خیراتی فنڈ کا ’سیاسی استعمال‘، صدر ٹرمپ کو ہرجانہ کا حکم

نیویارک کے ایک جج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سابق خیراتی ادارے کے فنڈ کو سیاسی اور کاروباری مفادات کے لیے استعمال کرنے پر 20 لاکھ ڈالر کا ہرجانہ ادا کریں۔

صدر ٹرمپ پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے رفاہی فاؤنڈیش کا فنڈ مقدمات نمٹانے، اپنے ہوٹلوں کی تشہیر اور ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کیا (اے ایف پی)

نیویارک کی ایک جج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سابق خیراتی ادارے کے فنڈ کو سیاسی اور کاروباری مفادات کے لیے استعمال کرنے پر 20 لاکھ ڈالر کا ہرجانہ ادا کریں۔ اس عدالتی حکم سے امریکی صدر کی قانونی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

نیویارک سپریم کورٹ کی جسٹس سالیئن سکارپیولا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ غیر منافع بخش اداروں کے ایک گروپ کو ہرجانے کی رقم ادا کریں تاکہ ریاست کی ڈیموکریٹ اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کی طرف سے دائر کیا گیا دیوانی مقدمہ نمٹایا جا سکے۔

جیمز نے گذشتہ جون میں ٹرمپ فاؤنڈیشن کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ فاؤنڈیشن ’مسلسل قانونی شکنی‘ میں ملوث رہی ہے جس میں 2016 کے صدارتی الیکشن میں فاؤنڈیشن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان نامناسب رابطہ بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر میں ذاتی رفاہی ادارہ بند کرنے پر اتفاق کر لیا تھا لیکن استغاثہ نے اس کی پروا کیے بغیر مقدمہ آگے بڑھا دیا اور ہرجانے میں لاکھوں ڈالر کی ادائیگی کی درخواست کی۔

جیمز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عدالتی فیصلہ رفاہی ادارے اثاثوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی ہماری کوششوں کی فتح ہے اور ان افراد کا محاسبہ ہوا ہے جو خیراتی رقوم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقدمے میں صدر ٹرمپ پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے رفاہی فاؤنڈیش کا فنڈ مقدمات نمٹانے، اپنے ہوٹلوں کی تشہیر اور ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کیا جس میں ایک پورٹریٹ کی خریداری بھی شامل ہے جسے ان کے گولف کلبوں میں سے ایک میں لگایا گیا۔

مقدمہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2016 کے آغاز میں جب ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی مہم چلا رہے تھے تو انہوں نے ایک تقریب کے اخراجات اپنی فاؤنڈیشن کے لیے فنڈ اکھٹے کرنے کی مہم قرار دے کر ادا کیے، حالانکہ یہ تقریب ان کی صدارتی مہم کا حصہ تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر ٹرمپ نے جیمز پر الزام لگایا ہے کہ وہ ’اس تصفیے کو سیاسی مقاصد کے لیے غلط طور پر پیش کر رہی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ ہرجانے کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ محض خیراتی اداروں کو عطیہ دینا ہے۔

امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا کہ’ٹرمپ فاؤنڈیشن کی جانب سے اکٹھے کیے گئے ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا ایک ایک پیسہ عظیم رفاہی مقاصد میں استعمال ہوا اور اخراجات نہ ہونے کے برابر تھے۔‘

’یہ چار برس سے کی جانے والی سیاسی ہراسانی ہے۔ انہیں جو کچھ ملا وہ خیرات دینے کا ناقابل یقین حد تک متاثر کن عمل ہے اور کچھ چھوٹی موٹی تکنیکی خلاف ورزیاں ہیں جیسا کہ فاؤنڈیشن کے بورڈ کے اجلاس کی کارروائی کی تفصیل کا ریکارڈ نہ رکھنا۔‘

اس ہفتے عدالتی فیصلے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے نیویارک کے حلقے میں تیسرا قانونی دھچکہ لگا ہے۔

پیر کو کورٹ آف اپیلز نے فیصلہ دیا تھا کہ وہ آٹھ سال کے دوران جمع کروائے اپنے ٹیکس گوشوارے جاری کریں جس کا انہوں نے صدارتی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ آڈٹ کے بعد گوشوارے عام کریں گے لیکن انہوں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا ہے۔

امریکی میگزین کی کالم نگار ای جین کیرول نے پیر ہی کو امریکی صدر پر ریپ کا الزام لگاتے ہوئے ان پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کر دیا تھا۔ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے کالم نگار پر اپنے خلاف الزام تراشی کا الزام لگایا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ