عثمان کا ’کمبل‘ اور طلال کی ’شائستگی‘

ایک طرف اسلام آباد میں جے یو آئی ف کا احتجاج جاری ہے تو دوسری جانب ٹی وی پر بیٹھ کر کوئی پختون کی بات کر رہا ہے تو کوئی یونیورسٹی اور مدرسے کو آمنے سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر طلال چوہدری اور عثمان ڈار دونوں ہی ٹرینڈ کر رہے ہیں (فیس بک)

وفاقی دارالحکومت ایک بار پھر جلسہ، دھرنا یا آزادی مارچ کی زد میں ہے، شہر اقتدار میں اس وقت یا تو ’آزادی مارچ‘ کے شرکا ہیں یا پھر کنٹینرز، لیکن کسی کو کوئی فکر نہیں۔ بجائے زندگی کو معمول پر لانے کی اپوزیشن اور حکومتی ارکان کی جانب سے نسلی، مذہبی اور ذاتی حملے کیے جا رہے ہیں۔

کوئی پختون کی بات کر رہا ہے تو کوئی یونیورسٹی اور مدرسے کو آمنے سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف جو خود اس وقت جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنے میں تو ناکام دکھائی دے رہی ہے اور انھوں نے اب چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت کو آگے کر دیا ہے لیکن حکمراں جماعت کے ارکان ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر مذاق اڑانے میں پیش پیش ہیں۔

گذشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے رکن اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے یوتھ افیئرز عثمان ڈار نے ’آزادی مارچ‘ کے مستقبل کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہا کہ ’اکثر گلی محلوں میں پٹھان آتے ہیں اور پانچ سو روپے والا کمبل پچاس روپے میں دے کر چلے جاتے ہیں، ان کے ساتھ بھی وہی ہوگا اینڈ میں۔‘

عثمان ڈار اپنے اس تبصرے پر مطمئن تھے اور بات کو آگے بڑھانے لگے جس پر اسی پروگرام میں موجود دیگر شرکا نے انہیں روکا اور ان کے الفاظ کی مذمت کی، جس پر عثمان ڈار نے اپنے الفاظ واپس تو نہیں لیے لیکن اس میں سے پٹھان کا لفظ نکال دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ اپنے اس تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں لیکن وہ اس میں اکیلے نہیں بلکہ یہاں بھی اپوزیشن جماعت ان کے ساتھ ہے، اور طلال چوہدری بھی ساتھ میں ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

طلال چوہدری جن کی جماعت کی نمائندگی تو اس آزادی مارچ میں نہ ہونے کے برابر ہے لیکن وہ ٹی وی شوز میں خوب دفاع کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کے ٹرینڈ کرنے کی وجہ  بھی ان کا کچھ ایسا ہی بیان ہے۔ انھوں نے جے یو آئی ف کی آزادی مارچ کے شرکا کے حوالے سے کہا کہ ’یہ کیا بات ہے کہ یونیورسٹی کے طالبعلم تو ناچ ناچ کر تبدیلی مانگ سکتے ہیں لیکن جس نے داڑھی رکھی ہے، حافظ قرآن ہے وہ تبدیلی نہیں مانگ سکتا۔‘

اس پر پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کی رکن کنول شوزب نے ان سے مزید ’مذہب کارڈ‘ نہ کھیلنے کا کہا۔ بس پھر کیا تھا طلال چوہدری نے کنول شوزب کے بارے میں ذومعنی بات کرنا شروع کر دی اور اس طرح دونوں جانب سے ذاتی جملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ تو ’شیم آن عثمان ڈار‘ ہے اور دوسرا ’طلال‘ کے نام سے چل رہا ہے۔

ایاز یوسفزئی نے پاکستان تحریک انصاف کے پختون ارکان مراد سعید، شوکت یوسفزئی، علی محمد اور شہریار آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ عثمان ڈار کے اس نسل پرستانہ بیان کی مذمت کریں گے، کسی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ پشتونوں کے نمائندہ ہیں۔‘

صحافی سلیم صافی نے اس حوالے سے ٹویٹ میں کہا: ’عثمان ڈار کی وضاحت کے بعد ان کا پیچھا چھوڑ دینا چاہیے۔ وہ بے چارہ عمران خان کو پختون سمجھتا ہے جو کمبل بیچنے والوں کی طرح کروڑوں نوکریوں اور کروڑوں گھروں کی تعمیر کے دعوے سےحکومت شروع کر چکےتھے لیکن مرغی انڈوں پر آگئے۔ ایسا تو کمبل بیچنے والے بھی نہیں کرتے جیسا عثمان ڈار کے لیڈر نے کیا۔‘

ایک اور صارف نے کچھ یوں کہا: ’عثمان ڈار نے وہی بات کہی ہے جو عام طور پر لوگ کرتے ہیں یہاں تک کہ خود میرے کئی پشتون دوستوں نے بھی کہی ہے تو اس میں قیامت کیوں آگئی ہے؟‘

دوسری جانب طلال چوہدری کے بارے میں سوشل میڈیا پر صارفین انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’آپ طلال چوہدری سے اور کیا امید کر سکتے ہیں۔‘

اعظم جمیل نے ٹویٹ کی کہ ’اگر آپ طلال چوہدری سے شائستگی کی امید رکھتے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے ان کی نہیں۔‘

جاوید اقبال کہتے ہیں کہ ’طلال چوہدری تو اپنی ہی برادری کے لیے باعث ذلت ہیں۔ ٹی وی چینلز انہیں ٹاک شوز پر نہ مدعو کیا کریں۔‘

علی رضا نامی صارف نے کہا کہ ’آج طلال چوہدری کے لیے بڑا دن ہے۔ پی ٹی آئی کی رکن پارلیمان کنول شوزب کی تضحیک کرنے پر مریم صفدر کی جانب سے ان کی پذیرائی کی جائے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ