کے حصول کے لیے سکیورٹی جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

شروعات کے روزگار کے لیے فراہم کیے جانے والے ان قرضوں پر سبسڈی دستیاب ہو گی۔

3۔ قرضوں کی تیسری قسم میں پانچ سے پچاس لاکھ روپے تک کی رقم دستیاب ہو گی جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔

کامیاب جوان کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مجموعی طور پر دس لاکھ نوجوان قرضوں کی اس سکیم سے مستفید ہو سکیں گے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ قرضے فراہم کرنے کا واحد اور بنیادی اصول میرٹ ہو گا۔

کامیاب جوان کا مستقبل

کامیاب جوان پروگرام کے تحت دوسری کئی سکیمیں بھی شروع کی جائیں گی جن میں مندرجہ ذیل اہم ہیں۔

1۔ گرین یوتھ موومنٹ:پروگرام کی ویب سائٹ کے مطابق گرین یوتھ موومنٹ کامیاب جوان کے بڑے اقدامات میں شامل ہے۔جس کے تحت ماحولیاتی اور آب و ہوا کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے جدید ماحولیاتی حل تلاش کرنے کے لیے جوانوں کو چھوٹی گرانٹس فراہم کی جائیں گی۔

2۔ نیشنل انٹرنشپ پروگرام: ویب سائٹ کے مطابق اس پروگرام کا مقصد جوانوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ نوکریاں حاصل کر سکیں یا کاروبار شروع کر سکیں اور اس مقصد کے لیے جوانوں کو انٹرنشپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بتایا:’ اس سلسلے میں بڑے بڑے صنعت کاروں سے بات ہو گئی ہے۔ اور جوانوں کو ملک کی بڑے بڑے کارخانوں اور فیکٹریوں میں انٹرنشپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔‘

3۔ سٹارٹ اپ پاکستان پروگرام: اس پروگرام کے تحت نئے فارغ التحصیل ہونے والے یا ٹریننگ حاصل کرنے والے جوانوں کو تربیت دی جائے گی اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس پروگرام میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو بھی شامل کیا جائے گا۔

4۔ یوتھ انگیجمنٹ پلیٹ فارم: اس سکیم کے تحت جوانوں کو مشغول رکھنے، اور ان کو مشاورت اور رہنمائی فراہم کرنے کے لیے تمام ذرائع بروئے کار کائے جائیں گے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے نیشنل یوتھ ڈیویلپمنٹ فاونڈیشن کے قیام کا ذکر کیا۔

5۔ ہنر مند جوان پروگرام: اس پروگرام کے تحت جوانوں کو ہنر  کی تعلیم کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ  اس پروگرام کے تحت دس ارب روپے کے خرچے سے ملک کے طول و عرض میں سمارٹ لیباریٹریز قائم کی جائیں گی جو ایک لاکھ نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں رہتے ہوئے ڈسٹنٹ لرننگ (فاصلاتی تعلیم) کے ذریعے مختلف قسم کے ہنر فراہم کریں گے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پانچ سو لیبارٹریاں دینی مدارس میں بھی قائم کی جائیں گی۔

ان لیباریٹریوں میں ہنر سکھانے کے لیے دو ہزار اساتذہ کو بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل