دہلی ’گیس چیمبر‘ بن گیا

گذشتہ تین دن سے فضا میں موجود شدید آلودگی کے باعث نئی دہلی میں پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان۔

دہلی پر سموگ کے گہرے اثرات اس تصویر سے عیاں ہیں (اے ایف پی)

گذشتہ تین دن سے فضا میں موجود شدید آلودگی کے باعث نئی دہلی میں پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا۔

حکام نے پانچ نومبر تک تمام سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سپریم کورٹ کے تعینات کردہ پینل کا کہنا ہے کہ سموگ کی وجہ سے ’تمام شہریوں خاص طور پر بچوں کی صحت پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

پینل کی جانب سے ایمرجنسی کے اعلان کے ساتھ شہر میں تمام تعمیراتی منصوبوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

شہر کے وزیر اعلیٰ ارویند کیجریوال نے پہلے ہی نجی گاڑیوں کے سڑکوں پر نکلنے کے ’جفت طاق‘ کی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے جو چار نومبر سے لاگو ہوگی۔

انہیں اس حوالے سے ہنگامی اقدامات اٹھانا پڑے ہیں کیونکہ جمعے کو شہر کے کئی مقامات پر فضائی معیار کوالٹی انڈیکس یعنی اے کیو انڈیکس کے پوائنٹس 500 سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

اے کیو آئی انڈیکس پر صفر سے 50 کے درمیان پوائنٹس ’بہتر‘، 400 سے 500 کے درمیان پوائنٹس ’خطرناک‘ جبکہ 500 سے زائد پوائنٹس’شدید خطرناک ایمرجنسی‘ قرار دیے گئے ہیں۔

سکولوں کو کلاسیں معطل کرنے اور کھلے علاقوں میں کی جانے والی تمام سرگرمیاں روکنے کا حکم ملا ہے۔

آج صبح کجریوال نے شہریوں میں 50 لاکھ فری ماسک تقسیم کرنے کے منصوبے کا سکول کے بچوں سے افتتاح کیا۔ انہوں نے پڑوسی ریاستوں میں زرعی باقیات کے جلائے جانے کو اس بحران کی وجہ قرار دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’دہلی گیس چیمبر میں تبدیل ہو چکا ہے جس کی وجہ ہمسایہ ریاستوں میں فصلوں کی باقیات جلائے جانا ہے، خود کو اس زہریلی ہوا سے بچانا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق سموگ کو دیوالی پر پھوڑے جانے والے پٹاخوں کا نتیجہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ دیوالی ہندوؤں کا ایک تہوار ہے جو گذشتہ اتوار کو منایا گیا۔

کارخانوں، بجلی گھروں اور صنعتی یونٹ علاقے بھی فضا میں زہریلی ہوا پھیلانے میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔

ان مسائل پر سیاست دان کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور کے مطابق دہلی میں پائی جانے والی آلودگی دارالحکومت کے اندر ہی 75 کلو میٹر کے قطر میں پیدا ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹریفک کنٹرول کے’جفت طاق‘ کے اقدامات اٹھانے میں کافی تاخیر ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آلودگی سے نمٹنے کے لیے ’سب سے اہم وقت‘ 29 اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے اور آلودگی کم کرنے کے لیے ہونے والے اقدامات کو بعد میں لینے سے ’کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘

دہلی میں موسم مستحکم ہونے کے بعد ٹھنڈ ہونے اور ہوا نہ چلنے کے باعث سموگ اگلے تین مہینے کے لیے یہاں موجود ہوگی۔

میٹرولوجسٹس کے مطابق دسمبر 30 سے 5 جنوری کے درمیان اس میں اضافہ متوقع ہے۔

ایشیا کے دوسرے بڑے شہروں کے برعکس دہلی کے شہریوں نے ماسک کی عادت اپنانے میں کافی دیر کر دی ہے۔ ایسا شدید فضائی آلودگی کے حوالے سے مصروف ترین دنوں میں بھی دیکھنے میں آیا۔

دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں کئی شہر بھارت میں ہیں جس کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جمعرات کو دہلی میں اتوار کے ٹی ٹوئنٹی میچ کی تیاری کرنے والی بنگلہ دیشی ٹیم کو دھند کے باعث فیس ماسک پہنے ٹریننگ کرتے دیکھا گیا۔

بھارت کی کرکٹ گورننگ باڈی بی سی سی آئی کے سربراہ سارو گنگولی کا کہنا ہے: ’بی سی سی آئی مستقبل میں موسم سرما کے دوران شمالی بھارت میں میچ رکھنے کے فیصلے پر ’حقیقت پسندانہ ‘ سوچ اپنائے گا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا