مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کی پانچ غیریقینی باتیں

مولانا فضل الرحمٰن پچھلے 10 روز سے اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں، لیکن ان کے احتجاج سے متعلق بہت ہی چیزیں تاحال واضح نہیں۔

جمعیت علمائے اسلام ۔ ف کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن اپنے اتحادیوں کی ایک نہ سنتے ہوئے ’آزادی مارچ‘ اسلام آباد لے آئے اور پچھلے 10 روز سے پشاور موڑ کے قریب سیکٹر ایچ نائن میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

اس احتجاج کی بہت سی باتیں زباں زد عام ہیں لیکن بہت کچھ ابھی تک واضح بھی نہیں ہے۔ وہ کیا معاملات ہیں جن پر اب بھی ابہام ہے؟

احتجاج کب ختم ہوگا؟

مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد آمد کی تاریخ تو دی لیکن ان کا احتجاج ختم کب ہوگا وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا رہے۔

ان کا اصرار ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے استعفےٰ کے بعد وہ واپس لوٹ سکتے ہیں لیکن حکومت اس مطالبے پر بات کرنے کو تیار نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ آخری بات چیت دو روز قبل ہوئی تھی، جس کے بعد اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ اگر ان کا مطالبہ صرف استعفیٰ ہے تو مزید بات چیت کی ضرورت نہیں۔

ایسے میں ایک ڈیڈلاک موجود ہے اور وفاقی دارالحکومت کی اہم ترین شاہرائےِ کشمیر کی بندش سے ٹریفک کا نظام کسی حد تک متاثر تو ہے مگ اطراف کے علاقوں میں معمولات متاثر بھی ہیں۔

واپسی کا راستہ کیا ہوسکتا ہے؟

مولانا فضل الرحمٰن حکومت کی جانب سے متعدد پیش کشیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال رہے ہیں لیکن اگر وہ بغیر کچھ حاصل کیے دھرنا ختم کر کے گھر واپسی کا اعلان کرتے ہیں تو ان کی رہی سہی سیاسی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی۔ دوسری جانب اگر وہ دھرنے کو طول دیتے ہیں اور کوئی مقصد حاصل نہیں کر پاتے تو بھی ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے فی الحال ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ ان کے لیے کم سے کم قابل قبول بات کیا ہوگی۔

کیا مظاہرین ڈی چوک کا رخ کرسکتے ہیں؟

مولانا فضل الرحمٰن نے اب تک ریڈ زون میں ڈی چوک جانے کی کوئی خواہش ظاہر نہیں کی لیکن بطور ایک آپشن اسے مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا۔

انہوں نے اضافی طور پر پورے ملک کو مفلوج کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ اہم ریاستی ادارے فوج کے اب تک کے بیانات سے واضح ہے کہ وہ سیاسی انتشار کی حامی نہیں۔

شاید یہی مولانا فضل الرحمٰن کے قدم روکے ہوئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق شاید جے یو آئی کو اسی کا انتظار ہے۔

کیا مذہبی کارڈ استعمال ہو سکتا ہے؟

مولانا فضل الرحمان نے آئین میں شامل اسلامی دفعات کے تحفظ اور ان میں ترامیم روکنے سمیت سات مطالبات کا اعلان کر رکھا ہے۔

انہوں نے مارچ کے آغاز میں اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی لیکن شاید تنقید کے بعد دینی معاملات پر زیادہ بات اب تک نہیں کی۔ لیکن اس دھرنے کے دوران احمدیوں، ممتاز قادری کے ذکر سنے گئے ہیں اور سکھوں کے خلاف نعرہ بازی بھی ہوچکی ہے۔

سیاست میں صورت حال اور فوکس تبدیل ہوتے زیادہ وقت نہیں لگتا۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ۔ ن کا کردار؟

مارچ کے آغاز سے حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتیں اس احتجاج کے ساتھ ہیں یا نہیں، اس بارے میں ملے جلے اشارے دیتی رہیں۔

ان کی اعلان کردہ پالیسی مارچ میں شامل ہونے اور دھرنے سے دور رہنے کی ہے لیکن آزادی مارچ کے بارے میں اہم فیصلے کرنے والی سیاسی رہنماؤں پر مشتمل رہبر کمیٹی میں یہ سب جماعتیں شامل ہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ احتساب کے عمل سے گزرنے والی ان دو جماعتوں نے جمعیت علمائے اسلام کو آگے کیا ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست