مذاکرات ہوں گے لیکن استعفے پر بات نہیں ہو سکتی: پرویز خٹک

جمعیت علما اسلام (ف) کے اسلام آباد کی جانب کیے جانے والے آزادی مارچ کے حوالے سے حکومتی جماعت تحریک انصاف نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطے بڑھا رہی ہے۔

پرویز خٹک نے خبردار کیا کہ آزادی مارچ والے اگر عدالتی فیصلے کے خلاف جائیں گے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی (اے ایف پی)

جمعیت علما اسلام (ف) کے اسلام آباد کی جانب کیے جانے والے آزادی مارچ کے حوالے سے حکومتی جماعت تحریک انصاف نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطے بڑھا رہی ہے۔

اسی سلسلے میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے وفد نے ایم کیو ایم (پاکستان) کے وفد سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ ’ہمارے دھرنے اور اپوزیشن کے ممکنہ دھرنے میں بہت فرق ہے، ہمارا مطالبہ تھا کہ چار حلقے کھولے جائیں۔ ہم اپنے مطالبات کے لیے پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن سمیت ہر فورم پر گئے لیکن تمام دروازے بند تھے جس کے بعد ہمیں دھرنہ دینا پڑا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے فیصلوں کے مطابق اپوزیشن کو احتجاج کا حق ہے۔

جمعیت علما اسلام کی جانب سے وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے پر وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کے استعفے پر بات نہیں ہوسکتی اگر اپوزیشن کا کوئی اور مطالبہ ہے تو وہ سامنے لایا جائے۔‘

پرویز خٹک نے خبردار کیا کہ آزادی مارچ والے اگر عدالتی فیصلے کے خلاف جائیں گے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ کل اپوزیشن کی کمیٹی سے ملاقات میں مسئلہ حل ہوجائے گا۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر حالات اچھے ہوں اور ماحول خوشگوار ہوا تو احتجاج کرنے والوں کو کھانا بھی دیں گے۔ عدالت کا فیصلہ ہے کہ احتجاج ہو لیکن عوام کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہییں۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ ’تحریک انصاف کے دھرنےکے دوران ہم نے عدالت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔‘ انہوں نے جمعیت علما اسلام کے دھرنے کے حوالے سے کہا کہ ’احتجاج کرنے والوں کی میزبانی کے لیے تیار ہیں لیکن میزبانی ان کی کریں گے جو آئین کے مطابق چلیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو کہا ہے کہ کسی کو اس کے جمہوری حق سے محروم نہ کیا جائے۔ انہوں نے جمعیت علما اسلام سے بھی اپیل کی کہ احتجاج کرنے والے بھی کوشش کریں کہ ان کا احتجاج فساد کا باعث نہ بنے۔

ان کا کہنا تھا: ’احتجاج، مارچ اور دھرنا ان کا جمہوری حق ہے اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔‘

دوسری جانب سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’آزادی مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، جمعیت علما اسلام کا آزادی مارچ ہو کر رہے گا اور 31 اکتوبر کو ان کا قافلہ اسلام آباد میں داخل ہو گا۔‘

حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا، اپوزیشن کی رہبر کمیٹی حکومتی کمیٹی سے کل (جمعے کو) مذاکرات کرے گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سب اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں اور رہبر کمیٹی مشاورت سے حکومتی کمیٹی کو جواب دے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد وہاں ٹھہرنے کی مدت رہبر کمیٹی طے کرے گی۔

حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کو روکنے کے لیے خندقیں کھودنے اور کنٹینر کھڑے کرنے سے متعلق سوال پر سربراہ جے یو آئی ایف نے کہا کہ ’حکومت کی خندق ہمارے لیے ہموار زمین ہے اور کنٹینرز کو ہم اٹھا کر پھینک دیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ راستے بند نہیں کریں گے لیکن خفیہ طور پر دھمکیاں دی جا ری ہیں، لوگ پیدل اور خچروں پر آئیں گے۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمنٹ میں کمیٹی بنائی گئی تھی لیکن ابھی تک اس کمیٹی کے ٹی آو آرز تک نہیں بنائے گئے۔

سربراہ جے یو آئی ایف نے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد متفقہ فیصلہ ہوا کہ کوئی الیکشن ٹریبونل میں نہیں جائے گا، اُس وقت بھی حکومتی کمیٹی کے سربراہ بھی پرویز خٹک تھے، اس بار کیا نتیجہ نکلے گا اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے ہمت نہیں ہارنی ہے، پوری قوت کے ساتھ قوم کو سہارا دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو حق حکمرانی حاصل نہیں ہے، عوام کو آزادی مارچ سے امید ہے اور تمام طبقات اس مارچ میں شرکت کر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست