مسلم لیگ ن کی آزادی مارچ میں شرکت نہ ہونے کے برابر

ملٹری انٹیلیجنس کے ایک افسر نے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق 60 سے 70 ہزار کارکن آزادی مارچ میں شریک ہیں لیکن اس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکن نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انصار الاسلام کے ایک ذمہ دار سلیم خان کے مطابق سات ہزار رضاکاروں کی باوردی ڈیوٹی مارچ کی سکیورٹی کے لیے لگائی گئی ہے (اے ایف پی)

سربراہ جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں رات گئے آزادی مارچ لاہور پہنچا اور شرکا مینار پاکستان آزادی چوک سمیت مختلف علاقوں میں پھیل گئے، رات گزاری اور صبح سویرے ہی ناشتہ کے بعد گاڑیاں کھڑی کر کے آزادی چوک پہنچنا شروع ہوگئے۔

آزادی چوک کے آس پاس بڑی تعداد میں چھوٹی بڑی گاڑیاں موجود تھیں جن پر شرکا کے کپڑوں کے بیگ اور بستر بھی لدے تھے۔ بیشتر شرکا نے گاڑیوں کی چھتوں کو ہی بیڈ بنا کر رات گزار لی۔

داتا دربار سے بتی چوک تک آزادی مارچ کے شرکا ہی نظر آ رہے تھے، یہ افراد مقامی لوگوں سے حلیوں کے لحاظ سے مختلف تھے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی تبلیغی اجتماع منعقد ہو رہا ہو۔  بہت بڑی تعداد میں کارکن گھومتے پھرتے رہے اور دوپہر دو بجے کے قریب آزادی چوک میں جمع ہو گئے۔ جے یو آئی ایف کی زیلی تنظیم انصار الاسلام کے کارکن خاکی وردیوں میں حصار بنائے ہوئے تھے، سٹیج اور شرکا کے گرد موجود تھے۔ 

انصار الاسلام کے ایک ذمہ دار سلیم خان کے مطابق سات ہزار رضاکاروں کی باوردی ڈیوٹی مارچ کی سکیورٹی کے لیے لگائی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسلم لیگ ن کی آزادی مارچ میں عدم دلچسپی

مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ایف کے بعض رہنماؤں کی جانب سے اطلاعات موصول ہو رہی تھیں کہ مولانا فضل الرحمان کی سروسز ہسپتال لاہور میں زیر اعلاج میاں نواز شریف سے ملاقات متوقع ہے اور شہباز شریف بھی ہسپتال میں اپنے بڑے بھائی سے ملنے گئے لیکن جب چار بجے کے قریب اچانک آزادی چوک میں شرکا سے خطاب کرنے مولانا فضل الرحمان سٹیج ہر پہنچے تو معلوم ہوا ان کی نواز شریف سے ملاقات نہیں ہوسکی اور نہ ہی شہباز شریف سمیت ن لیگ کا کوئی رہنما سٹیج پر خطاب کے لیے آئےگا۔

تاہم ن لیگی کارکنوں کی جانب سے جلسہ میں تو شرکت نظر نہ آئی البتہ رات لاہور آمد پر ن لیگ نے چوبرجی چوک سمیت پانچ مقامات پر آزادی مارچ کا استقبال ضرور کیا لیکن اس میں شرکت نہیں کی۔

مولانا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ان کے ساتھ ہیں البتہ آزادی مارچ میں شریک نہ ہونے کی وجہ ان کی مجبوریاں ہیں، بہر حال ہم انہیں آزادی مارچ میں شریک ہی سمجھتے ہیں۔ واضح رہے صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کی جانب سے آزادی مارچ کا خود استقبال کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم مسلم لیگ ن کی قیادت اسلام آباد میں 31 اکتوبرکو جلسہ میں شرکت کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

آزادی مارچ کے شرکا کا عزم اور روانگی

آزادی مارچ کے شرکا اپنی قیادت پر بااعتماد اور کافی پر عزم نظر آئے۔ جیکب آباد سے آئے عبدالحفیظ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کئی دن کا سامان ساتھ لے کر آئے ہیں، انہیں مولانا کی قیادت پر بھر پور اعتماد ہے اور ان کی کال پر جب تک وہ کہیں گے اسلام آباد سے جانے والے نہیں۔ کھانے ہینے کا انتظام ہوا تو ٹھیک ورنہ خود بندوبست کر لیں گے۔

اسی طرح بلوچستان سے آنے والے نور احمد سومرو نے کہا کہ حکومت نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے، ناموس رسالت کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، آسیہ بی بی کو رہا کر دیا، ہم جہاد کے لیے نکلے ہیں حکومت کے خلاف تحریک کو جہاد سمجھ کر گھر سے نکلے ہیں اور حکومت گرا کر ہی گھر جائیں گے۔

انہوں نے کہا اپنے ملک کا نظام ٹھیک کرنے کی جدوجہد ہر شہری کا فرض ہے اب ملک مییں تبدیلی لاکر ہی دم لیں گے۔

بلوچستان کے شہر ژوب سے تعلق رکھنے والے مدرسہ کے استاد نورا خان نے کہا مدرسہ کے بچوں کو آزادی مارچ میں لانے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ پارٹی کارکنوں یا مدارس کے اساتذہ کو بھی مجبور نہیں کیا گیا۔ ’ہم ژوب سے چار سو کارکن آئے ہیں ہمیں گاڑیاں جماعت کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔ ہم عمران خان کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کا جذبہ لہ لر نکلے ہیں، نواز شریف، زرداری، بلاول یا مریم نوز وزیر اعظم قبول ہیں لیکن موجودہ حکومت ناکام ہوچکی اسے ہٹانا ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ پہلی بار لاہور آئے ہیں اور اسلام آباد بھی پہلی بار جا رہے ہیں لاہور میں ترقیاتی کام دیکھ کر خوشی ہے جس کا کریڈٹ نواز شریف کو جاتا ہے۔

جلسہ ختم ہونے پر مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگیا۔ مارچ میں بہت بڑی تعداد میں کارکن شریک تھے گاڑیوں کی بھی بڑی تعداد تھی، بسوں کے اندر اور چھتوں پر کارکن سوار تھے۔

سیف سٹی اتھارٹی لاہور کے مطابق 2370 گاڑیاں جبکہ اندازہ لگایا کہ آزادی مارچ میں 33 سے 34 ہزار افراد شریک ہیں۔

ملٹری انٹیلیجنس کے ایک افسر نے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق 60 سے 70 ہزار کارکن آزادی مارچ میں شریک ہیں لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے کارکن نہ ہونے کے برابر شریک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور میں اتنی بڑی تعداد میں موجود جمعیت علما اسلام کے کارکنوں نے کوئی بدنظمی نہیں پھیلائی بلکہ منظم نظر آئے۔

پہلے کے لانگ مارچ اور آزادی مارچ کے مقابلہ میں اس آزادی مارچ میں شریک افراد کی تعداد کافی زیادہ تھی سیاسی جماعتوں کے جتنے مارچ دیکھنے میں آئے ان میں جتنے باریش کارکن دکھائی دیتے تھے ان میں اتنا تناسب شیو کرنے والوں کا تھا۔ گاڑیوں کی غیر معمولی تعداد کے باوجود منظم رش نظر آیا۔

جمعیت علما اسلام کے رہنماٰؤں کے مطابق آزادی مارچ جی ٹی روڑ سے اسلام آباد جائے اور گجرانوالہ، گجرات، جہلم میں استقبال کا اہتمام ن لیگ کی جانب سے کیا جا رہا ہے جبکہ گوجر خان میں رات قیام کے بعد 31 اکتوبر کو دن کی روشنی میں اسلام آباد داخل ہوں گے۔

آزادی مارچ کے شرکا کی تیاریوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف جلسہ کے لیے نہیں بلکہ قیام کے لیے جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست