منجن فروشوں کے کارنامے

نہ کوئی قومی پلان ہے نہ کوئی سمت۔ قومی معاملات کو ایسے چلایا جا رہا ہے کہ اناڑی کوچوان بھی سمجھے کہ وہ بڑا ماہر ہے۔ اس طرح کے مال سے کیا دکان چلے گی؟

اب چونکہ اس منجن کو بنانے والے طاقتور بھی ہیں اور قانون سے بالا بھی لہذا اس کو پھیلانے کا بندوبست ہر گلی کے ہر نکڑ پر کیا ہوا ہے(اے ایف پی)

منجن فروشی ایک قومی ہدف بن چکا ہے جس کے حصول کے لیے ہر وقت سر توڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔ منجن ہر زمانے میں بکتے رہے ہیں مگر جو بازار آج کل گرم ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

قوم کو اس فریب میں مبتلا کیا ہوا ہے کہ پاکستان کی سمت اب مکمل طور پر درست ہونے کو ہے اور ایک پیج پر رہنے والی جوڑی ملک کو منجھدار سے نکالنے کے آخری مراحل سے گزر رہی ہے۔ بس ایک دو سال کی بات ہے حالات ایسے پلٹا کھائیں گے کہ سختی کبھی اس خطے کا رخ نہیں کرے گی۔ اب چونکہ اس منجن کو بنانے والے طاقتور بھی ہیں اور قانون سے بالا بھی لہذا اس کو پھیلانے کا بندوبست ہر گلی کے ہر نکڑ پر کیا ہوا ہے۔

بکاو تجزیہ نگار ہر جگہ پر یہ سودا بیچتے نظر آ رہے ہیں۔ مجبور و بےکس میڈیا مالکان ان تجزیہ نگاروں کو متوازن اور مثبت صحافت کے نام پر اپنی دکانوں کو بچانے کے لیے ہر روز پروگرامز میں جگہ بھی دیتے ہیں۔ اس منجن کو قومی مفاد کے پیکٹوں میں بند کر کے ہر گھر میں بھیجنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ آخری انتخابات میں کی گئی سیاسی واردات کو صحیح ثابت کیا جائے۔ اس کے علاوہ اب چونکہ یہ خوفناک سانحہ معاشی و معاشرتی حقائق کو جنم دے چکا ہے۔ لہذا اس کے احتساب کے امکان کو ختم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ قوم کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکنے کا بندوبست کیا جائے۔اس کی وجہ سے آپ ہر وقت یہ راگنی سن رہے ہیں کہ اللہ کے فضل کا آغاز ہو گیا ہے، مایوس نہیں ہونا۔

مگر ایک ناکام سیاسی تجربے کی نشانہ بنی ہوئی قوم بےوقوف تو ضرور ہے مگر دماغ سے عاری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن بازاروں میں یہ منجن  بک رہا ہے، اور جہاں اس کے ٹھیلے لگے ہوئے ہیں، انہی بازاروں میں کھڑے ہو کر عوام ہر روز کھلے عام بددعائیں اور گالیاں بھی دے رہے ہیں۔ عوام کے کوسنے اور واویلے اخبارات اور ٹی وی چینلز میں کرتارپور کی خبروں کے نیچے دب جانے کے باوجود اس کثیر تعدار سے روزانہ سامنے آ رہے ہیں کہ اب ان سے نظر ہٹانا اب ممکن نہیں۔

کون سا محکمہ ہے کہ جو افراتفری سے دوچار نہیں؟ کون سا طبقہ ہے جو سراپا احتجاج نہیں؟ کون سی دکان ہے جس میں کھڑے گاہک  یا مالک اس نحوست کا ذکر نہیں کرتے جس نے ان کی زندگیوں کو گرفت میں لیا ہوا ہے؟ رحیم، زلفی، انیل اور نیلم کے علاوہ کون سے ایسے لوگ ہیں جو خوشیوں کی بارات میں شریک ہو کر ٹھمکے لگا کر ناچ رہے ہوں؟ کوئی ایک نام تو بتائیں؟ کوئی کارنامہ تو گنوائں؟ سیاسی طور پر اس سے ابتر صورت حال شاید اس سے پہلے کم ہی دیکھنے میں آئی ہو گی۔

تحریک انصاف سمیت ہر سیاسی جماعت کی چولیں ڈھیلی کر دی گئیں ہیں اور اس کارنامے کو بڑے فخر سے بیان کیا جا رہا ہے۔ ایسے کہ جیسے بی جے پی اور کانگریس کی ایسی کی تیسی کر دی گئی ہو۔ ہر سیاسی کھڑکی پر چوکیدار متعین کر کے ایک ایسی سیاسی گھٹن پیدا کر دی گئی ہے جس میں کوئی مثبت، بامقصد اور باشعور سوچ جنم نہیں لے سکتی۔ اس ماحول میں پلنے والی نسل اگلے دس سال میں جس افراتفری اور انتشار کا شکار ہو گی اس کو سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خود اپنے الفاظ میں اپنے کارناموں پر اپنے ہاتھ سے منتخب شدہ ہرکاروں کے ذریعے مبارک بادیں دینے والے منجن فروش اس وقت اپنی اولادوں سمیت ملک سے باہر آرام سے زندگی گزار رہے ہوں گے جب ان کے بنائے ہوئی عنفریت ہماری گردنوں پر سوار ہو کر تباہی مچا رہی ہو گی۔ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ جب ہو رہا ہوتا ہے تو اس وقت کوئی ماننے کو تیار نہیں ہوتا۔ اس وقت آج کی طرح منجن بیچ کر قوم کو دھوکہ دینے کی کوشش جاری رہتی ہے۔ یہ کہنا یا سوچنا کہ پاکستان میں کوئی انقلابی قسم کے آثار واضح ہو رہے ہیں ایک خوفناک بے وقوفی سے کم نہیں۔ تبدیلی انتظامی، سیاسی، قانونی، معاشرتی اور معاشی ڈھانچوں کی پیداوار ہوتی ہے۔

روس کا انقلاب لانے والے شیخی خورے اور بڑ بولے نہیں تھے، ان کو انقلاب کی تھیوری کا بھی پتہ تھا اور نئے ادارے بنانے کی قدرت بھی حاصل تھی۔ وہ نظریاتی محاز پر لڑنے اور جیتنے کے اہل بھی تھے اور چند سالوں میں نئی فوج کھڑی کرنے  کی اہلیت کے بھی حامل تھے۔ فرانس میں بادشاہت کا تختہ الٹنے والے بھی ایسے ہی تھے۔ امریکہ میں بڑی تبدیلیاں لانے والے صدور کی صفات ایسی ہی تھیں۔ زمانہ حال میں ایتھوپیا سے لے کر کینیڈا اور نیوزی لینڈ تک جس ملک میں قابل فخر تبدیلیاں ہوئی ہیں وہاں کی قیادت کے اوصاف بھی کچھ ایسے ہی ہیں جو پچھلے ادوار کے انقلابیوں کے تھے۔ یعنی اپنے مقاصد میں واضح مثبت سوچ رکھنے والے باشعور اور باعمل لوگ۔ ایسے نہیں جیسے ہمارے ہاں ہیں۔ گالم گلوچ اور بکواسیات کے پی ایچ ڈی، کاہل، عقلی بےڈھنگے جن کا ایک ہی سیاسی کارنامہ اور کام ہے کہ کس طرح دوسروں کو ذلیل کر کے خود کو دلیر ثابت کیا جائے۔

نہ کوئی قومی پلان ہے نہ کوئی سمت۔ قومی معاملات کو ایسے چلایا جا رہا ہے کہ اناڑی کوچوان بھی سمجھے کہ وہ بڑا ماہر ہے۔ اس طرح کے مال سے کیا دکان چلے گی؟ اس خمیر سے کیا روشنی کے پتلے بن پائیں گے؟ اب کوئی کہے گا کہ چلیں کوشش تو ہو رہی ہے۔ کچھ نہ کچھ تو ہو ہی جائے گا۔ کچھ نہ کچھ تو کچھ نہ کیے بغیر بھی ہو ہی جاتا ہے۔ اتنی بڑی معیشت کو تمام نام نہاد معیشت دانوں سے نجات دلوا کر مکمل آٹو پر چھوڑ دیں تو بھی لڑھکتے لڑھکتے 2.4 فی صد کی رفتار پر ترقی کر ہی لے گی یا شاید اس سے کہیں بہتر رفتار اپنا لے۔ ساڑھے 22 کروڑ عوام میں سے 11 کرکٹر پاکستان کرکٹ بورڈ کے بغیر بھی مل کر ایک آدھ سریز جیت ہی لیں گے۔ محلے والے اکھٹے ہو کر پولیس کے بغیر امن و امان قائم کر لیتے ہیں۔ عوام بندوقیں اٹھا لیں تو گھر کی حفاظت ہو جاتی ہے۔

یہ کون سے بڑے کارنامے ہیں؟ یہ کیا انقلاب ہے؟ یہ کون سی تبدیلی کا معیار ہے کہ اپنی بدترین کارکردگی کو قومی تمغوں سے نواز کر خود ہی شادیانے بجائے جائیں؟ یہ ملک چلانے کا کون سا انداز کے کہ ملک کے وزیر اعظم کو کابینہ کے وزراء کے قلم دانوں کا بھی علم نہ ہو؟ وہ ہر دوسرے روز اسٹیبلشمنٹ کے پٹرول پمپ سے ٹینکی بھروا کر چار گام چلنے پر مجبور ہو اور پٹرول ختم ہونے پر پھر رک جائے۔ ایک پیج والی جوڑی تین سال کام چلا لے گی اس کے بعد کیا ہو گا؟ ایک اور انتخابات کروانے والے آرمی چیف کو ملکی حالات کے پیش نظر اپنی ملازمت کے علاوہ پھر تین سال دینے ہوں گے تاکہ وہ اس حکومت کا بیڑہ پار لگائے؟ اس کے بعد کیا ہو گا؟ اور اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا پاکستان ایکسٹینشن سے چلے گا؟ 6 سال، 5 سال؟ 6 سال، 5 سال؟ پاکستان کے علاوہ اس طرح کون سا اور ملک ایسے چل رہاہے؟ کوئی ایک نام تو بتائیں؟

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ